اداریہ : پام آئل کے ذخیرہ اندوزں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ؟ - Baithak News

اداریہ : پام آئل کے ذخیرہ اندوزں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ؟

گزشتہ دنوں عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتوں میں اضافے کو بہانہ بناکر پام آئل کے امپورٹرز نے ساڑھے 11ہزار روپے فی من والے پام آئل کی قیمت ساڑھے 13ہزار روپے فی من کردی ۔ پام آئل امپورٹرز کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے لاکھوں ٹن پام آئل کراچی کے خفیہ گوداموں میں ذخیرہ کیا ہوا ہے اور وہ ملک بھر میں پام آئل کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کے جرم میں ملوث ہیں۔ روزنامہ” بیٹھک“ نیوز میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی نیوز اسٹوری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پام آئل کے ذخیرہ اندوزوں کےخلاف کارروائی کرنے کےلئے مسابقتی کمیشن پاکستان نے گزشتہ چھاپے میں پام آئل کی بیرون ملک سے امپورٹ کا ریکارڈ قبضے میں لیکر پام آئل کی مصنوعی قلت پیدا کرنےوالوں بارے تحقیقات کا دائرہ بڑھایا تو اچانک سے تحقیقات روک دی گئیں۔خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسابقتی کمیشن کی تحقیقات رکوانے کے پیچھے پام آئل ذخیرہ اندوزوں کا ہاتھ ہے۔ مسابقتی کمیشن کا پام آئل مافیا کے ہاتھوں بے بس ہوجانا عام آدمی کےلئے ایک اور بڑا صدمہ ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی تلے پس رہا ہے۔ ایک طرف تو پام آئل کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا معاملہ ہے تو دوسری طرف جعلی انوائسز بناکر گھی بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان اور ریٹلرز کی طرف سے ذخیرہ کیے گئے گھی کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ریٹلرز نے گھی کی قیمت میں 80 روپے کا اضافہ کیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ بناسپتی گھی مینوفیکچرنگ کی صنعت سے جڑے صنعتکاروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت عام صارف کو اگر گھی کی قیمتوں میں اضافے سے بچانے کی خواہش مند ہے تو وہ اس صنعت اورٹیکس سٹرکچر پر نظر ثانی کرے لیکن ان صنعتکاروں کی ایسوسی ایشن نے پام آئل اور گھی کے پہلے سے موجود اسٹاک اور بلیک مارکیٹنگ بارے کچھ بھی کہنے سے احتراز برتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر حکومت کے متعلقہ ادارے پام آئل اور گھی کی مصنوعی قلت پیدا کرنےوالے گروہوں کے خلاف ٹھیک طرح سے کارروائی کریں تو گھی کی قیمت میں فی پانچ کلو قیمت کو واپس گزشتہ ماہ والی سطح پر لے جایا جاسکتا ہے۔ مگر حکومت تاحال امپورٹر، مینوفیکچرر اور ریٹلر کی سطح پر بلیک مارکیٹنگ ، کارٹیل سازی کو روکنے میں بالکل ناکام نظر آتی ہے۔ اس سے مصنوعی مہنگائی کا بوجھ بھی عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بنیادی ضرورت کی اشیاءمیں اضاافے کا رجحان جنرل ضیاءالحق کے دور سے شروع ہوا جب گھی ، چینی، سمینٹ ، آئرن، کھاد سیمنٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سے سرکاری شعبہ کو ختم کردیا گیا جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ محنت کشوں کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے زیر کنٹرول ریاستی مینوفیکچرنگ اداروں کو چلایا جاتا تاکہ نجی سیکٹر کے ساتھ مسابقت کی فضا قائم رہتی اور گھی ، چینی، لوہا، سیمنٹ، کھاد جیسی بنیادی اشیاءکی مصنوعی قلت پیدا نہ کی جاسکتی ۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں