بزدار سرکار کرپٹ بیورو کریسی کی خادم، شہباز حکومت کی روایت زندہ کردی - Baithak News

بزدار سرکار کرپٹ بیورو کریسی کی خادم، شہباز حکومت کی روایت زندہ کردی

ملتان(تجزیہ: عبدالستار بلوچ)پی ایم ایس گریڈ بیس کے افسر نفیس گوہر بھٹہ کو ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب سے ہٹاکر او ایس ڈی بنائے جانے کے اقدام پر سیاسی سماجی حلقوں میں شدید تنقید ہورہی ہے۔روزنامہ بیٹھک نیوز ملتان نے 16فروری 2022 اور 17فروری 2022 کو ایک تحقیقاتی رپورٹ میں پہلے ہی انکشاف کردیا تھا کہ گوہر نفیس کو ڈی جی اینٹی کرپشن کے عہدے سے ہٹایا جارہا ہے اور سزا کے طور پران کو او ایس ڈی بنایا جارہا ہے ۔اس تحقیقاتی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ یہ معمول کی تقرری اور تبادلے نہیں تھے کیونکہ کچھ ہفتوں پہلے حکومت نے پنجاب کے جن اداروں کی خودمختاری کو ختم کیا تھا ان میں اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب بھی شامل تھا جس کے تقرری و تبادلے کو ایس جی اینڈ ڈی کے سپرد کردکے ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کو ایڈیشنل سیکرٹری کوآرڈینیشن کے ماتحت کردیا تھا۔یہ ایک ایسے وقت میں ہوا تھا جب خبریں آرہی تھیں کہ پنجاب بھر میں اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب نے میگا کرپشن سکینڈل میں ملوث پنجاب کی بیوروکریسی کے بڑے بڑے طاقتور افسران کے گرد گھیرا تنگ کردیاہے اور اس حوالے سے چند بڑی گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں ۔کچھ مقدمات میں تو ٹرائل آخری مراحل میں چل رہے تھے۔کہا جارہا ہے ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب نے سی ایم ہاﺅس سے آنےوالے دباﺅ کو مسترد کردیا تھا اور آخری بار ان کو 16فروری کو لاہور میں تنبیہ کی گئی لیکن جب انہوں نے ماننے سے انکار کیا تو انھیں سزا کے طور پہ او ایس ڈی بنادیاگیا۔محکمہ اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب میں گوہر نفیس کا بطور ڈی جی تقرری کا عرصہ ڈھائی سال کا بنتا ہے اور ان ڈھائی سالوں میں اس محکمے پہ عوام کا اعتماد بڑھا اور کئی مگرمچھوں کو احتساب کے کہٹرے میں کھڑا ہونا پڑا۔گوہر نفیس بھٹہ کا تعلق ملتان سے ہے اور انکے دور میں ملتان میں صوبائی اور بلدیاتی اداروں کے اندر کرپشن کے بڑے بڑے گھپلے سامنے آئے اور بہت طاقتور مگر مافیا طرز کے لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوئے۔

ان طاقتوروں کی انکوائریاں اور مقدمات بھی آخری مراحل سے گزر رہی تھیں جب ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کو ہٹاکر او ایس ڈی بنایا گیا ۔ایک ایسا سرکاری افسر جس نے بلاامتیاز کرپشن کی تحقیقات پر اصرار کیا ہو اسے بجائے اس کے کہ اور کسی اہم ادارے کا سربراہ بنایا جاتا، اسے تعریفی سند دی جاتی لیکن الٹا اسے او ایس ڈی بنادیا گیا،اس سے اینٹی کرپشن کے محکمے کے ایماندار افسران میں بد دلی پھیلے گی۔یہاں پہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں جب اتنی اہم انکوائریاں چل رہی ہیں اس موقع پہ اس محکمے کو مستقل ڈی جی فراہم کرنے کی ضرورت تھی تب عارضی تقرری کرنا بھیقابل غورہے۔رائے منظور حسین ناصر کے پاس محکمہ ٹرانسپورٹ جیسا اہم اور مصروف محکمہ ہے ان کو اس کا عارضی چارج دینے سے یا تو اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کا محکمہ نظر انداز ہوگا یا محکمہ ٹرانسپورٹ کا کام متاثر ہوگا۔رائے منظور حسین ناصر پنجاب سول سروس افسران کی یونین کے سابق سربراہ ہیں جنھوں نے 2011 میں نواز لیگ کی صوبائی حکومت کو جمہوری آمریت کی کلاسیکل مثال قرار دیا تھا اور فرض شناس افسران کو فرائض کی ادائیگی پہ انعام کی بجائے تبادلے کی سزا کو روایت بنانے کا الزام عاید کیا تھا۔آج ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کے تبادلے کو بھی اسی نظر سے دیکھا جارہا ہے اور خود پنجاب بیوروکریسی کے افسران بھی شکوہ کناں ہیں،یہ بات درست ہے کہ افسران کی تقرری اور تبادلے معمول ہوتے ہیں اور کوئی ایک فرد کسی ادارے کےلئے ناگزیر نہیں ہوا کرتالیکن جب معمول کی روش سے ہٹ کر تبادلے کئے جاتے ہیں تو سوال کھڑے ہوتے ہیں،رائے منظور حسین ناصر سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ جتنے دن /ماہ اس عہدے پررہیں گے وہ کسی انکوائری یا مقدمے پہ اثر انداز نہیں ہوں گے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں