بزدار کی سابق ڈی جی انٹی کرپشن کو وارننگ - Baithak News

بزدار کی سابق ڈی جی انٹی کرپشن کو وارننگ

ملتان (سپیشل انوسٹی گیشن سیل)پی ایم ایس گریڈ بیس پولیس کیڈر سے محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب اسٹبلشمنٹ میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)تعینات ہونے والے گوہر نفیس کو افسر بکار خاص/سپیشل ڈیوٹی لگائے جانے اور محکمے میں مستقل ڈی جی اینٹی کرپشن تعینات نہ کئے جانے پر چہ مگویوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق 19ستمبر 2020 کو پی ایس ایل میگا کرپشن کیس سامنے آنے پر کمشنر ملتان کے عہدے سے ہٹاکر او ایس ڈی بنائے جانے والے افسر شان الحق ، انکی جگہ تعینات ہونے والے کمشنر جاوید اختر اور لاہور میں تعینات ایک فوڈ کنٹرولر سمیت پنجاب بیوروکریسی کے درجنوں افسران اپنے سیاسی اور بیوروکریٹک ذرائع سے چیف منسٹر عثمان بزدار کو نفیس گوہر کی بطور ڈی جی اینٹی کرپشن عہدے سے ہٹانے کےلئے قائل کرتے رہے،ملتان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی مبینہ طور پر گوہر نفیس سے اس وقت ناراض ہوگئے جب انھوں نے ان کے منظور نظر سی او ہیڈکوارٹر ملتان سرکل سید کوثر عباس شاہ کو موجودہ ڈائریکٹر ملتان ریجن حیدرعباس وٹو کی طرف سے ہٹانے کی سفارش کیے جانے پہ ہٹاکر کلوز ٹو لاہور ہیڈ آفس کردیا تھا جبکہ وہ ایک سابق ڈائریکٹر جنرل ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف تحقیقات شروع کئے جانے پر بھی خوش نہیں تھے۔ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر گوہر نفیس پر سخت دباﺅ تھا کہ وہ نیشنل ہائی وے اور ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس آفس کی لینڈ ایکوزیشن میں کی گئی کرپشن تحقیقات کو مسلم لیگ نواز کے دور تک محدود رکھیں ان پر یہ بھی دباﺅ تھا کہ وہ واسا ملتان ، ایم ڈی اے ملتان، میٹروکارپوریشن بس کمپنی ملتان، ویسٹ منیجمنٹ کمپنی ملتان میں کرپشن تحقیقات اگست 2018سے آگے نہ لیکر جائیں ، پنجاب کے 8اضلاع میں 2019 میں گندم کی ترسیل میں میگا کرپشن کیس کی انکوائری کو ابتدائی سطح پہ ڈراپ کردیں جبکہ پنجاب بھر میں غیرقانونی طور پہ منظور شدہ ٹاﺅنوں کی تحقیقات بند کردیں تاہم گوہر نفیس ایسا کرنے سے انکاری تھے جس کی زد میں مبینہ طور پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار ، پی ٹی آئی کے کئی وزرا، مشیر ، اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے عزیز اور نور نظر بیوروکریٹ اور سرکاری ملازم بھی آرہے تھے۔ ایک سابق کمشنر ملتان گوہر نفیس پرسٹی ہاﺅسنگ سکیم کے معاملے پر انکوائری شروع کرانے کی وجہ سے شدید ناراض تھا گوہر نفیس نے لینڈ ایکوزیشن فراڈ کی تحقیقات وسیع کردی تھیں جس میں اب تک 97 کروڑ روپے کا فراڈ ضلع خانیوال، وہاڑی، بہارلنگر ، بہاولپور، لودھراں اور ملتان میں سامنے آچکا تھا اور مزید گرفتاریاں ممکن تھیں۔

گزشتہ دنوں جب وزیراعظم پاکستان عمران خان لاہورآئے تھے تو اراکین قومی اسمبلی اور چند ایک وزرا نے ان سے ملاقات کی اور ان پہ زور دیا کہ سابق ڈی جی نفیس گوہر کو فارغ کیا جائے اور جب تک متعلقہ انکوائریاں ڈسپوز آف نہ ہوں تب تک مستقل ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب تعینات نہ کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس وقت سیاسی حالات کے پیش نظر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ وہ گوہر نفیس سے ملاقات کرکے درمیانی راہ نکالیں اور کوشش کریں انہی سے مطلوبہ کام نکلوالیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر سردار عثمان بزدار نے گوہر نفیس سے ایک مشترکہ دوست کے گھر ملاقات کی جہاں گوہر نفیس نے بالکل بھی لچک دکھانے سے انکار کیا تو ان کو متنبیہ کیا گیا کہ وہ سوچ لیں ان کے پاس ایک ہفتہ ہیں۔یہ ملاقات 16فروری کو ہوئی اور سترہ فروری کو بیٹھک نیوز نے اس کا احوال شائع کیا اور بتایا کہ ڈی جی اینٹی کرپشن کو فارغ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اور 24 فروری کو انہیں فارغ کرکے ڈی جی اینٹی کرپشن کا اضافی چارج صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ منظور حسین کے حوالے کردیا گیا ہے جو سی ایم پنجاب سردار عثمان بزدار کے مقرب خاص سمجھے جاتے ہیں۔میگا کرپشن کیسز میں ملوث بیوروکریٹس اور ٹھیکے دار مافیا میں اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں