الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کمزور حکومت شہریوں کا حق تنقید غصب کرتی ہیں - Baithak News

الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کمزور حکومت شہریوں کا حق تنقید غصب کرتی ہیں

ملتان( تجزیہ: عبدالستار)وفاقی کابینہ نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں ترمیم کرنے کی منظوری دی ہے جسکے تحت فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے پرپانچ سال کی سزا سنائی جائے گی اور عدالتیں اس قانون کے تحت درج مقدمات کا 6ماہ میں فیصلہ سنانے کی پابند ہوں گی ،اسی طرح وفاقی کابینہ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ایک ترمیم کے ذریعے اراکین اسمبلی کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان دو ترامیم کا نفاذ حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے کرنے کافیصلہ کیاہے جبکہ 18فروری 2022 کو ہونے والا پارلیمنٹ کا اجلاس باقاعدہ اعلان کئے بغیر صدر پاکستان عارف علوی نے منسوخ کرنے کااعلان کردیا ہے۔حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس بنا اعلان کے ملتوی کرنے اوردو آرڈیننس کے زریعے مطلوبہ ترامیم کو منظور کرانے نے کئی شکوک شبہات کو جنم دیا ہے۔ اگست 2018 سے اب تک حکومت نے ستر سے زائد ترامیم اور قوانین آرڈیننسوں کے ذریعے سے لاگو کئے ہیں اورکئی ایک آرڈیننس تو پارلیمنٹ کے رواں سیشن کے دوران ہی لائے گئے۔جمہوری معاشروں میں حکومتوں کی ایسی روش کوغیر جمہوری خیال کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو وہ حکومت کی آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی پہ تنقید کیا کرتے تھے۔ وہ مغربی جمہوریتوں کے بار بار حوالے دیا کرتے تھے لیکن جب ان کی اپنی جماعت حکومت میں آئی تب لگتا ہے وہ مغرب میں قانون سازی کے مثالی طریقوں کی پیروی کرنابھول گئے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی نے الیکٹرنک کرائمز ایکٹ 2016 میں مجوزہ ترمیم کو سوشل میڈیا پر سرگرم حکومت کے سیاسی مخالفین کی زبان بندی کی کوشش قرار دیاہے کیونکہ بادی النظر میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں مجوذہ ترمیم بلا جواز نظر آتی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 204توہین عدالت کرنےوالے شخص یا گروہ کےخلاف سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کوپہلے کارروائی کرنےکا پورا اختیار دیتا ہے اور یہ توہین چاہے وہ عدالت کے سامنے کرے یا تقریر میں کرے یا سوشل میڈیا کے ذریعے کرے جبکہ اشارے یا کنائے سے بھی آئین، مسلح افواج بارے بات کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔

اسی حکومت نے اپریل دوہزار اکیس میں مسلح افواج پہ تنقید کرنے کو قابل دست اندازی جرم قرار دینے کا بل متعارف کرایا اور وہ قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے قانون میں موجود ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے آرڈیننس کی صورت میں اسی طرح کے ایک دوسرے قانون کا نفاذ شہری آزادیوں پہ قدغن لگانے کا حکومتی منصوبہ لگتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں اس طرح کے قوانین متعارف کرایا جانا جب پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بہت زیادہ کنٹرولڈ میں ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے اور تنقید کرنے والے صحافیوں پر ریاستی اداروںکے اہلکاروں کی طرف سے مار پیٹ کے آئے روزواقعات میں اضافہ ہورہا ہے تب حکومت کی طرف سے ایسے آرڈیننس کے اجرا کاعزم سوشل میڈیا پرکنٹرول کی حکمت عملی معلوم ہوتا ہے۔ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ اس آرڈیننس کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا یا اس قانون کی آڑ میں سیاسی مخالفین پرجھوٹے مقدمات قائم نہیں ہونگے۔جیسے اس سے پہلے اسی اینٹی سائبر کرائمز ایکٹ کا استعمال کئی نامور حکومتی مخالف صحافیوں ، بلاگرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کیا جاچکا ہے۔ اس ترمیم کے بعد یہ اس قانون کا استعمال اور زیادہ ڈریکولائی ہوسکتا ہے- اس ترمیم کےلئے لایا جانے والا آرڈیننس ایک ایسے ماحول میں آئےگاجب اپوزیشن حکومت کےخلاف تحریک عدم اعتماد لانے جارہی ہے اور آنے والے دنوں میں دو الگ الگ لانگ مارچ بھی کئے جارہے ہیں جس سے حکومت کی نیک نامی میں کوئی اضافہ تو ہرگز نہیں ہوگا۔حکومت شہریوں کے تنقید کے حق کوسلب کرنے کی بجائے اپنی پونے چار سال کی حکمرانی کے دور کا جائزہ لے کہ کیا دیا اور کیا نہیں دیا-اس نے غریبوں اور سفید پوش طبقے سے جس تبدیلی کا دعوی کیا ۔ کیا تبدیلی آئی ؟ ان سوالوں پہ غور کرنے اور ان کا جواب دینے کی بجائے حکومت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے الیکشن کمپئن میں حصہ لینے کی اجازت کا قانون بنانے جارہی ہے ۔ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ کے پی کے میں آنے والے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں حکومتی وسائل کے استعمال کو ممکن بنانے کے لئے یہ ترمیم لائی جارہی ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں