ایم ڈی اے اور کالونی مافیا کا گٹھ جوڑ ؛ اربوں کے گھپلے، تحقیقات ٹھپ - Baithak News

ایم ڈی اے اور کالونی مافیا کا گٹھ جوڑ ؛ اربوں کے گھپلے، تحقیقات ٹھپ

ملتان(ارشد بٹ)ایم ڈی اے کے زیر کنٹرول حدود میں غیر قانونی طور پر تعمیر 2سو سے زائد ہاﺅسنگ سکیموں و لینڈ سب ڈویژن کے مالکان و ڈویلپرز ایم ڈی اے انتظامیہ کےساتھ ملی بھگت کرکے سڑکوں کے منصوبوں میں 8ارب روپے کھا گئے۔سیاسی طور پر بااثر مالکان نے نیب ،ایف آئی اے اوراینٹی کرپشن میں جاری تحقیقات بھی سرد خانے میں ڈلوا دیں۔ان ہاﺅسنگ سکیموں میں سیوریج،واٹرسپلائی،قبرستانوں کے رقبوں و دیگر ترقیاتی کاموں میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ کرپشن سڑکوں کے منصوبوں میں ہونے والی کرپشن کے علاوہ ہے،جب سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ناجائز تعمیر ہونے والی ہاﺅسنگ سکیموں کے کیسوں کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا اور تمام متعلقہ اداروں سے جب رپورٹ طلب کی تو ایم ڈی اے نے جو لسٹ پیش کی اس کے مطابق ساتھ زون میں 124اور نارتھ زون میں 88غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیمیں تعمیر ہونےکی رپورٹ پیش کی گئی۔دوسری طرف ایم ڈی اے حکام نے شدید عوامی دباﺅ اور نیب،ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی ممکنہ کارروائی سے بچنے کےلئے پھرتیاں دکھاتے ہوئے ہاﺅسنگ سکیموں کے غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سینکڑوں کی تعداد میں مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج کرادیں،متعدد کو گرفتار بھی کرایا۔ایف آئی آرز میں بہت زیادہ تعداد بااثر افراد پر مشتمل ہونے پر ایم ڈی اے پر سیاسی دبا پڑنا شروع ہوگیا۔
اسکے بعد بااثر مالکان نے لاہور میں جاکر وزیر ہاﺅسنگ پنجاب میاں محمود الرشید سے ملاقات کی اور انہیں ایم ڈی اے کہ مبینہ زیادتیوں سے آگاہ کیاجس پر انہوں نے اسکا فیصلہ ملتان آکر کرنے کا وعدہ کیا ،کچھ دنوں کے بعد وہ ملتان آئے اور ایک اعلیٰ سطح میٹنگ طلب کی جس میں انہوں نے ایم ڈی اے کو ہاﺅسنگ سکیوں کے مالکان اور ڈویلپرز کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرانے سے روک دیا اور فیصلہ دیا کہ غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں بارے پنجاب بھر میں یکساں پالیسی بناکر اس مسلئے کو حل کیا جائےگا۔اسکے بعد نیب،ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن حکام نے تحقیقات سرد خانے میں ڈال دیں ،ان اداروں نے کسی ایک بھی ہاﺅسنگ سکیم کےخلاف ایکشن لیانہ ہی ملی بھگت میں ملوث ایم ڈی اے کے کسی افسر کے خلاف کارروائی کی گئی۔شہر کے مختلف سیاسی پارٹیوں کے اہم رہنماﺅں ایم این اے احمد حسین دیہڑ،سابق صوبائی وزیر چوہدری وحید ارائیں،سابق ڈپٹی میئر سعید انصاری،وفاقی وزیر مملکت ملک عامر ڈوگر اور سابق ایم این اے ملک عبدالغفار ڈوگر کے قریبی عزیزوں و دیگر سیاسی لوگوں کی ہاﺅسنگ سکیمیں شامل ہیں۔سابق ناظم میاں جمیل کی فیملی کے افراد کی غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کےخلاف ایم ڈی اے نے کارروائی کرکے انکے کچھ حصوں کو مسمار کردیاتھااسکے بعد میاں جمیل جب ایم ڈی اے کے چیئرمین بنے توانہوں نے ان ہاﺅسنگ سکیموں کو ریگولرائز کرالیا،ان ہاﺅسنگ سکیموں کی تعمیر میں مبینہ طور پر ملوث سابق ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ شیخ اقبال کےخلاف اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کی ریٹائر ہونے پر انکی پینشن گریجویٹی روک لی گئی مگر بعد میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہوں نے 80فیصدپنشن و گریجویٹی جاری کرالی مگر ابھی تک 20فیصد واجبات رکے ہو ئے ہیں ۔
انکے بعد آنےوالے ڈائریکٹر ٹاﺅن پلاننگ چوہدری عبدالغفار نے بھی غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں میں اپنی معاونت جاری رکھی ،اسکے خلاف بھی اینٹی کرپشن نے تحقیقا ت شروع کیں مگر اثر و رسوخ سے وہ بھی ان کیسوں سے نکل گئے، ساتھ ہی گریڈ 19میں ترقی بھی حاصل کرکے باعزت ریٹائرمنٹ بھی لے لی اور تمام واجبات بھی لے گئے۔انکے بعد آنےوالے ڈائریکٹر ٹاﺅن پلاننگ خالد جاوید نے بھی ان ہاﺅسنگ سکیموں میں اپنا حصہ ڈالا،انکے خلاف بھی کارروائی کاآغاز ہوامگر ایک طاقتور ادارے کے اعلیٰ افسر کےساتھ رشتہ داری کیوجہ سےانہوں نے ہر معاملے میں کلیئر ہوکر گریڈ 19میں ترقی بھی لے لی ،ٹاﺅن پلاننگ شعبے کی ناقص کارکردگی کے بعد اعلیٰ حکام نے ہاﺅسنگ سکیموں کے معاملات کےلئے ڈائریکٹوریٹ اربن پلاننگ قائم کر کے الگ ڈائریکٹر بنا دیا گیا اسکے ڈائریکٹر چوہدری اصغر نے غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کےخلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا۔ملوث مالکان اور ڈویلپرز کےخلاف کارروائی کےلئے لسٹیں نیب اور ایف آئی اے کو ارسال کیں۔اسکی سخت گیر پالیسی پر مافیا نے ان کو ٹرانسفر کراکے انکی جگہ گریڈ 18کے جونیئر افسر خواجہ وقاص کو لگوادیا ۔جنہوں نے افسر نے شدید دباﺅمیں آکر ہر فائل پر دستخط میںلیت و لعل سے کام لینا شروع کردیا جبکہ جونیئر اور یس مین کو لگانے کا اصل مقصد تمام اختیارات ڈی جی کو دینا تھے تاکہ براہ راست معاملات طے کرکے اپنے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے۔
اس طرح خواجہ وقاص ربرسٹمپ بن کر رہ گئے۔ اس تقرری کوسیاسی طور پر تعینات چیئرمین رانا عبداجبار کی تائید بھی حاصل تھی دوسری جانب ملتان سمیت پنجاب بھر میں 7ہزار کے قریب ہاﺅسنگ سکیموں کو ریگولرائز کرنے کےلئے اہم فیصلہ کیا گیا کہ انکو مسمار کرنے کے بجائے بھاری جرمانہ عائد کرکے ان کو ریگولرائز کردیا جائے تاہم ابھی تک اس فیصلے پر عملدرآمد شروع نہیں ہوا۔اسی فیصلے کی روشنی میں اور فوجداری مقدمات رکنے کے بعد ملتان کے ہاﺅسنگ سکیم مالکان نے اپنی سکیموں کو قانونی حیثیت دلوانے کےلئے ایم ڈی اے حکام سے رابطے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ساتھ ہی طویل تعطل کے بعد نئی ہاﺅسنگ سکیموں کےلئے لوگوں نے درخواستیں جمع کرانا شروع کر دی ہیں۔اس صورتحال کے بعد ایم ڈی اے کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے دوسری جانب ان ہاﺅسنگ سکیموں کے مکینوں کو بھی ترقیاتی کام مکمل ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔غیرقانونی ہاﺅسنگ سکیموں کے حوالے سے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اربن پلاننگ خواجہ وقاص نے اپنے موقف میں بتایا ان معاملات پر فیصلے کےلئے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بن گیا ہے پورے پنجاب کی سکیموں پر وہی فیصلہ کرےگا ہم نے ناجائر تعمیر سکیموں کی لسٹیں بھجوادی ہیں کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ایم ڈی اے کارروائی کرےگا۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں