بڑھتی آبادی اور کم ہوتے وسائل - Baithak News

بڑھتی آبادی اور کم ہوتے وسائل

نوید نقوی

پاکستان کو اگر دنیا کے نقشے پر تلاش کیا جائے تو یہ اپنے محل وقوع کے لحاظ سے ایک ایسی جگہ پر قائم ہے جو اس کو خاص اہمیت دلاتی ہے۔ پاکستان پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو مجموعی طور پر یہ ایک طاقتور مسلمان ایٹمی ملک ہے جس کے پاس ایک جدید سریع الحرکت فوج ہے۔ یہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو جنگی ہتھیار بر آ مد کرتا ہے اور اس کے پاس ایک معیاری اور قابل بھروسہ جنگی ٹیکنالوجی ہے۔یہ واحد ملک ہے جو امریکہ کا دیرینہ اتحادی رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ امریکہ کے حریف اور ابھرتی ہوئی ورلڈ پاور چین کے ساتھ بھی برادرانہ تعلقات رکھتا ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں ہر موسم ہے اور یہ ایک زرعی ملک کی حیثیت کا حامل ملک ہے۔اس کا کل رقبہ 796096 مربع کلومیٹر ہے اور یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا میں32 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آبادی بڑھنے کی رفتار کو محدود کرنے کی حکومتی کوششیں باوجوہ کامیاب نہیں ہو سکی ہیں جس کا خمیازہ اس طرح بھگتنا پڑ رہا ہے کہ وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور عوام کی اکثریت کو اس بات کی سنگینی کا احساس نہیں ہے اور نہ ہی اس بات کی آگاہی بہم پہنچائی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ نئے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی آبادی 14 نومبر کو آٹھ ارب کا ہندسہ عبور کر گئی ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں مردوں کی آبادی تین ارب ستانوے کروڑ چھیاسٹھ لاکھ اڑتالیس ہزار ہے، جبکہ خواتین کی آبادی تین ارب ترانوے کروڑ چھبیس لاکھ سینتالیس ہزار ہے، اس طرح دنیا میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی آبادی چوالیس کروڑ سینتیس لاکھ ستر ہزار کم ہے۔
دنیا کی آبادی2030 میں 8.5ارب اور سنہ 2100میں 10.4ارب ہو جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ چند سال قبل برطانوی میگزین ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے پچاس نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں سے پوچھا تھا، بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ کون سا ہے؟جواب تھا: تیزی سے بڑھتی آبادی اور ماحولیاتی تنزلی ۔دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں سے تقریباً تین فیصد پاکستان کی آبادی پر مشتمل ہے۔پاکستان دنیا کے ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جو 2050 تک دنیا میں بڑھنے والی کل آبادی میں پچاس فیصد حصہ ڈالیں گے۔پاکستان کے علاوہ ان ممالک میں کانگو، مصر، ایتھوپیا، انڈیا، نائیجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں۔اس وقت آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ چین، انڈیا، امریکہ اور انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ پاکستان کی آبادی تقریباً 22 کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔ جبکہ ہمارا پڑوسی بھارت 2023 میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر چین سے آگے نکل جائے گا۔ دونوں ممالک کی آبادی الگ الگ اس سال ایک ارب چالیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا کی نسبت پاکستان میں آبادی کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےجہاں پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی ۔پاکستان میں یہی شرح 1.9فیصد ریکارڈ کی گئی۔پاکستان میں آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور زرعی زمینوں پر تیزی سے نام نہاد ہاؤسنگ سکیموں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کا نقصان ملک کو غذائی پیداوار کی کمی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے جن زمینوں پر یہ نام نہاد ہاؤسنگ سکیمیں بنائی جاتی ہیں وہ انتہائی زرخیز خطے میں ہونے کی وجہ سے زرعی اراضی میں شمار ہوتی ہیں۔جس شرح سے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے کیا یہ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور کیا مستقبل میں پاکستان میں اتنی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل بھی دستیاب ہوں گےاور کیا حکومتیں اتنا بڑی آبادی کو مناسب صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات دے پائیں گی؟ ماہرین کے مطابق اس شرح سے آبادی میں اضافہ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور مستقبل میں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اس لحاظ سے خطرہ ہے کیونکہ آبادی اور وسائل کے درمیان توازن نہیں،تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے قدرتی اور معدنی وسائل کم ہو رہے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال پانی کی کمی ہے۔ اسی طرح تیل اور گیس جیسے دیگر وسائل میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو توانائی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ ملک کا انفراسٹرکچر بھی آبادی کے حجم کے لحاظ سے ناکافی ہے اور اتنی بڑی آبادی کے لیے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی مناسب تعداد مہیا کرنا کسی بھی حکومت کے لیے بے حد مشکل ہےہرسال تقریباً 20لاکھ نوجوان پاکستان کی جاب مارکیٹ میں شامل ہو رہے ہیں اور یہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ہی نتیجہ ہے۔
اگر پاکستان کی معیشت ہر سال چھ سے آٹھ فیصد کے حساب سے بڑھے تب ہی حکومت اتنی نوکریاں پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے پاکستانی فیصلہ سازوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں،مستقبل میں اتنی بڑی آبادی کے لیے خوراک، پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا موجودہ اقتصادی بحرانی صورتحال میں تو بڑی دور کی بات ہے، ایسا کرنا تو تب بھی ممکن نہیں ہو گا جب اگر مثال کے طور پر پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد سے بڑھ کر 20بھی ہو جائے۔ اس کے ساتھ پاکستان کے باقی وسائل جیسے پانی، توانائی، اور شہروں میں دوسری بنیادی ضروریات پر آبادی کا بے تحاشا بوجھ پڑ رہا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے، جس کی قیمت ماحولیاتی تباہی اور تنزلی اور خوراک کے بحران کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔اس وقت وسائل بالکل نہیں بڑھ رہے۔ بحیثیت ذمہ دار شہری ہمارا فرض ہے کہ آبادی کے نقصانات کےعوام کو آگاہی دینے کےلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے۔ ملک میں رہنے والے ہر شخص کو اپنے خاندان کے حقوق کا اندازہ ہونا چاہیے اور ان حقوق کی ادائیگی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہونا چاہیے جب ہر شخص کو اپنی ذمہ داریوں کا اندازہ ہو گا تو وہ اپنے خاندان کے حجم میں توازن لائے گا۔ہمیں مجموعی طور پر اپنی آبادی کے اضافے کو روکنے کی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اپنے شہروں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شہروں کو بہتر کرنا ہو گا اور ان کو اس طرح کا بنانا ہوگا کہ یہ نہ صرف معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں بلکہ بڑھتی آبادی کے دباؤ کو بھی برداشت کر سکیں۔آبادی میں توازن کے حصول ککیلئے ہر شخص کی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات اور معلومات تک رسائی بہت اہم ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور سہولیات کو فروغ دےخاص طور پر ملک کے تمام طبی مراکز سے خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے
اس کے ساتھ ساتھ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان میں علما اور منبر کا لوگوں کی ذہن سازی میں بہت بڑا حصہ ہے اور علما کو بڑھتی آبادی کے دباؤ کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ماں اور بچے کی صحت میں بہتری کے لیے بچوں کے درمیان مناسب وقفے کی ضرورت پر علما کرام میں اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی تشہیر کی جائے اور یہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں وفاق اور صوبائی سطح پر جامع پاپولیشن پالیسی اور پروگرام روڈ میپ موجود ہے۔ماہرین کے مطابق اس بات کی ضرورت ہے کہ ان پالیسیوں اور پروگرامز پر باقی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر عملدرآمد شروع کیا جائے کیونکہ جس تیزی سے پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور جس طرح کے پاکستان کے معاشی حالات ہیں، پاکستان کے لیے اپنی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنا آنے والے دنوں میں مزید مشکل ہو جائے گا۔بے ہنگم آبادی کا پھیلتا ہوا سیلاب پورے سماجی ڈھانچے کو بہا کر لے جائے گا۔ اس کے سامنے ابھی سے کوئی بند نہ باندھا گیا تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔ پھر یہ مسئلہ ہم سے بالکل حل نہیں ہو پائے گا۔ اس لیے آبادی میں تیز رفتار اضافے کے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیئے۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں