اداریہ: گندم کی ترسیل میں ایک ارب روپے کا فراڈ – محکمہ فوڈ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے - Baithak News

اداریہ: گندم کی ترسیل میں ایک ارب روپے کا فراڈ – محکمہ فوڈ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے

روزنامہ بیٹھک ملتان میں شایع ہونے والی ایک خبر کے مطابق محکمہ خوراک پنجاب کے 8 اضلاع میں گندم کی ترسیل میں ایک ارب روپے کی کرپشن کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس کرپشن میں پنجاب کے آٹھ اضلاع کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کا ملوث ہونا بتایا گیا ہے۔ پنجاب کے آٹھ اضلاع میں گندم کی ترسیل کے دوران ایک ارب روپے کی یہ کرپشن 2019ء میں گئی جس میں صرف لاہور میں 25 کروڑ روپے کا گھپلا گیا گیا-جبکہ بہاول پور میں 23 کروڑ ،، بہاولنگر ، لودھراں، لیہ، بھکر میں 27 کروڑ سے زائد کا گھپلا گیا گیا- محکمہ فوڈ پنجاب ایک طرح سے کرپشن-استھان میں بدل چکا ہے جس میں اس کے اعلی حکام سے لیکر نچلے عملے تک کے لوگ شامل ہیں ۔ 2018ء میں اینٹی کرپشن نے رمضان فوڈ پیکج میں فلور مل مالکان کی طرف سے کرپشن کے زریعے لوٹی گئی 200 ملین روپے کی رقم ریکور کرنے اور اسٹنٹ فوڈ انسپکڑ سمیت دس محکمہ فوڈ کے افسران کو گندم کے ایک بڑے فراڈ کے مقدمے میں گرفتار کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ لیکن آج تک اس مقدمے کا فیصلہ نہیں سنایا گیا ہے جبکہ گرفتار افسران بھی ضمانتوں پہ رہا ہوچکے ہیں ۔ ایک طرح پنجاب کے عوام مہنگائی، غربت کی چی پس میں رہے ہیں اور ایماندار سرکاری ملازمین کا تنخواہوں میں گزارا مشکل ہے دوسری طرف محکمہ فوڈ کے کرپٹ اہلکار ارب پتی اور کھرب پتی بن چکے ہیں – محکمہ فوڈ کے آٹھ اضلاع کے ڈسٹرکٹ کنٹرولرز کو ایک ارب سے زائد کی کرپشن کرنے کے باوجود نہ تو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا اور نہ ہی ان پہ مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور سرکاری حزانے میں اس رقم کی واپسی کے اثار بھی تاحال نظر نہیں آرہے۔ پنجاب کے چیف منسٹر سردار عثمان بزدار کی طرف سے بار بار صوبے میں کرپشن کے خاتمے اور کرپٹ سرکاری ملازمین سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے کے دعوے سامنے آتے ہیں – پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی صوبہ پنجاب کے سرکاری محکموں کو کرپشن سے پاک بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن گندم کی ترسیل میں 2019ء میں ایک ارب روپے کے فراڈ کی سرکاری دستاویزات اس دعوے کی نفی کرتی ہیں اور یہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ دو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہوسکی؟ یہ بیڈ گورننس کی ایک واضح مثال ہے۔ تین سالوں میں آڈیٹر جنرل پاکستان محکمہ فوڈ میں اتنے بڑے پیمانے پہ مالیاتی اور انتظامی بے ضابظگیاں سامنے آنے کے باوجود ایک بھی سیپشل آڈٹ کا آڈر نہیں دے سکے – نہ ہی پنجاب کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس معاملے پہ تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف کوئی کاروائی کرسکیں۔ اس سے ایک ایسی حکومت کا امیج خراب ہورہا ہے جس کا بنیادی نظریہ ہی انصاف کی بالادستی اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔ محکمہ فوڈ میں انٹرنل مالیای اور انتظامی کنٹرول تباہی کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مافیاز نے اس محکم کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ حال ہی میں صوبائی وزیر خوراک بننے والے سردار حامد یار ھراج جو خود بھی زمیندار خاندان سے ہیں کیا وہ ایک ارب سے زائد اس کرپشن اسکینڈل کا نوٹس لیں گے؟ کیا وہ اپنی وزرات کے ماتحت ادارے میں اندرونی مالیاتی اور انتظامی کنٹرول کو بہترین بنانے کے لیے کم از کم پہلے مرحلے پہ مذکورہ آٹھ اضلاع کے محکمہ فوڈ کا سپیشل آڈٹ کرانے کا فیصلہ کریں گے؟

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں