اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پرائس کنٹرول مانیٹرنگ کرنےکی ہدایت - Baithak News

اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پرائس کنٹرول مانیٹرنگ کرنےکی ہدایت

طرابلس (بیٹھک رپورٹ)لیبیامیں سیاسی بےچینی کی وجہ سے مزید داخلی مسلح سرگرمیوں کے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ایک سال قبل ایسا دکھائی دیتا تھا کہ لیبیا میں جمہوری عمل کو استحکام مل سکتا ہے۔ اب یہ ملک پھر سے انتشار اور تقسیم کا شکار ہو گیا ہے۔ اس ملک میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہے۔گزشتہ برسوں میں شمالی افریقی ملک لیبیا کے دوبارہ اتحاد کی جانب کچھ قدم ضرور اٹھائے گئے لیکن اب اس عمل میں مزید پیش رفت مشکل دکھائی دیتی ہے بلکہ جو قدم اٹھائے گئے تھے وہ بھی انتشار و افراتفری کی خاک میں دھندلا گئے ہیں۔ انہی اقدام کے تحت گزشتہ برس چوبیس دسمبر کو صدارتی انتخابات منعقد کرانے کی کوشش کی گئی جو ضائع ہو گئی۔اسی
صدراتی الیکشن میں لیبیا کے سابق حکمراں معمر القذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے بھی شرکت کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے تھے۔ بعض سیاسی مبصرین کے مطابق اس شمالی افریقی ملک میں اتحاد و اتفاق کی کوششوں کے تحلیل ہونے میں یہ بھی ایک قدم کسی حد تک قرار دیا جا سکتا ہے۔بظاہر چوبیس دسمبر کے صدارتی انتخابی عمل کو موجودہ عبوری حکومت کا متبادل قرار دیا گیا تھا۔ الیکشن کا مقصد اصل میں عبوری حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید محمد الدبیبہ کی ذمہ داریوں کو منتقل کرنا تھا۔ لیکن انتخابی عمل مکمل نہیں ہو سکا۔ الدبیبہ کو وزارتِ عظمیٰ لیبیا پولیٹیکل ڈائیلاگ فورم نے تفویض کی تھی۔دوسری جانب پچھلے ہی سال دس فروری کو لیبیا کی پارلیمنٹ نے سابق وزیر داخلہ فتحی باشاغا کو حکومت تشکیل دینے کا فریضہ سونپا اور اسی وقت اگلے چودہ ماہ کے اندر الیکشن کرانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ الدبیبہ نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑنے سے انکار کر دیا اور الیکشن تک منصب پر براجمان رہنے کا عندیہ دیا۔ دو وزرائے اعظم نے بھی اتحاد کے عمل کو زوال کا شکار کیا۔لیبیا کے عوام اور اس ملک پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں دو متوازی حکومتوں کا ایک ساتھ قیام حقیقت میں انتشار اور عدم استحکام کا سبب بنا ہوا لیبیا سن 2011 سے عرب دنیا میں جمہوری تحریکوں کے سلسلے ‘عرب اسپرنگ‘ کے وقت سے عدم اتفاق و اتحاد اور متحارب قبائلی حلقوں کی دشمنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔

اس وقت یہ ملک مشرق و مغرب میں تقسیم ہے اور ان حکومتوں کو مسلح ملیشیا گروپوں کی عملی حمایت حاصل ہے۔ان کے غیر ملکی مددگار ممالک بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے کئی ایلچیوں نے گھمبیر صورت حال کی شدت دیکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑنے میں عافیت سمجھی کیونکہ متحارب گروپ ہتھیار پھینکنے پر راضی نہیں ہوئے۔الدبیبہ اور باشاغا دو طرفہ تعاون کے حوالے سے صورت حال کو بہتر کر سکتے ہیں لیکن ان کا بیانیہ ‘قانونی اور غیر قانونی‘ کے اردگرد گھوم رہا ہے۔برلن میں قائم تھنک ٹینک ایس ڈبلیو پی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے لیبیائی امور کے ماہر وولفرام لاخر کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کی کوشش طویل اور مکمل حکمرانی کا حصول ہے۔ دونوں فریقوں کی خواہش ہے کہ ایسی حکومت ملے، جس میں احتساب کو کوئی جگہ میسر نہ ہو۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ دونوں وزرائے اعظم ایک اور مطلق العنانیت پر مبنی حکومت کی خواہش رکھتے ہیں۔الدبیبہ کا تعلق لیبیا کے مغربی شہر مصراتہ سے ہے اور انہیں امریکی حمایت یافتہ عسکری گروپوں کی مدد حاصل ہے۔ اس میں جنگی سردار خلیفہ حفتر نمایاں ہیں۔ الدبیبہ بھی صدرارتی الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے تھے۔سابقہ جنگی پائلٹ اور بزنس مین بشاغا کو اقوام متحدہ کی قائم کردہ انتظامیہ کی حمایت حاصل رہی تھی۔ ان کی سرگرمیوں کا مرکز طرابلس ہے اور عبوری حکومت بھی اسی شہر میں قائم ہے۔ انہیں ترکی، فرانس، مصر اور روس کی حمایت حاصل ہے۔ کسی حد تک امریکی حکومت بھی اب باشاغا کی حمایت میں ہے۔یہ امر اہم ہے کہ باشاغا اقوام متحدہ کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں اور عبد الحمید الدبیبہ عبوری حکومت کی قیادت حاصل کر چکے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ انہی دونوں شخصیات کے گرد لیبیا کا موجودہ داخلی عدم استحکام پھیلا ہوا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ یہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ملکی استحکام کی راہ ہموار کریں۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں