اداریہ : نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں ماہر ڈاکٹرز اور اساتذہ کی کمی - Baithak News

اداریہ : نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں ماہر ڈاکٹرز اور اساتذہ کی کمی

نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں مختلف شعبوں کی سینئر فیکلٹی اور ماہر اساتذہ کی کمی کا مسئلہ عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔ جبکہ نشتر ہسپتال میں بھی مختلف شعبوں میں ماہر سینئر ڈاکٹروں کی کمی کا مسئلہ بھی بار بار سامنے آتا رہتا ہے۔ نشتر ہسپتال میں انسٹیوٹ آف ڈینسٹری کا سربراہ آج تک نہیں لگ سکا اور اس میں فیکلٹی کی انتہائی کمی ہے۔ شعبہ امراض قلب میں بھی تجربہ کار فیکلٹی کی پہلے ہی کمی تھی ۔ گزشتہ روز اسسٹنٹ پروفیسر کارڈیالوجی ڈاکٹر چوہدری شاہد کا تبادلہ چودھری پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیا لوجی میں کردیا گیا جس سے اس شعبے میں ماہر ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔ ایک طرف نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں سینئر اور تجربہ کار فیکلٹی کی کمی میڈیکل کے طالب علموں کی پڑھائی میں سخت مشکلات کا سبب بن رہی ہے تو دوسری طرف نشتر میں کئی شعبوں میں تجربہ کار ڈاکٹروں کی کمی سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کو فوری طور پہ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال دونوں کی حالت پر رحم کرے اور یہاں سے سینئر پروفیسر ڈاکٹروں کے تبادلوں اجازت دینے کے عمل کو روک دیا جائے۔ سنٹرل پنجاب کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز کی زیادتی ہے وہاں سے ڈاکٹروں کو نشتر ہسپتال تعینات کیا جائے تاکہ تجربہ کار افرادی قوت کا یہ بحران انسانی المیے میں بدلنے سے روکا جائے۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی جو1951ءمیں ایک کالج سے قائم کی گئی آج جنوبی پنجاب کے ایک بڑے میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال اس علاقے کی سب سے بڑی یونیورسٹی اور ہسپتال تصور کیا جاتا ہے اور یہاں نہ صرف ملتان بلکہ سندھ کے علاقے گھوٹکی، سکھر، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کی بڑی آبادی اس سے استفادہ کرتی ہے۔ بلا شبہ یہاں کے ماہر ڈاکٹرز اپنی شبانہ روز محنتوں سے خطے کے بیمار افراد کی مسیحائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں مگر جس قدر اس ہسپتال پر مریضوں کا رش بڑھتا چلا جارہا ہے مگر ڈاکٹرز کی تعداد اس حساب سے کم ہے اور جو ہیں ان کا بھی تبادلہ کردیا جاتا ہے جس سے مریضوں کا تو نقصان ہوتا ہی ہے ، میڈیکل کے طلباءوطالبات بھی تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ جب سینئراور ماہر اساتذہ کاٹرانسفر ہوتا ہے تو پھر انہیں تعلیمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں پروفیسرز کی اسامیوں کی ہمیشہ سے کمی ر ہی ہے یہاں پر مبینہ طور پر تجربے کی بنیاد پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ز کو ایڈہاک کی بنیاد پر تعینات کردیا جاتا ہے جبکہ اگر غور کیا جائے تو اب میڈیکل کے طلباءوطالبات کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے ایسے میں پروفیسر اور ٹیچنگ فیکلٹی پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے ہاتھوں سے بیمار کو شفا ملتی ہے اس لئے ماہر اساتذہ پڑھائیں گے تبھی ماہر ڈاکٹرز بن کر طلباءوطالبات بہتر انداز سے خدمات انجام دے سکیں گے اور اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں