اداریہ: آہ! ڈاکٹر قاضی عبدالرحمن عابد - Baithak News

اداریہ: آہ! ڈاکٹر قاضی عبدالرحمن عابد

بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے چیئرمین اور سابق ڈائریکٹر سرائیکی اسٹڈی سنٹر بی زیڈ یو ملتان ڈاکٹر قاضی عابد گذشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ ان کا ارتحال نہ صرف یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے لیے بہت بڑے نقصان کا باعث نہیں بنا بلکہ یہ پوری دنیا میں اردو ادب و تنقید کے مداحوں کے لیے بڑا نقصان ہے۔ مرحوم دنیائے اردو ادب میں نہایت ادب و احترام سے دیکھے جاتے تھے اور اردو تنقید ، اردو فکشن اور اردو شاعری پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ دنیا کے کئی ممالک میں اردو کے حوالے سے ہونے والی کانفرنسوں میں بھی شرکت بھی کرچکے تھے ۔ مرحوم ترقی پسندی ،روشن خیالی اور عقلیت پسندی کے پرچارک تھے۔ انہوں نے اپنی نگرانی میں درجنوں طلباو طالبات کو پی ایچ ڈی کرائی اور نت نئے موضوعات پر تحقیق کے لیے اکسایا اور شعبہ اردو بی زیڈ یو کی صدارت کے زمانے میں کئی سو کتابیں بھی شعبہ سے شائع کروائیں۔ جامعہ زکریا ملتان شعبہ اردو نے ان کے زمانہ صدارت میں کئی قومی اور بین الاقوامی اردو کانفرنسوں کا انعقاد کرایا ۔ مرحوم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ دکھ اور نہایت غم کی اس گھڑی میں ادارہ بیٹھک نیوز اور ان کی ٹیم ڈاکٹر قاضی عابد کی وفات پر نہایت رنج و غم کا اظہار کرتی ہے اور ان کے پسماندگان سے دلی تعزیت کرتی ہے قاضی ڈاکٹر عبدالرحمان عابد کا تعلق رحیم یارخان کی تحصیل خان پور سے تھا۔انہوں نے 1992 ءمیں کالج کیڈر میں بطور لیکچرار اردو جوائننگ دی ۔دوسال بعد ان کا تقرر بطور لیکچرار اردو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ہوا ۔انہوں نے حال ہی میں ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی سے اردو میں پوسٹ ڈاکٹورل کی ڈگری حاصل کی تھی ۔وہ ایک بہترین نقاد محقق اور انتہائی قابل استاد تھے ۔ان کی ناگہانی موت پر علمی و ادبی حلقے سوگوار ہیں۔جہاں سے علمی سفر کا آغاز کیا وہیں دوران معلمی جان کی بازی ہار گئے۔خدا ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اور ان کے درجات بلند کرے ۔شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا ۔ایک روشن دماغ تھا نہ رہا ۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں