اداریہ : جعلی ادویات و سپرے نے کسان اور زراعت کو برباد کردیا ہے - Baithak News

اداریہ : جعلی ادویات و سپرے نے کسان اور زراعت کو برباد کردیا ہے

ملتان ہائیکورٹ میں پیسٹی سائیڈز کمپنیوں نے زراعت سمیت کئی محکموں کے افسران کے خلاف ایک رٹ پیٹشن دائر کرکے ایگریکلچرل آرڈیننس پنجاب کی ایک شق کو چیلنج کیا ہوا ہے اور اس رٹ میں حاصل حکم امتناعی نے جعلی سپرے و ادویات کے کاروبار میں ملوث کمپنیوں کے خلاف سینکڑوں مقدمات کو کئی ماہ سے لٹکا رکھا ہے – اس حکم امتناعی کی آڑ میں جعلی ادویات اور سپرے کا کاروبار کسی روکاوٹ کے بغیر جاری ہے- اس صورت حال کے سبب کسان اور زراعت دونوں کی تباہی دن بدن تیز ہوتی جارہی ہے- جعلی ادویات اور سپرے کے سبب جنوبی پنجاب میں کپاس پہ سفید سُنڈی کا حملہ روکا نہین جاسکا تو ہزاروں کسان کپاس کی کاشت کرنا چھوڑ گئے اور پاکستان کافی عرصے کپاس کا مطلوبہ ہدف بھی پورا نہیں کررپارہا- عدالت کا حکم امتناعی اور بار بار کیس کی سماعت کا لیفٹ اوور ہونا کسانوں کی معشیت کی بربادی کے اسباب میں سے ایک سبب کو برقرار رکھنے کا باعث بن رہا ہے – چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لیکر اس کیس کا جلد از جلد تصفیہ کرایا جائے تاکہ جعلی ادویات اور سپرے کے کاروبار کی روک تھام ہوسکے۔ پاکستان میں زرعی ادویات و سپرے کا کام سب سے منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں پیسٹی سائیڈز کمپنیاں سالانہ 41 ارب 55 کروڑ روپے کا بزنس کرتی ہیں اور اس میں سب سے زیادہ شئیر جنوبی پنجاب کے کسانوں سے کاروبار سے حاصل ہوتا ہے۔اس کاروبار میں جعلی ادویات اور سپرے کے کاروبار کا حجم بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ اور ہر کسان اس بات کی شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ اسے اصلی زرعی ادویات اور سپرے ملتی نہیں ہیں- بڑی معروف کمپنیاں بھی مبینہ طور پہ اس گھناؤنے کام میں ملوث ہیں۔ کسانوں کی طرف جعلی ادویات اور سپرے کے خلاف بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر محکمہ زراعت نے متعدد پیسٹی سائیڈ کمپنیوں سے ادویات اور سپرے کے نمونے لیبارٹریوں میں بھیجے تو اکثر کے سیمپل جعلی پائے گئے جن کے خلاف سینکڑوں مقدمات درج کیے گئے اور کوالٹی کنٹرول نے متعدد پیسٹی سائیڈز کمپنیوں کے لائنس منسوخ کرنے کی سفارش کی ۔ اس کے بعد ملتان ہائیکورٹ میں پیسٹی سائیڈز کمپنیوں نے زراعت سمیت کئی محکموں کے افسران کے خلاف ایک رٹ پیٹشن دائر کرکے ایگریکلچرل آرڈیننس پنجاب کی ایک شق کو چیلنج کیا اور عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرلیا – اس رٹ میں حاصل حکم امتناعی نے جعلی سپرے و ادویات کے کاروبار میں ملوث کمپنیوں کے خلاف سینکڑوں مقدمات کو کئی ماہ سے لٹکا رکھا ہے – اس حکم امتناعی کی آڑ میں جعلی ادویات اور سپرے کا کاروبار کسی روکاوٹ کے بغیر جاری ہے- اس صورت حال کے سبب کسان اور زراعت دونوں کی تباہی دن بدن تیز ہوتی جارہی ہے- جعلی ادویات اور سپرے کے سبب جنوبی پنجاب میں کپاس پہ سفید سُنڈی کا حملہ روکا نہین جاسکا تو ہزاروں کسان کپاس کی کاشت کرنا چھوڑ گئے اور پاکستان کافی عرصے کپاس کا مطلوبہ ہدف بھی پورا نہیں کررپارہا- اسٹیٹ بینک پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق کپاس کے لیے کاشت کردہ رقبے میں 1982ء سے لیکر ابتک 22 لاکھ ایکڑ کی کمی آچکی ہے۔ 2021ء میں 56 لاکھ کاٹن کی گانٹھیں حاصل ہوئیں جبکہ دوہزاز بیس میں 85 لاکھ تیار کی جاسکیں- پنجاب اور سندھ میں کپاس کی پیداوار میں بالترتیب 32 فیصد اور 28 فیصد کمی آچکی ہے۔ اس کم پیدااوار کے براہ راست اثرات پاکستان کی جننگ انڈسٹری پہ بھی پڑ رہے ہیں جو جنوبی پنجاب اور سندھ میں سرمایہ کی پیداوار اور روزگار کی فراہمی کا اہم زریعہ ہیں ۔عدالت کا حکم امتناعی اور بار بار کیس کی سماعت کا لیفٹ اوور ہونا کسانوں کی معشیت کی بربادی کے اسباب میں سے ایک سبب کو برقرار رکھنے کا باعث بن رہا ہے – چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لیکر اس کیس کا جلد از جلد تصفیہ کرایا جائے تاکہ جعلی ادویات اور سپرے کے کاروبار کی روک تھام ہوسکے- کپاس جیسی فصل کی پیداوار میں اضافہ کرکے جننگ انڈسٹری کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں