جا معیہ ز کریا: ایل ایل بی امتحان میں بوگس رجسٹریشن گھپلے، بارز کی حمایت حاصل، معاملہ سینٹ میں پھنچا دیا - Baithak News

جا معیہ ز کریا: ایل ایل بی امتحان میں بوگس رجسٹریشن گھپلے، بارز کی حمایت حاصل، معاملہ سینٹ میں پھنچا دیا

ملتان ( خصوصی رپورٹر ) ایل ایل بی پارٹ فرسٹ پہلا سالانہ امتحان 2019 کے امتحان میں بوگس رجسٹریشن کے ذریعے تقریباً 6 کروڑ کی کرپشن کا انکشاف، ٹاپر لاءکالج ملتان، محمڈن لاءکالج ملتان، لِمٹ لاءکالج ساہیوال، لیڈز یونیورسل لاءکالج خانیوال، محمڈن لاءکالج ساہیوال اور نور لاءکالج ملتان کے طلبہ کی لسٹ “بیٹھک” کو موصول، 33 لاءکالجز غیر الحاق شدہ نکلے، ٹاپر لاءکالج ملتان نے 40 لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا، مبینہ طور پر ایمپلائز یونین کا جنرل سیکرٹری مدثر مشتاق، خالد ککرا اور ڈیلنگ کلرک طارق اعوان رجسٹرار کی آشیر باد سے کرپشن ثابت ہونے کے باوجود مال پانی میں مصروف، لاءسیکنڈل میں ملوث یونیورسٹی ملازمین کے سہولت کار اور رٹ پٹیشن کے ماہر، ٹاپرلاءکالج کے مالک فلک شیر وٹو بارے تفصیلات بھی سامنے آ گئیں۔یونین صدر ملک صفدر کے قریبی ساتھی بھی مبینہ طور پر کھلے عام کرپشن میں مصروف، وائس چانسلر خاموش، تفصیلات کے مطابق بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان گزشتہ کئی برسوں سے نہ صرف شدید مالی بحران کا شکار ہے بلکہ اس کا بجٹ بھی محدود ہے ذرائع کے مطابق کرپٹ مافیا بلا خوف و خطر جیبیں بھرنے میں مصروف ہے جس کی مبینہ طور پر سرپرستی رجسٹرار صہیب راشد خان اور ان کے پروردہ یونین لیڈر ملک صفدر حسین اور مدثر مشتاق کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہی عناصر دیگر شعبوں کی طرح رجسٹریشن برانچ میں سرکاری خزانے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے والوں کی سرپرستی بھی رہے ہیں اور اس سلسلے میں ٹاپر لاء کالج ملتان کے درجنوں طلبہ کی جعلی رجسٹریشن جسے سابقہ سیشن 2015 میں جعلسازی سے داخلے ظاہر کئے گئے جنکے رولنمبروں کی لسٹ روزنامہ بیٹھک کو موصول ہو چکی ہے جس کے مطابق رولنمبر 5133،تا 5136، 5143 تا 5144، 5207 تا5212، 5228، 5229 ، 5233، 5237، 5240، 5241، 5249، 5250، 5255، 527، 5280، 5278، 5288، 5317، 5334، 5318، 5319، 5334، 5336، 5354، 5357، 5358، 5384 اور رولنمبر 5385 شامل ہیں جسے یونین لیڈر کے ذریعے ٹاپر لاءکالج کے مالک فلک شیر وٹو یونیورسٹی کو 40 لاکھ روپے سے زائد کا ٹیکہ لگایا، کنٹرولر آفس کے ایک سینئر کلرک کے مطابق 50 روپے یومیہ جرمانہ فی طالبعلم فیس شیڈول کے مطابق وصول کیا جائے تو ایک کروڑ روپے کی رقم یونیورسٹی کو حاصل ہو سکتی ہے، اس کرپشن کو چھپانے کےلئے یونین لیڈرز کرپٹ مافیا کے ساتھ مل کر رٹ پٹیشن کے ذریعے سٹے لےکر ہر بار بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، دوسری طرف جامعہ زکریا سے لاکھوں روپے تنخواہیں و دیگر مراعات حاصل کرنے والے لیگل ایڈوائزر بھی کمزور مو ¿قف یا خاموش رہ کر ان کی معاونت کرتے ہیں، علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈیلی ویجز ملازم زاہد اور میاں ساجد اے ڈی پی/ اے ڈی پی میں سبجیکٹ تبدیل کروانے کی فیس جو کہ 2 ہزار روپے اور فیکلٹی تبدیل کرنے کی فیس 4 ہزار روپے مقرر ہے، کنٹرولر آفس کی بی اے/ بی ایس سی برانچ میں تعینات ہیں اور مزکورہ کلرک کی ملی بھگت سے فیسیں بنک میں جمع کرانے کے بجائے دستی وصول کر کے خود بھی کھا رہے ہیں اور نام نہاد یونین لیڈرز کو بھی برابر حصہ دیا جا رہا ہے، ایل ایل بی کروڑوں روپے کی کرپشن کے مبینہ طور پر مرکزی کردار مدثر مشتاق جسے منظم پلاننگ کے ذریعے ایمپلائز یونین کا جنرل سیکرٹری بنوا گیا تھا کو تا حال کنٹرولر آفس سے تبدیل یا معطل نہ کیا جا سکا ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی مکمل آشیر باد حاصل ہے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک صفدر گروپ کو الیکشن جتوانے کا مقصد ہی کرپشن پر پردہ ڈالنا اور ان سے ایک پریشر گروپ کے طور پر کام لینا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رجسٹرار اور ملک صفدر گروپ اس وقت جامعہ زکریا کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں اور یونیورسٹی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں ذرائع کے مطابق موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کو ملتان کے ایک وفاقی وزیر نے رجسٹرار صہیب راشد خان کےلئے سفارش کی ہوئی ہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وائس چانسلر کرپٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے روزنامہ ” بیٹھک ” کو اپنا مو ¿قف دیتےبوئے کہا کہ یہ سراسر غلط الزام ہے کہ میں انکے خلاف کارروائی نہیں کر رہا ، میں نے اس کی مکمل انکوائری کرائی اور سینڈیکیٹ میں انکوائری رپورٹ پیش کر دی جس کا پراسس جاری ہے اس کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف پیڈا ایکٹ لگے گا اور وہ سخت سزا سے نہیں بچ سکیں گے، انہوں نے کہا کہ مرکزی کرداروں کو معطل کرنے کے بجائے ان سے کام لیا جا رہا ہے اگر ان کو معطل کر دیا جائے تو وہ گھر بیٹھ کر مفت تنخواہیں وصول کریں گے۔ زکریا یونیورسٹی ایل ایل بی سیکنڈل نے نہ صرف خطے کی سب سے بڑی علمی درسگاہ کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان پہنچایا بلکہ یونیورسٹی کی ساکھ کو بھی بری طرح مجروح کیا ہے، لاءسیکنڈل سے راتوں رات کورڑ پتی بننے والے کرپٹ مافیا نے اب طلبہ کے مستقبل کو جواز بنا کر مختلف بار ایسو سی ایشنز کی حمایت کے علاوہ اس معاملے کو ایک سینیٹر کے ذریعے سینٹ میں بھی پہنچا دیا ہے، ذرائع کے مطابق چند دن قبل گورنر پنجاب کے نمائندوں نے اس بارے ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے، اس سے قبل گورنر پنجاب و چانسلر کو اس سیکنڈل بارے یونیورسٹی انتظامیہ تحریری طور پرگول مول جواب دے چکی ہے ، جامعہ زکریا کے سینئر اساتذہ، طلبہ اور جنوبی پنجاب کے تعلیمی حلقوں نے وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب سے فوری نوٹس لےکر اس میں ملوث کرپٹ عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں