سائیکل ہم رفیق - Baithak News

سائیکل ہم رفیق

مہنگائی نے جہاں ہر فرد کو مسائل سے دوچار کر رکھا ہے وہاں قوت خرید ہر انسان کی پہنچ سے خاصی دور ہوتی چلی جا رہی ہے ۔خوراک ، لباس یا پھر سفری سہولیات ہر طرف آفت زدہ مہنگائی نے اپنے پنجے مضبوطی سے ثبت کر رکھے ہیں ۔چونکہ ہمارے ملک میں عوام کا زیادہ تر تعلق پٹرول ، ڈیزل کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے ان کو مسافتی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے ۔ڈیجیٹل سہولیات نے ہر ذی روح کو آسانیوں سے دوچار کر رکھا ہے ۔چنانچہ نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ جسمانی ورزش کا فقدان اور صبح تا رات گئے تک مسلسل معاشی جدوجہد نے جادوئی اثر قائم کر رکھا ہے ۔آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط نے بجلی اور پٹرول پر اپنے شدید اقدامات کا وہ سکہ جما دیا ہے جس کی مثال ماضی میں بھی کہیں نہیں ملتی ۔سیلزمین حضرات مہنگائی کی دلدل میں غوطہ زن ہونے کے باوجود اپنے اہل وعیال کیلئے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کیلئے اداروں کا ہر وہ ظلم برادشت کرنے پر مجبور ہیں جس سے کہیں روٹی کے لالے نہ پڑ جائیں۔
گذشتہ ادوار میں اگرچہ وسائل محدود تھے لیکن دلوں میں اُلفت شیرینی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔دُکھ اور تکلیف کی کسی بھی گھڑی میں سب اکٹھے ہو کر حوصلہ و ہمت کی دیوار بن جایا کرتے تھے ۔اس دور میں ہر گھرانے میں دو ،تین سائیکلیں ہر وقت موجود رہتی تھیں۔سائیکل اگرچہ انسان کا گہرا دوست اور سکول ہمجولی بھی رہا ہے ۔یہ اپنی مثال آپ ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کا خزانہ بھی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں جاپان، چین ، ڈنمارک، نیدرلینڈوغیرہ شامل ہیں شاپنگ کیلئے بہترین سواری کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ۔1418ءمیں اٹلی کے سائنسدان گویانہ فونٹانہ نے چار پہیوں پر مشتمل سائیکل ایجاد کیا ۔جو بعد میں ترقی کی منازل طے کرتا ہوا جدید سے جدید انداز کی طرف گامزن ہو کر آج بیس ہزارروپے کی قیمت خرید تک جا پہنچا ہے ۔چونکہ ہر فرد نے سائیکل کو فراموش کر کے موٹرسائیکل اور موٹر کار کی دوڑ میں شامل ہونے کی ٹھان لی ہے اور اس رفتار میں گاہے بگاہے تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔آلودگی پر مشتمل اس ماحول نے جہاں انسانی صحت کو شدید نقصانات سے دوچار کر رکھا ہے وہاں کلاس اے، بی ، سی اور ڈی کی تفریق نے بھی صحت پر کاری ضرب کا کام کیا ہے ۔چین جاپان جیسے ممالک میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی سائیکلنگ پر اپنا پورا اثر قائم کر رکھا ہے ۔گھر سے باہر شاپنگ کی صورت میں سائیکل سستا اور کارآمد رفیق کار ہے ۔ماضی میں مختلف برانڈ ز کے سائیکل مارکیٹس میں فروخت کئے جاتے تھے ۔سائیکل کے ساتھ لگی ٹوکری اور پشت کی جانب لگا کیرئیر شاپنگ کے بعد ہر قسم کا بوجھ برداشت کرنے کیلئے ہر لمحہ تیار رہتا تھا ۔چین کی تیار کردہ سبز رنگ پر مشتمل سائیکل جس کے فرنٹ پر آویزاں لائٹ اور دائیں طرف لگی گھنٹی اس کی وجاہت میں مثالی کردار کی حامل تھی۔
اس دور میں اگرچہ سائیکل پنکچرہونے کا خدشہ ہر دم موجود رہتا تھا لیکن جدید دور میں ٹیوب لیس سائیکل فراوانی کے ساتھ جاپان ، انڈیا، چین اور ڈنمارک میں ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں ۔سائیکل تیار کرنے والے انجینئرز نے ایسی ایجادات ممکن بنا دی ہیں جن میں پورٹیبل سائیکل جہاز یا ٹرین میں اپنے ساتھ بیگزمیں رکھا جاتا ہے۔متعلقہ جگہ پہنچنے کے بعد بجائے اس کے ٹیکسی کے انتظار میں قیمتی وقت ضائع کیا جائے بیگ سے اپنا ہمجولی نکالو اور کم سے کم وقت میں اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچ جائیں ۔یہ بھی درست ہے کہ ہمارے شہروں کی سڑکوں پر بے پناہ رش اور گندگی سے پُر ہونے کی بنا پر اگرچہ مسافت کے قابل نہیں ہیں لیکن سائیکل پر سوار مرد/خاتون تنگ گلیوں سے گزر کر بہت جلد منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں ۔ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے سکول ، کالج کے طلباءآج بھی سائیکل پر سواری کر کے زندگی کے خوب مزے لیتے ہیں ۔چونکہ پٹرول اس وقت مہنگائی کے بحرالکاہل میں اپنی جگہ بنانے کی جانب گامزن ہے اور اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پے درپے ریٹس کمی کی جانب منتقل ہونے کا خواب اب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا ۔سائیکل کو اپنا رفیق بنائیں لیکن چوروں کی نظروں سے محفوظ رہنے کیلئے تحفظ اقدامات سے ہرگز گریز نہ کریں ۔ یہ ہم سب کا وہ پیارا دوست ہے جو پاﺅں پاﺅں چلنے کے بعد پیارے والدین سب سے پہلے اسی دوست کو تحفہ کے طور پر بچوں کو مہیا کرتے ہیں ۔ہمارے پیارے دیس میں بے روزگار نوجوان اپنی بھوک کا سدباب کرنے کیلئے موٹرسائیکلوں پر فوڈ سروسز بہت کم ماہانہ اُجرت پر خدمات پیش کرتے دکھائی دیں گے۔ماضی میں یوں تو ڈاکیا سرخ رنگ کی سائیکل پر گھنٹی بجاتا ہم سب کی ڈاک لے کر حاضر ہوجاتا تھا ۔جدید ممالک میں نوجوان لڑکے ،لڑکیاں سائیکلوں پر فوڈ سروسز مہیا کرتے دکھائی دیں گے۔ لیکن یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہم ایک جملے سے بچنے کی پاداش میں احساس کمتری کا شکار ہیںکہ “لوگ کیا کہیں گے”خود کو مسائل میں مبتلا کر تے چلے جاتے ہیں ۔سائیکل کو رواج دیں جو ہم سب کا اچھا دوست اور اچھی صحت کا ضامن بھی ہے ۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں