بلوچ رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ حادثے میں جاں بحق - Baithak News

بلوچ رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ حادثے میں جاں بحق

جلال پورپیر والا(بیٹھک نیوز) جلالپور پیر والاموٹر وے انٹر چینج کے قریب کار اور ٹرالر میں تصادم سے بلوچ رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ جاں بحق اور ان کے دو ساتھی زخمی ہو گئے، ضروری کاروائی کے بعد ان کی میت کوئٹہ روانہ کر دی گئی۔ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں انکے ساتھ کار سوار سہیل لطیف اور عبدالشکور شدید زخمی ہوئے، ابتدائی طور پر ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ کو زخمی حالت میں ٹی ایچ کیو ہسپتال جلالپور پیر والہ منتقل کیا گیا تاہم حالت تشویشناک ہونے پر ڈاکٹرز نے بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کرنے کا کہا، جسکے بعد ان کو ریسکیو ایمبولینس کے ذریعے بہاولپور کے جایا جا رہا تھا لیکن وہ لودھراں کے قریب دم توڑ گئے، ضروری کارروائی کے بعد انکی میت کو کوئٹہ روانہ کر دیاگیا۔مرحوم کی عمر76برس تھی۔ڈاکٹر عبدالحئی جمعہ کو حیدرآباد سے بہاولپور جارہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی صدر تھے جبکہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پہلے چیئرمین رہے۔مرحوم کے بیٹے چنگیز چھلگری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی میت بہاولپور سے انکے آبائی علاقے بھاگ کےلئے روانہ کر دی گئی ہے۔انکی نماز جنازہ آج ادا کی جائےگی، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ رکن قومی اسمبلی، سینیٹر، بلوچستان نیشنل موومنٹ اور نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے۔
ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کے انتقال پر وزیراعلی بلوچستان، چیئرمین سینیٹ اورسابق صدرآصف زرداری،شہباز شریف،گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماﺅں سے اظہار افسوس کیا ،نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر مالک بلوچ ،وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو ، وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی،حلیم عادل شیخ نے اظہار تعزیت کیا ، انکا کہنا تھا کہ کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ بلوچستان کی بنیاد تھے۔سردار عثمان بزدار نے بزرگ سیاستدان ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ کے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے کے واقعے پر اظہار افسوس کیاہے۔انکاکہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی حادثے میں ناگہانی وفات پر صدمہ ہوا، اللہ تعالی مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ یکم فروری 1946کو بولان کے علاقے بھاگ میں پیدا ہوئے،انہوں نے ڈا میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا، وہ پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے تاہم زیادہ تر سیاست میں سرگرم رہے۔ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا اور بی ایس او کے پہلے چیئرمین رہے، وہ 1970 کے عام انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ بلوچستان نیشنل موومنٹ اور نیشنل پارٹی سے وابستہ اور سینیٹ کے رکن بھی رہے۔ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کچھ عرصہ قبل نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی تھی۔ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ قوم پرست سیاست دان اور شعلہ بیاں مقرر تھے، انہیں عوامی پذیرائی حاصل تھی۔انہیں 2016میں آرٹس کونسل کی جانب سے جالب امن ایوارڈ بھی دیا گیا۔
صدر پونم سرائیکستان یونٹ جی آر گرمانینے گہرے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرعبدالحی بلوچ بلوچ محب وطن اور نڈربے باک لیڈرتھے،ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ کی وفات سے ملک ایک عظیم محب وطن سیاستدان سے محروم ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ درویش صفت اور انتہا سادہ شخصیت کے مالک تھے۔انکی وفات سے پیداہونے والاخلاکبھی پرنہیں ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ ذوالفقارعلی بھٹو کی اسمبلی کے ایم این اے بھی رہے اور انہی کئی بارنگران وزیراعظم بنائے جانے کی آفرز بھی ہویں لیکن وہ اصول پسنداورجمہوریت پسندسیاستدان تھے انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی اورجابرکے سامنے کلمہ حق کا علم بلندرکھا اللہ انکے درجات بلندفرمائے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں