حجاب ہسٹیریا: سیکولرازم کا لفظ آئین میں اپنی افادیت کھوچکا ہے - Baithak News

حجاب ہسٹیریا: سیکولرازم کا لفظ آئین میں اپنی افادیت کھوچکا ہے

ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے بعض تعلیمی اداروں میں حجاب پہ پابندی کے بعد ہندوستان میں خود لبرل اور لیفٹ سرکل میں ایک واضح تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے اور خود سیکولر ازم کی اصطلاح کے معانی پہ شدید اختلاف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک حلقہ حجاب پہ پابندی کو مسلمانوں سے امتیازی سلوک قرار دے کر اسے ہندوستان کے سیکولر آئین کی روح کے منافی قرار دے رہا ہے ۔ دوسرا حلقہ اس طرح کی پابندی کو جائز قرار دیکر ہل من مزید کے مصداق سرکاری سطح پہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ کررہا ہے۔ ایک تیسرا حلقہ بھی ہے جس سے ہمارے ہاں کم واقفیت ہے اور یہ وہ ہے جس کا خیال یہ ہے کہ ریاست ہندو¿ پرسنل لاز میں سے تو جسے چاہے رجعتی قرار دے کر پابندی لگا دیتی ہے لیکن مسلمان، کرسچن اور سکھوں کے پرسنل لاز کو تحفظ دیتی ہے۔یہ سرکل وہ ہے جو سیکولر ازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو ریاستی سطح پہ نافذ کرنا چاہتی ہے اور ریاستی سطح پہ مذہب اور ریاست کے درمیان مکمل طور پہ علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے یا ہندوستانی آئین سے لفظ سیکولر ہی کو نکالنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ راہول شیو شنکر ہندوستان کے معروف انگریزی روزنامہ “دا ٹائمز آف انڈیا” کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور ان کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ مودی سرکار کے حامی ہیں اور سیکولر ازم کے نام پہ ہندوتوا کی مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور ایسا ہی خیال ٹائمز آف انڈیا کے مالکان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔ ہندو اربن مڈل کلاس اور ہندو¿ سرمایہ داروں کے ایک بڑے سیکشن کا رجحان ہندو¿ فاشزم کی طرف ہے جیسے وہاں مسلمانوں اربن مڈل کلاس اور مسلم سرمایہ داروں کا ایک سیکشن مسلم بنیاد پرستانہ فاشزم کی طرف جھکاو¿ رکھتا ہے۔
جنوری 2019 میں دو سرگرم خواتین صابریمالا مندر کی اندرونی مقدس جگہ کوعبور کیا اور وہ عورتوں کے لیے منع کردیے گئے مقام تک پہنچ گئیں۔ مندر کے پروہتوں نے بادل نخواستہ عورتوں کو مندر میں داخلے کی اجازت اس وقت دی جب سپریم کورٹ نے بالغ عورتوں کے مندر میں داخلے پہ مذہبی پابندی کو رد کردیا تھا۔
عورتوں کے مندر میں داخلے کو ہندو¿ مردوں کے استحقاق کے نمایاں قلعوں میں سے ایک کے خلاف بغاوت کے طور پہ منایا گیا۔ فیمنسٹ، انسانی حقوق کے رضاکار اور لبرل پابندی کے خلاف کھڑی ہونے والی ہندو¿عورتوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ مساوات کے حق کو برتری ملی تھی۔
اس وقت یہ فرض کرلیا گیا تھا کہ عدالت نے خود ہی ایک لائن کھینچ دی ہے اور کرناٹک حکومت کی جانب سے کمرہ جماعت میں مذہبی علامتوں کے پہننے پہ پابندی لگائے جانے کے حکم کو مذہبی تفریق اور صنفی مساوات بڑھانے کے لیے تمام اطراف سے حمایت ملے گی۔
لیکن صابریمالا واقع میں دل کھول کر عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جو حمایت کی گئی وہ اس اخلاقی اشعتال کے بالکل متضاد چیز تھی جو اب لبرل ازم کے قعلوں سے پھیل رہا ہے۔
صابریمالا بارے فیصلے کے دوران جنھوں نے مذہبی رجعت پسندانہ احکام کے خلاف جلوس نکالے تھے وہ اب اسلامی بنیاد پرستوں کے لہجے میں بول رہے ہیں جبکہ اسلامی بنیاد پرستوں کو اس بات کی کم ہی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ انہوں نے طالبان کی طرز پہ مخصوص لباس کی پابندی نہ کرنے والی خواتین کو سزائیں سنائی تھیں۔؟
جو مذہبی رسوم آئینی اخلاقیات کے امتحان میں کامیاب نہیں ہوتیں ان کو الگ الگ پیمانے پرکیوں ناپا جارہا ہے؟ کیا ایک مذہب کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جارہا ہے؟
مثالی اعتبار سے ایک ایسی ریاست جو سیکولر ازم کے اصول سے وابستہ ہے اسے تمام مذاہب سے مساوی فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔ جیسے بعض ترقی پسند مغربی لبرل جمہوریاو¿ں میں برتا جاتا ہے۔
مہاتما گاندھی اور نہرو جیسے آزادی سے پہلے کے بلند قامت لوگ مغرب کے کٹّر سیکولر ازم سے تھوڑے محتاط تھے۔ اس کی بنیادی وجہ محمد اقبال جیسے ان کے ہم عصر بلند قامت مسلمان تھے جو جمہوریت کے بھیس میں ہندو¿ اشرافیہ کے تحت رہنے سے خوفزدہ تھے۔ گاندھی اور نہرو بہت پہلے بھانپ گئے تھے کہ مسلمان علیحدگی پسندوں کو رام ایک ہی صورت میں کیا جاسکتا ہے جب ہندوستانی ریاست کو مذہب سے ملنسار ہو اور اسی سے ان کے اختراع کردہ نیشنلزم کی تشفی ہوسکتی تھی۔ قانونی تکثریت پسندی کا مطلب یکسانیت / یک نوعی نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا گیا اور اسی سے آگے راستا روشن ہوگا۔ لفظ “سیکولر” کو آئین کے دیباچے میں شامل بھی نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تو بہت بعد میں اس میں شامل کیا گیا۔
آزادی کے بعد ہندوستانی ریاست نے “مثبت سیکولر ازم” پہ عمل کیا تاکہ سب کے مذہبی حقوق برقرار رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی ریاست مذہب مخالف نہیں ہے اور نہ ہی یہ مکمل طور پہ مذہب اور ریاشست کو بالکل ہی الگ الگ رکھتی ہے۔
لیکن گزرے سالوں میں ریاست نے یکسانیت کو برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں ہندو¿ حق کی بجائے عدالتوں نے پرسنل لاز اور بنیادی حقوق جن کی ضمانت آئین دیتا ہے کے درمیان اختلاف کے ابھرنے کے بعد ان کے درمیان تصفیہ کرتے ہوئے یکسانیت کے حق میں دلیل دینے میں پہل کی ہے۔
بدقسمتی سے ایسی مداخلتوں سے عدم توازن رہا ہے۔ جبکہ بہت سارے ہندو¿ اور مسیحی پرسنل قوانین (سرکاری سطح پہ) منضبط ہوئے ہیں ، لیکن یہ مسلمان پرسنل لاز کے لیے درست نہیں ہے۔ وجعت پسند مسلمان رسوم و رواج اکثر ریاست کی جانچ پڑتال سے بچ گئے۔ تعد ازواج، وراثبت ، جائے داد کے قوانین یا بچوں کی تحویل جیسے قوانین صاف طور پہ مسلمان مردوں کی حمایت میں جاتے ہیں اور ان پہ مردوں کا ہی غلبہ ہے۔
ایسے ہی 1980ءکی دہائی کے وسط میں سپریم کورٹ نے شاہ بانو طلاق کے حق مییں فیصلہ دیا جو مسلم رواج کے مطابق غیرشرعی سمجھا جاتا تھا اور پارلیمنٹ نے اس فیصلے کو ختم کرنے کے لیے ایک قانون بناکر مسلم رواج کو تحفظ دے دیا۔ پرسنل لاز سے ہٹ کر بھی ریاست کی امتیازی مداخلتوں کی دوسری مثالی بھی موجود ہیں۔
اگرچہ آئین کا آرٹیکل 26 سب کو اپنے مذہبی امور کے انتظام کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تقریباً تمام ہندو¿ مندروں کو ریاستی حکومتیں قومی تحویل میں لے چکی ہیں۔ اس کے بالکل برعکس مسلمان ، مسیحی اور سکھ اپنی عبادت گاہوں کا انتظام خود کرتے ہیں ۔ شاید ریاست کو صرف ہندو¿ں پہ بھروسہ نہیں ہے۔
تاہم انصاف کے ترازو ایک مذہب کے خلاف جھکے ہوئے ہیں ۔ اب ایک نئے پائیدار حل کی تلاش کی دوبارہ سے بات ہورہی ہے۔
اسلام میں حجاب کی مرکزیت سے متعلق سماعتوں کے پس منظر میں کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان اور اترکھنڈ کے چیف منسٹر پشکر دھامی نے عوامی سطح پہ یکساں سول کوڈ پہ زور دینا شروع کیا ہے۔
حجاب پہ سخت گیر موقف کیا ہندوستان میں پھر ریاست اور مذہب کے درمیان واضح علیحدگی کے لیے مرحلے کا پیش خیمہ ہے؟ اگرچہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ یو سی سی سطح پہ مشاورت سے کوئی لائحہ عمل بنانے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں لیکن مودی حکومپ کو اس سمت میں کم از کم کوئی تو قدم اٹھانا ہوگا۔
اس کا آغاز آئین سے لفظ “سیکولر” ہٹاکر کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ محض ایک ایسا عنوان ہے جس کا مقصد سوائے آرائش کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں