اداریہ: کیا ڈیرہ غازیخان میں کرپشن کرنے کی اجازت ہے؟ - Baithak News

اداریہ: کیا ڈیرہ غازیخان میں کرپشن کرنے کی اجازت ہے؟

روزنامہ بیٹھک ملتان میں شایع ایک خبر کے مطابق میونسپل کارپوریشن ڈیرہ غازی خان کے افسران اور لینڈ ڈویلپرز نے مل کر شہر کی آٹھ ہاؤسنگ اسکیموں میں نقشہ فیس کے دو ارب روپے سے زیادہ کی رقم ہڑپ کرلی ہے – سرکاری خزانے کو یہ نقصان زرعی زمین کی سکنی و کمرشل زمین میں تبدیلی فیسوں کو ہڑپ کرکے پہنچایا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب میں ایک طرف تو بڑے پیمانے پہ گرین زونز میں شامل زرعی رقبے پہ غیر قانونی رہائشی منصوبوں کی طرف سے آنکھیں بن کی گئیں تو دوسری طرف بڑے پیمانے پہ رہائشی منصوبوں کے زرعی زمین کی غیرقانونی سکنی و کمرشل زمین میں تبدیلی کے دوران کھربوں روپے ککنورشن اور نقشہ فیس کی مد میں پہنچایا گیا ہے اور اس کرپشن میں بلدیاتی اداروں کے کئی سو افسران اور ملازمین شامل ہیں ۔ جنوبی پنجاب میں ایک بھی میونسپل کمیٹی اور کارپوریشن ایسی نہیں ہے جس کے سی او، ایم او پلاننگ ، ہیڈ کلرک نقشہ برانچ، ريکولیشن برانچ کے اہلکار کنورشن فیس اور نفشہ فیس کی مد میں کروڑوں ، اربوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزامات میں ملوث نہ ہوں۔ ان کے خالاف درجنوں محکمانہ انکوائریاں، اینٹی کرپشن میں مقدمات کا اندراج نہ ہو لیکن یہ کرپشن جاری و ساری ہے اور کوئی ادارہ تاحل اس کرپشن کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اینٹی کرپشن کورٹ میں بھی ایسے درجنوں مقدمات زیر التوا ہیں ۔ اکثر شہروں میں ماسٹر پلان ہی تیار نہیں کیے گئے اور پنجاب لینڈ یوز ایکٹ کو موم کی ناک بنادیا گیا ہے۔ کرپٹ بلدیاتی افسران اور اہلکاروں کے نجائز اثاثے روبہ ترقی ہیں اور ہمارے خفیہ اداروں کی کارکردگی اس حوالے سے سوال کے نشانے پہ ہے۔ ایماندار بلدیاتی اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کے افسران اکثر وبیشتر کھڈے لائن لگا دیے جاتے ہیں اور بھاری رشوت لیکر بلدیاتی اداروں میں ٹرانسفر پوسٹنگ کے الزامات بھی عام ہیں- سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اب جبکہ جنوبی پنجاب کے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ کو بااختیار بنایا جاچکا ہے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کو بھی طاقتور اور بااختیار بنایا جاچکا تو وہ ایسی کھلی کرپشن کے اسکینڈل سامنے آنے پہ کوئی ایکشن لینے سے کیوں قاصر ہیں؟ حکومت کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اتنے بڑے پیمانے پہ لینڈ ڈویلپنگ کے شعبے میں کرپشن اور بدعنوانی ہونے پہ خاموش کیوں ہیں؟ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین صوبائی اسمبلی اس حوالے سے حکومت کے سامنے اس کرپشن بارے سوال کیوں نہیں رکھتے۔ اس وقت پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز کمشنر، ڈپٹی کمشنرز اور اے ڈی سی آر ہیں وہ اس کا نوٹس کیوں نہیں لے رہے؟ کیا کمشنر ڈیرہ غازی خان اور اے ڈی سی آر ڈیرہ غازی خان کنورشن اور نقشہ فیس کی مد میں سامنے آنے والی اس دو ارب کی مبینہ کرپشن کا نوٹس لیکر ذمہ دار بلدیاتی افسران اور لینڈ ڈویلپرز کے خلاف نوٹس لیں گے

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں