اداریہ: لانگ مارچ – کیا اپوزیشن کے پاس افراط زر اور آئی ایم ایف سے نجات کا فارمولا ہے؟ - Baithak News

اداریہ: لانگ مارچ – کیا اپوزیشن کے پاس افراط زر اور آئی ایم ایف سے نجات کا فارمولا ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 27 فروری سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے روڈ میپ کا اعلان کردیا ہے۔ روڈ میپ کے مطابق لانگ مارچ آٹھ مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا- پی پی پی کی قیادت کو یقین ہے کہ اس لانگ مارچ سے حکومت گھر چلی جائے گی – دوسری پی ڈی ایم اور پی پی پی کے درمیان قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے پہ اتفاق ہوا ہے- لیکن اب تک عدم اعتماد کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ لانگ مارچ اور عدم اعتماد حکومت کو گھر بھیج دیتے ہیں تو کیا کوئی دوسری پارٹی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ وہ مہنگائی ختم کردے گی؟ کیا کسی سیاسی جماعت کے پاس ایسا فارمولا ہے جس کو لاگو کرکے پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کی امداد سے مشروط شرائط کو ختم کرانے میں کامیاب ہوجائے؟ اس وقت پاکستان کی معاشی صورت حال کا جائزہ اور عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھ کر تو اس سوال کا جواب نفی میں ملے گا۔ اس وقت حکومت کے بقول آئی ایم ایف کی شرائط کو قبول کرنے کے سوا کوئی اور حل سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اس کا ٹھوس جواب اپوزیشن جماعتوں کے پاس موجود نہیں ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں بجلی،تیل، گیس سمیت یوٹیلٹی ٹیرف کو بڑھا رہی ہے تاکہ حکومت کے ان چیزوں کی قیمت اور سپلائی پہ اٹھنے والے اخراجات کو بغیر خسارے کے پورا پورا واپس لیا جاسکے۔ اس حوالے سے انرجی کے شعبے میں جن سٹرکچرل اصلاحات کی ضرورت ہے انہیں یہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح وعدوں کے باوجود کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات میں ہر ماہ 4 روپے اور 8 ماہ میں 32 روپے اضافہ کرنا تھا جو حکومت قدرے تاخیر سے سہی فروری کے تیسرے ہفتے میں کرچکی ہے۔ آئی ایم ایف کی تیسری شرط ہرقسم کی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ ہے جو حکومت کے بقول وہ 343 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگاکر پورا کرچکی ہے۔ مہنگائی کا ایک بڑا فیکٹر ایسا ہے جو سراسر حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہے اور وہ ہے اس کے متعلقہ اداروں کا بروقت ایل این جی اور یوریا کھاد کو امپورٹ کرنے میں ناکامی جس نے ایل این جی اور کھاد مافیا کو ایل این جی اور کھاد کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا موقعہ فراہم کیا۔ اس سے قبل آٹے اور چینی کا بحران بھی حالات سے کہیں زیادہ حکومت کی اپنی نااہلی کا نتیجہ زیادہ تھا۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں میں تین بنیادی نقائص ہیں جو شروع دن سے نظر آتے ہیں- پہلا نقص کرنٹ اخراجات کا 2017-2018 میں 43 کھرب روپے سے 75 کھرب تک پہنچ جانا ہے جبکہ اسے مالیاتی سال 2021 میں کل جی ڈی پی کا ایک فیصد تک رکھنا تھا۔ دوسرا نقص حکومت کا بے تحاشا اندرونی (16 کھرب سے 27 کھرب روپیہ)اور بیرونی قرضے(95 ارب ڈالر سے 130 بلین ڈالر) لینا ہے جس سے ان قرضوں پہ مارک اپ کی شرح بے تحاشا بڑھ گئی ہے اور کرنٹ اخراجات اور قرضوں میں توازن برقرار رکھنا مشکل ترین ٹاسک بن گیا ہے – جبکہ اس کے مقابلے میں معاشی آؤٹ پٹ بھی بتنی تیزی سے نہیں بڑھی جس کا دعوی کیا گیا تھا۔ تیسرا اور سب سے بڑا آخری نقص موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی میں اخراجات میں کٹوتی کی بجائے ٹیکسز کے زریعے سے آمدنی بڑھانے پہ زور ہے اور اس وقت حکومتی آمدنی کا بھاری بھرکم انحصار 62 فیصد بالواسطہ ٹیکسز پہ ہے- دوسرا انحصار مفروضہ نجکاری پہ ہے جس کے لیے اس وقت فضا بالکل بھی سازگار نہیں ہے- حکومت نے غریبوں کو نقد رقوم اور سستے گھروں کی مد میں 120 ارب روپے کی سبسڈی کا جو وعدہ کیا ہے وہ اب تک ہوائی وعدہ ہے اور ابھی دیکھنا یہ ہے کہ وہ پورا ہوتا ہے یا ماضی کی حکومتوں کے وعدوں کی طرح ناکام رہتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل اور اجناس کی قیمتوں جیسا بیرونی فیکٹر تو حکومت کے بس سے باہر ہوسکتا ہے لیکن وہ مالیاتی پہلو کے اعتبار سے مہنگائی میں اضافہ کرنے والے عوامل کو تو ختم کرسکتی ہے جن کو بھی وہ ختم نہیں کرپارہی تو کیا حزب اختلاف کی جماعتیں اس حکومت کو گھر بھیج کر ایسا کرپائیں گی؟

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں