آلو کی شاندار فصل مگر کسان پریشان؟ - Baithak News

آلو کی شاندار فصل مگر کسان پریشان؟

زراعت ملک کی معیشت میں اہم کردار اد اکر تی ہے ایک اندازے کے مطابق قومی آمدنی میں زراعت کا ۲۱ فیصد سے زیادہ حصہ ہے اور ملک کے 54فیصد لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ ہر حکومت کو اس بات کا احساس ہوتا ہے اور وہ زرعی شعبے کی ترقی اور خوشحالی کو معاشی منصوبہ بندی کا بنیادی ستون تصور کرتی ہے کیونکہ زراعت کو قومی معیشت میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لیے اسکے مسائل پر توجہ دینا اہم ہوتا ہے۔ اکثر فصلوں اور سبزیوں کی پیداور بہت بڑھی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ سبزیوں کے جلدی خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ہمارے ملک میں انہیں زیادہ دیر محفوظ رکھنے کے خاطر خواہ انتظام نہ ہونے سے ان کے ضائع ہونے اور کسان کو مالی نقصان کا احتمال ہو تا ہے۔
دیگر اہم فصلوں کی طرح آلو ایک اہم غذائی فصل ہے ۔ہمارےہاں اس کی سال میں تین فصلیں کاشت ہوتی ہیں۔آلو کی فصل دوسری فصلوں کی نسبت زیادہ منافع دینے والی فصل ہوتی ہے اور یہ تھوڑے عرصہ میں زیادہ پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس کا تعلق فصل پر اخراجات ،فروخت کے وقت اس کی قیمت اور پیداوار میں کمی یا زیادتی کے نتیجے پر منحصر ہے۔ اخراجات میں معیاری بیج ،کھادیں،پانی ،زرعی ادویات اور مزدوری شامل ہوتے ہیں۔جو فی ایکڑ آمدنی کا تعین کرتے ہیں۔ملک میں گندم پر دباو کم کرنے کے لیے آلو کی پیداوار میں اضافہ ازحد ضروری سمجھا جاتا ہے یہ واحد فصل ہے جو پہاڑوں سے لیکر سمند ر تک کاشت ہوتی ہے۔ اور اسے کیش کراپ کہا جاتا ہے۔
اس مرتبہ پاکستان میں آلو کی شاندار فصل نے کسانوں کے ساتھ ساتھ پالیسی سازوں کی نیند حرام کردی ہے کیونکہ فصل توبہت شاندار رہی اور پیداوار جو گذشتہ برس پانچ اعشاریہ چھ ملین ٹن تھی بڑھ کر آٹھ اعشاریہ پانچ ملین ٹن متوقع ہے اور حکومت پنجاب کا دعویٰ ہے کی گذشتہ دس برسوں میں یہ سب سے زیادہ پیداوار کا ریکارڈ ہوگا۔خدا کرے ایسا ہی ہو کسانوں کا خیال ہے کہ اب ایکسپورٹ کے بر وقت فیصلے کی ضرورت ہے۔ہر سال ملکی ضرورت سے زیادہ آلو کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے آلو کی فصل تیار ہوتے ہی ایکسپورٹرز مارکیٹ میں فعال ہو جاتے ہیں۔جس کے لیے حکومت پہلے سے تیاری رکھتی ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔اس وقت منڈیوں میں آلو23سے24 روپے تک فروخت ہو رہا ہے جس سے کسان کے خرچے بھی پورے نہیں ہورہے۔ کسانوں کا شکوہ ہے کہ انہیں فصل کے مناسب نرخ نہیں مل رہے جو کم از کم 35 روپے کلو تک ہونے چاہیں اگر یہی حال رہا تو وہ کمائے گا کہاں سے اور کھائے گا کہاں سے ؟یہ وقت ہے ہمارے پالیسی سازوں کے سوچنے اور بر وقت اقدامات کرنے کا تا کہ کسان کو مناسب نرخ دستیاب ہو سکیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں خوراک کے طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے ولی سبزی آلو ہی ہے اور دنیا کی مار کیٹوں میں ہر وقت اس کی ڈیمانڈ موجود رہتی ہے۔افغانستا ن اور ایران میں یہ پہلے سے بڑی مقدار میں ایکسپورٹ ہو رہا ہے۔کیونکہ اس مرتبہ ایکسپورٹ کے مقابلہ میں پیداوار بہت زیادہ ہے ا س لیے ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے نئی مارکیٹ کی تلاش ضروری ہو چکی ہے جہاں کم اخراجات سے یہ آلو ایکسپورٹ کیا جا سکے۔ یہی آج ہمارے پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ایکسپورٹ میں کرونہ کی وجہ سے بہت سی پوری دنیا کو مشکلات کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں اس وقت کنٹینرز کی دستیابی مشکل ہو چکی ہے اگر ہم ایکسپورٹ آرڈر لینے میں کامیاب ہوبھی جاتے ہیں تو ایکسپورٹ کرنا اتنا آسان نہ ہو گا البتہ مارچ میں جب کینو کی ایکسپورٹ کم ہوگی تو کنٹینرز دستیاب ہو سکیں گے۔اسی طرح بحری اور زمینی کرایوں میں اضافہ بھی بڑا مسئلہ ہے گذشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال کرائے بھی دوگنا سے بھی زیادہ ہوچکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ابھی بھی مارکیٹ میں گنجائش موجود ہے اور چین کی طرح کے کچھ دیگر مما لک بھی ہیں جہاں ہمارا آلولو فروخت ہو سکتا ہے لیکن اگر ہم صرف چین میں ہی ایکسپورٹ کر نے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔تجارت اور سرمایہ کاری کےلیے وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داﺅد کا دعویٰ ہے کہ اس بار ملک میں آلو کی فصل بمپر ہوئی ہے اور ان کے مطابق بد قسمتی سے اس وقت کرونہ اور مختلف پابندیوں کی وجہ سے ایکسپورٹ میں مسائل ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت ایکسپورٹرز کو مدد فراہم کر رہی ہے اور انہیں مختلف وسائل مہیا کریں گے جس سے یہ صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ممکنہ طور پر مارچ۔اپریل تک یہ صورتحال بہتر ہو جاے گی اور کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک اس لیے زیادہ سے زیادہ پیداوار اور ایکسپورٹ بڑھانا دونوں ہی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لیے دونوں پر بروقت توجہ اور اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔کسان ہمارے ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اگر کسان خوشحا ل ہو گا تو پورا ملک خوشحال ہو گا۔اس لیے تمام فصلوں کی پیداوار اور ایکسپورٹ کے لیے خصوصی منصوبہ بندی اور سسٹم بنانے کی از حد ضرورت ہے جس کی بدولت ہم بین الاقوامی مارکیٹ میں پہلے
سے ہی سودے طے کر نے کی پوزیشن میں آجائیں اور عین وقت پر پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ فصلوں کے غیر معمو لی اضافہ یا کسی وجہ سے غیر معمولی کمی کسان کی پریشانی کا باعث نہ بنے اور ہر فصل بروقت اور مناسب معاوضہ پر فروخت ہو سکے اور کاشت کے لیے اسکی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔جس کے لیے مناسب مارکیٹ انٹیلیجنس یعنی مقامی پیداوار کی صحیح صورتحال اور درست اعدادو شمار کی دستیابی بے حد ضروری ہے۔ وزیر اعظم کا ویژن ہے کہ زر مبادلہ بڑھانے کےلئے زیادہ سے زیادہ ایکسپورٹ بڑھائی جاے اور امپورٹس کو کم سے کم کیا جائے تاکہ ملک کی معیشت مضبوظ ہوسکے۔ ہمارے ملک کی اکثر ایکسپورٹس زرعی مصنوعات سے وابستہ ہیں اس لئے زراعت وہ اہم شعبہ ہے جس پر توجہ وقت کی سب سےاولین ترجیح ہے ۔موجود حکومت کی کسان دوست پالیسی کی بدولت ملک میں ریکارڈ فصلیں ہوئی ہیں اور کسانوں کو مناسب معاوضہ بھی ملا ہے لیکن کرونا کی تباہیوں کی وجہ سے کسان کے زرعی اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں کسانوں کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھنے لیے حکومت پنجاب اور پاسکو کو میدان میں آنا چاہیے تا کہ ایکسپوٹ ہونے تک کسانوں کو مناسب معاوضہ مل سکے۔جو آئندہ فصلوں کی زیادہ پیداوار کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کر ے گا۔اور ملکی زرعی شعبہ میں انقلاب کی نوید ہوگا .

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں