ادھر ادھر اور جنگل کا قانون: رانا امجدعلی امجد - Baithak News

ادھر ادھر اور جنگل کا قانون: رانا امجدعلی امجد

کہاوت ہے کہ کسی جنگل میں شیر نے حکم جاری کر دیا کہ آج سے ہر سینئر جانور جونیئر جانور کو چیک کر سکتا ہے بلکہ سزا بھی دے سکتا۔باقی جانورں نے تو اسے نارمل لیا لیکن بندر نے خرگوش پکڑ لیا اور رکھ کے تھپڑ مارااور پوچھا کہ ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟ خرگوش بولا سر میرے کان لمبے ہیں اس لئے نہیں پہن سکتا۔بندر نے کہا ا±و کے جاو¿۔اگلے دن پھر خرگوش چہل قدمی کر رہا تھا، بندر نے اسے بلایا اور رکھ کے ایک کان کے نیچے دی اور پوچھا ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟ خرگوش نے روتے ہوے کہا سَر کل بھی بتایا تھا کہ کان لمبے ہیں، نہیں پہن سکتا۔بندر نے کہا؛ اوکے گیٹ لاسٹ۔تیسرے دن پھر بندر نے یہی حرکت کی تو خرگوش شیر کے پاس گیا اور ساری کہانی سنائی۔ شیر نے بندر کو بلایا اور کہا ایسے تھوڑی چیک کرتے اور بھی سو طریقے ہیں جیسا کہ تم خرگوش کو بلاو¿ اور کہو جاو¿ سموسے لاو¿۔ اگر وہ صرف سموسے لائے تو پھڑکا دو تھپڑ اور کہو چٹنی کیوں نہیں لائے۔فرض کرو اگر وہ دہی والی چٹنی لے آئے تو لگاﺅ تھپڑ اور کہو آلو بخارے والی کیوں نہیں لائے۔ اور اگر وہ آلو بخارے والی لے آئے تو ٹکا دینا کہ دہی والی کیوں نہیں لائے۔خرگوش نے یہ ساری گفتگو سن لی۔اگلے دن بندر نے خرگوش کو بلایا اور کہا جاو¿ سموسے لاو¿۔خرگوش بھاگا بھاگا سموسے لے آیا۔بندر نے پوچھا چٹنی لائے ہو؟ خرگوش بولا یس سر۔بندر نے پھر پوچھا کون سی؟ خرگوش بولا سر دہی والی اور آلو بخارے والی دونوں لے کر آیا ہوں۔بندر نے رکھ کے ایک تھپڑ مارا اور پوچھا؛توں اے دس ٹوپی کیوں نی پائی؟؟؟

حکومت کے اپوزیشن پر پھر کرپشن کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ کسی سیانے بندے نے کہا تھا کہ جنگل میں سب اپنی اپنی ہانکتے ہیں۔ اب ذرا بات ہو جائے ہمارے عمومی رویوں کی۔ایک رپورٹ کے مطابق پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں۔ آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں۔ ذرا بھی دیر ہو جائے تو بروقت دفتر میں نہیں پہنچ سکتے۔ بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے۔ پورے یورپ امریکا جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں ! آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکا ہے۔پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ، دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے۔ اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا ،جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا۔ عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو’ ناکام رہے گا۔ بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوب رات بھر یا تو جنگی حکمت عملی پر غور کرتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ اگر سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی تھی تو کیا سلطنت خداداد میسور(ٹیپو سلطان کی سلطنت ) اللہ کی نہیں تھی؟ جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں ،مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ،ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چورا ہوں، عوام اپنی جہالت اور معمولی وقتی فائدہ کے لیے اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل سے لا پرواہ ہوں، جہاں تین سال کی بچی سے لے کر پچاس سال تک کی عورتوں کا ریپ معمولی بات ہو اور مجرموں کو سیاسی دباو¿ میں آکر چھوڑ دیا جائے۔

اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے، ہر جگہ “لال قلعہ کی طرز زندگی” کا دور دورہ ہے۔ وزیر ، سیکرٹری ، انجینئر ، ڈاکٹر ، پولیس افسر ، ڈی سی اور کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں، کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے. جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا۔کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی. اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاو¿ں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہوں گے ۔میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا۔گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتا ہے۔ وطن عزیز کی بقاءاسی میں ہے کہ اس عمومی رویہ کے بارے سبق حاصل کیا جائے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں