اداریہ: صحافیوں کے خلاف ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی کاروائیاں آزادی صحافت کے خلاف ہیں - Baithak News

اداریہ: صحافیوں کے خلاف ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی کاروائیاں آزادی صحافت کے خلاف ہیں

ایک نجی ٹی وی کے اینکر صحافی اقرار الحسن اور ان کی ٹیم پہ آئی بی کراچی کے ملازمین کا تشدد اور پرائیویٹ میڈیا نیوز ایجنسی کے مالک اور معروف صحافی محسن بیگ کے دفتر پہ ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کا بنا وارنٹ چھاپہ مارنا اور ان پہ جھوٹے مقدمے کا اندراج وفاقی حکومت کی نیک نامی نہیں ہے۔ اس سے یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس، وفاقی حکومت اور وفاقی وزرا اور مشیروں میں برداشت کا انتہائی فقدان ہے اور وہ اختلاف رائے کے حق کو سلب کرنا چاہتے ہیں – اگرچہ جن صحافیوں کے ساتھ یہ واقعات ہوئے خود ان کے اپنے طرز صحافت پہ عام لوگوں میں کافی اعتراضات موجود ہیں لیکن کیا کسی صحافی کے صحافتی اخلاقیات اور بادی النظر میں تجزیہ کرتے ہوئے یا رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافتی اصولوں کو نظر انداز کرنا اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اس ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو ماورائے آئین اور قانون اقدامات اٹھانے ، کسی صحافی سے مار پیٹ کرنے، اسے جبری اغوا کرنے یا اس پہ جھوٹا مقدمہ درج کرنے کا اختیار مل جاتا ہے؟ ہرگز نہیں – اگر کسی صحافی یا اینکر نے پاکستان کے کسی قانون یا آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی کی ہوتی ہے تو اس سے آئین اور قانون کے مطابق نمٹا جانا بنتا ہے ناکہ اس کے خلاف فسطائی ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کردیا جائے۔ اس سے پہلے نیوز ون نامی ٹی وی چینل کو بنا پیمرا کے کسی تحریری حکم نامے کے بند کردیا جانا بھی اپنی جگہ اس حکومت کے آزادی صحافت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے دعوے پہ سوالیہ نشان ہے اور اب تک پتا نہیں چل سکا کہ کس نے چینل کی بندش کا حکم دیا تھا؟ مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں تواتر سے اختلاف رائے رکھنے والے صحافیوں کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کا آغاز ہوا تھا اور اس وقت ایسا کرنے والے “نامعلوم” ہوتے تھے اور ان کا پتا نہیں چلتا تھا لیکن اب تو ہم اس طرح کی متشدد کاروائیوں کے مبینہ ملزمان کی شناخت سے بھی واقف ہیں بلکہ ان کی کس ایجنسی یا ادارے سے وابستگی ہے اس کا بھی صاف پتا چل رہا ہے۔ ایسے وا‍قعات کا رونما ہونا پاکستان کی حکومت کے لیے عالمی سطح پہ جگ ہنسائی کا باعث نہیں ہے؟ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسی پرتشدد لاقانونیت کو حکومت کے کئی ایک وزراء اور مشیر ٹھیک اور باجواز قرار دیتے پائے جارہے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظر آنے والے اقدامات اٹھانا ہوں گے

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں