حکومتوں کا موازنہ ( بار روم رانا امجد علی امجد ) - Baithak News

حکومتوں کا موازنہ ( بار روم رانا امجد علی امجد )

آج وطن عزیز میں غریب سے لے کر کروڑ پتی تک ”مہنگائی ہے مہنگائی ہے“ کی دہائی دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ 2008ءمیں جب سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیر اعظم حلف لیا تو ملک میں جس طرح کے حالات تھے ان سے نہیں لگتا تھا کہ ملک بہتری کی طرف جائے گا، کیونکہ بم دھماکوں اور دہشتگردی نے معیشت کا بیڑا غرق کردیا تھا اوپر سے عالمی سطح پر معاشی بحران نے امریکا جیسے ملک میں بھی بے روزگاری بڑھا دی تھی۔ یوسف رضا گیلانی نے جب اقتدار سنبھالا تو ان کے سامنے ایک جنگ زدہ ملک اور تقسیم زدہ قوم تھی۔ خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا کے علاقوں میں ریاست پاکستان کی رٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک عروج پر تھی، کراچی میں شام ہوتے ہی سڑکیں خالی ہوجاتی تھیں، صنعتکار یکے بعد دیگر ملک سے اپنا سرمایہ باہر لے جارہے تھے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 150ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں۔ پھر 2010ءکے سیلاب اور 2011ءکی برسات نے جو تباہی پھیلائی وہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ زراعت تباہ ہوگئی، لوگوں کو ہجرت کرنی پڑی،ملک کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، یہ وہ حالات تھے جن میں یوسف رضا گیلانی ہمارے وزیر اعظم تھے۔
سید یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں 1973ءکے آئین کو اصلی شکل میں بحال کیاگیا قانون کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی برتری کو یقینی بنایا گیا اور اپوزیشن سے محاذ آرائی کئے بغیر یہ سب کچھ ہوا۔ 13 سال بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کی صوبوں میں تقسیم ہوئی بلکہ صوبوںکے حصوں میں اضافہ بھی ہوا، بلوچستان کی محرومیاں دور کرنے کے لئے ”آغاز حقوق بلوچستان“ پروگرام شروع کیاگیا۔ یوسف رضا گیلانی کے دور میں 80قومی اداروں کے 5لاکھ مزدروں میں 100 ارب کے 12فیصد شیئرز مفت تقسیم کئے گئے جبکہ عمران خان کے دور میں ہزاروں مزدروں کو نوکریوں سے جبری فارغ کیا گیا۔گولڈن ہینڈ شیک کے نام پر مزدروں کو بقایاجات دیئے بغیر گھر بھیج دیا گیا۔ یوسف رضا گیلانی کی حکومت ہی تھی جس نے بینظیر کارڈ کا آغاز کیا اور اس حکومت میں70لاکھ گھرانوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے نقد مالی امداد دی گئی، وسیلہ حق کے ذریعے تین لاکھ گھرانوں کو تین لاکھ تک کے بلاسود قرضے دیئے گئے۔ آج عمران خان کی حکومت کو ایک یہ بھی مسئلہ ہے کہ سندھ نے کسانوں کو گندم کی قیمت دوسروں صوبوں سے زیادہ کیوں دی، دوسری طرف یوسف رضا گیلانی کی حکومت کا ہی یہ کارنامہ تھا کہ سرکاری قیمت 425سے بڑھا کر 3گناہ اضافہ کردی تھی جس کے بعد گندم کی امدادی قیمت 1200ہوگئی اور ملک میں گندم اتنی پیدا ہوئی کہ پاکستان گندم برآمد کرنے لگا اور آج حال یہ ہے کہ باوجود زرعی ملک ہونے کے پاکستان میں گندم موجود نہیں اور ہمیں امپورٹ کرنی پڑ رہی ہے۔کپاس کی قیمت طے کرنے کے لئے یوسف رضا گیلانی کی حکومت نے فری مارکیٹ نظام متعارف کروایا جس کے بعد کسانوں کو کپاس کی قیمت عالمی منڈی کے برابر ملنے لگی۔ ڈیزل کے 32روپے والے مہنگے یونٹ کے بجائے، زراعت کے لئے ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے 8روپے یونٹ کا فلیٹ ریٹ مقرر کیا گیا، جس سے کسانوں کی مجموعی آمدنی میں 600ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔
یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو جس طرح کے بحرانوں کا سامنا تھا، اس سے پہلے اور بعد کی حکومتوں کو ایسے کسی چیلنج کاسامنا نہیں رہا مگر گیلانی نے بطور وزیر اعظم کسانوں اور مزدروں کے لئے جو کام سر انجام دیئے وہ صرف پی پی پی کی ہی حکومت میں کیوں ہوتے ہیں؟ مثال کے طور پر 2007ءمیں پی پی پی کے حکومت میں آنے سے پہلے کسانوں کی مجموعی آمدنی 546ارب روپے تھے جو 2012ءمیں بڑھ کر 1168روپے ہوگئی یعنی 622 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں 2008سے 2012تک 3289 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا اور اس دوران بجلی کے کئی منصوبے لگے ، لگ بھگ 3500سے زائد میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔ جبکہ 2000میگاواٹ پن بجلی کے منصوبوں کا آغاز ہوا۔ 2007میں ملک کی مجموعی پیداور 10452تھی جبکہ 2012ءمیں ملک کی مجموعی پیداوار 19000ارب تک پہنچ گئی یعنی 80 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، ملکی برآمدات 26ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس کے بعد آج تک اتنی برآمدات پاکستان نہ کرسکا۔
وزیراعظم پاکستان سے سوال ہے کہ کیا سابق وزیراعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد ماضی کی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا؟ کیا یوسف رضا گیلانی بھی یہ کہتے تھے کہ پچھلی حکومت نے ملک تباہ کیا اور میرے پاس عوام پر ٹیکس لگانے، تیل، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں ؟ نہ یوسف رضا گیلانی نے ٹیکس لگائے نہ ہی بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کیا جتنا آج کے دور میں ہوا جبکہ گیلانی دور میں تو تیل کی قیمت بھی عالمی منڈی میں آج کی قیمتوں سے دگنی تھی۔ یوسف رضا گیلانی دور میں ٹیکس محصولات میں بھی اضافہ ہوا لیکن نہ اس حکومت نے عوام کو ٹیکس چور کہا اور نہ ہی مزید ٹیکس لگائے بلکہ جہاں ممکن ہوا عوام کو ٹیکس ریلیف دیا۔ جس گیلانی حکومت کو موجودہ حکومت بدعنوان کہتے نہیں تھکتی وہ موجودہ حکومت سے زیادہ برآمدات کر رہی تھی، اس حکومت میں کسان بھی زیادہ کما رہا تھا، اس حکومت میں تنخواہوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوااور یہ سب بہترین حکمرانی سے ممکن ہوا، نہ وہ آئی ایم ایف کے دباﺅ میں آئے اور نہ ہی ملکی خودمختاری پر حرف آیا۔موجودہ حکومت سے یہ چار سال کا موازنہ ہی کافی ہے۔ اس کے باوجود امید ہے کہ آپ اپنے آخری سال میں عوام پر ہونے والے مظالم کا کچھ ازالہ کردیں گے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں