اداریہ: سنٹرل کاٹن کمیٹی کے خاتمے کا ڈرافٹ۔حکومت پوزیشن واضح کرے - Baithak News

اداریہ: سنٹرل کاٹن کمیٹی کے خاتمے کا ڈرافٹ۔حکومت پوزیشن واضح کرے

روزنامہ ”بیٹھک“ ملتان میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے خاتمے کا ڈرافٹ وزیراعظم کو بھجوا دیا گیا ہے۔اپٹما نے تین ارب روپے کا کاٹن سیس دبانے کے بعد وزارت فوڈ سکیورٹی میں اثر ورسوخ استعمال کر کے 70 سال پرانے ادارے کو ختم کرنے کا مسودہ بنوا لیا۔ جس کی وجہ سے ہزاروں سائنس دانوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے، بتایا گیا ہے کہ 1948 ءسے کام کرنے والے ادارے سنٹرل کاٹن کمیٹی کو ختم کر کے پاکستان کاٹن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے نیا ادارہ بنانے کی تجویز تیار کی گئی ہے۔ ان تجاویز کی منظوری کے ساتھ ہی ٹیکسٹائل ملز مالکان ہمیشہ کے لیے کاٹن سیس کی ادائیگی سے آزاد ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں سے تین ارب روپے کی مالیت کے کاٹن سیس کے نادہندہ ہیں۔ پاکستان میں سالانہ ڈیڑھ کروڑ کاٹن گانٹھیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور کاٹن سیس ایکٹ کے تحت ٹیکسٹائل سیکٹر ہر گانٹھ پر پچاس روپے کاٹن سیس دینے کے پابند ہیں۔ اس سارے عمل میں وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کردار خاصا مشکوک ہے۔ یہ بھی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب اس مجوزہ ڈرافٹ کے بارے میں وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی فخر امام سے سوال کیا گیا تو انہوں نے نو کمنٹس کہہ کر بات ہی سرے سے گول کر دی۔ جس سے سنٹرل کاٹن کمیٹی کے خاتمے کے ڈرافٹ کے تیار ہونے کے شکوک وشبہات پیدا ہو چکے ہیں۔ اور اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ دال میں بہت کچھ کالا ہے۔ سنٹرل کاٹن کمیٹی کے زیر انتظام ملک بھر میں ریسرچ سینٹرز کام کر رہے ہیں اور ایک ہزار سے زائد حاضر سروس زرعی سائنسدان اور دیگر ملازمین ہیں، جن کے معاشی قتل اور ملازمتوں سے جبری رخصت کرنے کے منصوبے پر عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ ادارے کے مخدوش حالات کو دیکھتے ہوئے بہت سے ملازمین بہترین مستقبل کی تلاش میں پی سی سی سی کو چھوڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب کاٹن سیس وصول نہ ہونے سے ادارے کا ریسرچ ورک بھی پوری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مافیا نے وزیراعظم آفس میں ہوم ورک مکمل کر رکھا ہے۔

صرف وزیراعظم سے اس ڈرافٹ کی منظوری لینا باقی ہے۔ سابق معاون خصوصی نیشنل فوڈ سکیورٹی کا بھی اس ساری کارروائی میں نام لیا جا رہا ہے۔ پی سی سی سی کے خاتمے کی خبروں نے کپاس کے کاشتکاروں سمیت کامرس کے حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کی کمی کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ملک میں زرعی انقلاب کے حکومتی دعوو¿ں کے برعکس سنٹرل کاٹن کمیٹی کے خاتمے کی نوید کسی اور ہی سازش کا پتہ دے رہی ہے۔ اب جبکہ ملک میں مزید زرعی ریسرچ سینٹرز قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے بیج متعارف کرائے جائیں کہ جن سے پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں اضافے کو ممکن بنایا جا سکے، ایسے میں پی سی سی سی کے خاتمے کے ڈرافٹ تیار ہونا خطرے کی گھنٹی ہے، پہلے ہی ملک میں سالانہ ایک لاکھ ایکڑ زرعی اور زرخیز زمین پر ہاو¿سنگ سوسائٹیز قائم کی جا رہی ہیں اور کپاس جو پاکستان کی وائٹ گولڈ فصل قرار دی جاتی ہے اس کی مجموعی پیداوار میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ پر ہے۔ اس لیے وزیراعظم کو اپنے زرعی ویژن کے مطابق اس حوالے سے کسی بھی قسم کی پیش رفت کو روکنے کے عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لئے نہ صرف جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ بلکہ اپٹما کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بجائے سنٹرل کاٹن کمیٹی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ کاٹن مافیا سے کاٹن سیس کی مد میں واجب الادا تین ارب روپے وصول کر کے ریسرچ سے وابستہ سائنسدانوں کی استعداد کار سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ نیز کاٹن سیس فنڈ کی ریگولر وصولی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ حکومت سنٹرل کاٹن کمیٹی کے حوالے سے پائی جانے والی خبروں کی سرکاری سطح پر وضاحت جاری کرے تاکہ اس بارے میں پائے جانے والے اضطراب کا خاتمہ ہو سکے۔ نیز نیشنل فوڈ سکیورٹی منسٹری بھی اپنی پوزیشن واضح کرے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں