اداریہ: قانون کے طالبعلموں کی جعلی رجسٹریشن اور زکریا یونیورسٹی میں کرپشن کیسز - Baithak News

اداریہ: قانون کے طالبعلموں کی جعلی رجسٹریشن اور زکریا یونیورسٹی میں کرپشن کیسز

ایل ایل بی پارٹ فرسٹ کے سالانہ امتحانات میں طالب علموں کی بوگس رجسٹریشن کے زریعے 6 کروڑ روپے کی کرپشن کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جبکہ ٹاپر لاءکالج ملتان، لیڈز یونیورسل لاءکالج ملتان سمیت 33 لاءکالجوں کا بہاءالدین زکریا یونیورسٹی سے الحاق نہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ روزنامہ” بیٹھک“ ملتان کے پاس ملتان، خانیوال اور ساہیوال کے 6 لاءکالجوں کے جن طلباءکی بوگس رجسٹریشن ہوئی ان کی فہرست بھی موجود ہے۔ اس کرپشن میں رجسٹراربہائ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان صہیب راشد، ایمپلائز یونین بی زیڈیو کا جنرل سیکرٹری مدثر مشتاق، ڈیلنگ کلرک طارق اعوان اور ٹاپر لائ کالج کا مالک ملک فلک شیر وٹو 33 غیرالحاق شدہ لاءکالجوں کے مالکان بھی ملوث بتائے جارہے ہیں۔ بی زیڈ یو ملتان ملازمین کی یونین کے صدر ملک صفدر اعوان اور ان کے ساتھی بھی اس جعل سازی اور کرپشن میں ملوث بتائے جارہے ہیں۔ جن افراد کو اس طرح کی مبینہ جعل سازی اور کرپشن کے عمل کا سرپرست بتایا جارہا ہے ان پر یونیورسٹی کے دیگر شعبوں کی رجسٹریشن برانچ میں بڑے پیمانے پہ جعل سازی اور کرپشن کرنے کے مبینہ ثبوت اور شواہد بھی ضامن رہے ہیں ۔ سب سے تشویش ناک امر یہ ہے کہ رجسٹرار یونیورسٹی صہیب راشد، ایمپلائز یونین کے عہدے داروں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کو ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی کی بھرپور اشیرباد حاصل ہے اور ان کے دباوکے سبب وائس چانسلر بی زیڈ یو ملتان پروفیسر ڈاکٹر اکبر منصور کنڈی اتنے بڑے پیمانے پہ ہونے والی کرپشن کے ذمہ داران کو معطل نہیں کرسکے ہیں ۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ سینڈیکیٹ کے سامنے یہ معاملہ رکھ دیا گیا ہے اور متعلقہ برانچوں سے ریکارڈ قبضے میں لیا گیا ہے جبکہ ملزمان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی جس کا شمار پاکستان کی چند اہم ترین جامعات میں ہوا کرتا تھا اپنے سابقہ معیار کو کھوچکا ہے اور یونیورسٹی میں بدانتظامی اور مالیاتی بے ضابطگیوں کی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ اس یونیورسٹی کے ایک سابق وائس چاسلر خواجہ علقمہ اور دیگر کئی ملازمین احتساب عدالت میں بدعنوانی کے درجنوں الزامات تحت بننے والے کیس کو بھگت رہے ہیں اور ان کی ہتھکڑی لگی تصویر جب اخبارات کی زینت بنی تو اہل ملتان کے سر شرم سے جھک گئے تھے۔ جن لاءکالجوں کے الحاق نہ ہونے اور بوگس رجسٹریشن کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے ہیں ان کے اکثر مالکان اور ایڈمنسٹریشن شعبہ تعلیم اور شعبہ قانون کے ممتاز ناموں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے ناموں کا اس کرپشن کیس میں نام آنا سول سوسائٹی کے کھوکھلے ہونے کی نشانی ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بوگس داخلے، بوگس طریقے سے پاس ہونے کا عمل محنتی اور اہل طلباءاور طالبات کی حوصلہ شکنی کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں حیرت اس امر پہ ہے کہ یونیورسٹی کے جن ملازمین اور اساتذہ اور افسران کے بارے میں کرپشن کے ٹھوس ثبوت اور شواہد ملے ہیں وہ کیسے ابھی تک اپنے عہدوں اور ملازمتوں پہ کام کررہے ہیں؟ ان کو فی الفور معطل کیوں نہیں کیا؟ ان کے بینک اکاو¿نٹس منجمد کیوں نہیں کیے گئے؟ ان ملازمین کے اثاثوں کی چھان بین ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے زریعے کیوں نہیں کرائی جارہی؟ چانسلر /گورنر پنجاب کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اس ایشو پرجائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بناتے جو مبینہ طور پہ کرپٹ مافیا کی جملہ کرپشن کا ثبوت نکال کر لاتی ۔ صرف ریکارڈ ضبط کرنے سے کیا بنے گا؟ ہماری پبلک یونیورسٹیوں میں مالی اور اخلاقی کرپشن کے پے درپے سیکنڈل سامنے آرہے ہیں۔ کرپٹ ملازمین اور اور انتہائی اہم عہدوں پہ بیٹھنے والے پروفیسر صاحبان ہماری جامعات کا مستقبل تباہ کرنے میں مشغول ہیں۔ان جیسی کالی بھیڑوں کے خلاف کسی دباو¿ میں ائے بغیر کاروائی بہت ضروری ہے

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں