اداریہ: قندیل قتل کیس ،عورتیں یونہی قتل ہوتی رہیں گی - Baithak News

اداریہ: قندیل قتل کیس ،عورتیں یونہی قتل ہوتی رہیں گی

معروف ماڈل قندیل کے نام نہاد غیرت قتل کا مرکزی ملزم بھی رہا ہوگیا اور یوں غیرت کے نام پہ قتل ہونے والی قندیل کے والدین نے ہی قندیل کے قاتل کو قندیل کا بھائی اور اپنا بیٹا ہونے کا فائدہ دے کر معاف کردیا- اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر نام نہاد غیرت کے نام پہ اپنے خاندان کے ہاتھوں ماری جانے والی عورتوں کے حوالے سے قانون میں تبدیلی کی اشد ضرورت کو پھر سے اجاگر کردیا ہے- پاکستان میں غیرت کے نام پہ عورتوں کے قتل کی شرح میں کمی دیکھنے کی بجائے اضافہ ہی ہورہا ہے۔ خاص طور پہ اس طرح کے قتل جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور جنوبی کے پی کے میں زیادہ دیکھیں جارہے ہیں- گزشتہ سال صرف سندھ کے بالائی اضلاع میں غیرت کے نام پہ 72 سے زائد عورتیں قتل کی گئیں اور یہ گزشتہ سال کی نسبت دوگنا تعداد تھی ۔ جنوبی پنجاب میں 50 سے زیادہ عورتیں غیرت کے نام پہ قتل کی گئیں۔ غیرت کے نام پہ قتل ہونے والی عورتوں کے اکثر مقدمات صلع اور معافی پہ ختم ہوتے ہیں اور قال صاف بچ کر کل جاتے ہیں -غیرت کے نام پہ قتل کے خلاف ایک ایسے قانون بنانے کی ضرورت ہے جس میں خود ریاست مدعی ہو اور اگر مقتولہ عورت کے گھر والے قاتل کو معاف بھی کردیں تو ریاست بطور مدعی اسے معافی نہ ہونے دے – قصاص ودیت کا موجودہ قانون غیرت کے نام پہ قتل کے مجرموں کو اکبر و بیشتر صاف نکل جانے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے – اس فیصلے سے عورتوں کی بہت بڑی تعداد کو مایوسی ہوئی ہے اور ان میں عدم تحفظ کا احساس شدید ہوا ہے – قندیل قتل کیس کا فیصلہ آنے تک جنوبی پنجاب میں مزید سو سے زیادہ عورتوں کے غیرت کے نام پہ قتل و تشدد کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ سندھ کے بالائی اضلاع جہاں قبائلی نظام شدید ہے وہاں بھی کاروکاری کے نام پہ عورتوں کا قتل رک نہیں سکا ہے – غیرت کے نام پہ قتل کو روکنے کے لیے پنجاب حکومت کو قانون میں سُقم دور کرنے کی کوشش تیز کرنی چاہیے

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں