خانیوال ضلعی نظامت: ہراج گروپ کو راجپوت برادری کے اتحاد سے نیا چلنج درپیش - Baithak News

خانیوال ضلعی نظامت: ہراج گروپ کو راجپوت برادری کے اتحاد سے نیا چلنج درپیش

پی پی 206 پرجیت نے راجپوت برادری متحدکر دی،ضلعی نظامت کیلئے رانا سلیم کے بھائی رانا طاہر اوراحمد یار ہراج امیدوار، نیازی گروپ بھی فعال،عرفان ڈاہا چپ
این اے153 میں افتخار نذیر نے قومی و صوبائی پینل فائنل کرلیا، این اے150 میں سید گروپ کا طوطی،میاں چنوں میں دوسیاسی دھڑے،ضلع میں پیپلزپارٹی کی بلدیاتی سیاست کا حال پارلیمانی جیساہی ہے
خانیوال (عبد الستار بلوچ ) ضلع خانیوال کی سیاست میں قومی اورصوبائی حلقوں میں نئی سیاسی پیشرفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ خانیوال کے حلقہ پی پی -206 میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی امیدوار نورین نشاط احمد ڈاہا کی شکست نے جہاں مسلم لیگ نواز میں شامل رانا سلیم حنیف کے ایم پی اے بن جانے سے رانا سلیم حنیف کی قیادت راجپوت برادری کے ضلع بھر میں کئی ایک دھڑوں کو متحد کیا ہے اور اب انکی طرف سے ایم پی اے رانا سلیم حنیف کے بھائی رانا محمد طاہر حنیف کا نام آئندہ بلدیاتی انتخابات میں خانیوال ضلع کے چئیرمین کے امیدوار کے طور پہ سامنے آگیا ہے۔ رانا محمد طاہر حنیف اس سے پہلے کبھی بلدیات یا صوبائی و قومی سطح کے انتخابات میں سامنے نہیں آئے۔ مسلم لیگ نواز کی مرکزی کمیٹی کے رکن سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ حاجی عرفان احمد خان ڈاہا کی طرف سے ابھی تک بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ محمد خان ڈاہا جو تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں کی شخصیت کسی قسم کے کرشمہ سے محروم نظر آتی ہے۔ اور ان کے ڈاہا گروپ میں دور دور تک تاحال ایسا کوئی شخص نظر نہیں آرہا جو ضلعی چئیرمین شپ کے لیے موزوں دکھائی دے رہا ہو۔ این اے 153 میں نواز لیگ کے ایم این اے چوہدری افتخار نذیر نے اپنا آئندہ کا قومی و صوبائی حلقوں کا پینل فائنل کرلیا ہے۔ وہ خود ایم این اے کا الیکشن لڑیں گے۔ جبکہ ان کے نیچے ان کے بھائی ایم پی اے حاجی عطاالرحمان اور سابق ایم پی اے پیر جمیل شاہ ہوں گے۔ انہوں نے اپنے گروپ کی طرف سے چوہدری ضیاءالرحمان کو ضلع خانیوال کے چئیرمین کا الیکشن لڑنے کیلئے نامزد کیا ہے۔ این اے153 میں ہی ایک اور اتحاد سامنے آیا ہے۔ نیازی گروپ جو گزشتہ انتخاب میں دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا دوبارہ متحد ہوگیا ہے۔ اب اس حلقے میں ایاز خان نیازی جو سابق ایم پی اے اور سینئر سیاست دان نوابزادہ عبدالرزاق خان نیازی کے بیٹے ہیں اور فیصل خان نیازی ایم پی اے کے درمیان صلح ہوگئی ہے اور جہانیاں سے ان کے ساتھ میاں نوید جہانیاں کا گروپ چل رہا ہے۔ ایاز خان نیازی اور فیصل نیازی دونوں نوجوان ہیں اور اپنے حلقے میں بہت محترک ہیں ان کے باہمی اتحاد نے این اے 153 ، پی پی -209 اورپی پی -210 پہ ڈرامائی تبدیلی لے آئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حلقے میں ملک غلام مرتضی میتلا اور سہیل شاہ کھگہ کے ساتھ ساتھ کرم داد واہلہ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟ این اے -151 اور پی پی -205 اور پی پی-206 پہ حالات یے یقینی کا شکار ہیں۔ یہاں پہ ھراج گروپ کے اندر گزشہ انتخابات میں جو تقسیم تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔ اب سردار احمد یار ھراج نے اپنے آپ کو بلدیات میں ضلعی چیئرمین کے امیدوار کے پیش کیا ہے۔ جبکہ ان کے بھائی سردار حامد یار ھراج جو حلقہ پی پی -205 سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے صوبائی وزیر خوراک بنادیے گئے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بات کنفرم ہے کہ وہ آئندہ این اے 151 سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہوں گے۔ لیکن سوالیہ نشان یہ ہے کہ وہ کس جماعت سے الیکشن لڑیں گے۔ ان کے مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی سے تعلقات بہت اچھے بتائے جارہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹی پی ٹی آئی نہیں ہوگی۔ وہ حلقے میں کافی متحرک ہیں۔ خانیوال میں نشاط خان ڈاہا کا گروپ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک گروپ بیگم نورین نشاط خان ڈاہا کے ساتھ ہے تو دوسرا دھڑا مسعود خان سابق چئیرمین بلدیہ خانیوال کی قیادت میں ھراج گروپ کے زیر تابع رہ کر سیاسی کام کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔ لیکن یہ مشکل نظر آرہا ہے کہ پی پی -206 میں آنے والے الیکشن میں اس کا کوئی صوبائی اسمبلی کا امیدوار نظر آئے گا۔ اگر پنجاب میں بلدیات کے الیکشن ہوئے تو خانیوال کا نتیجہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ ھراج گروپ حلقہ پی پی -206میں کسے صوبائی اسمبلی کا امیدوار بنائے گا۔ حاجی عرفان خان ڈاہا گروپ کے ہاں تو صاف نظر آرہا ہے کہ اگلے الیکشن میں این اے 151 پہ محمد خان ڈاہا ، پی پی-205 پہ فضل الرحمن اور پی پی-206 پہ رانا سلیم حنیف نواز لیگ کے امیدوار ہوں گے۔ این اے -150 (کبیروالہ تحصیل) پہ اس وقت سید گروپ کا طوطی بول رہا ہے۔ سید فخر امام رکن قومی اسمبلی اور اہم وزرات پہ فائز ہے۔ ان کے کزن ڈاکٹر خاور علی شاہ پی پی-203 اور پی پی -204 پہ حسین جہانیاں گردیزی ایم پی اے ہیں- فی الحال سید گروپ میں کوئی تقسیم نظر نہیں آرہی ہے۔ عملی طور پہ سید گروپ کی قیادت نوجوان سید عابد امام کے ہاتھ میں ہے۔ اور سید گروپ نے اپنے سابقہ ادوار حکومت کے برعکس اس مرتبہ گراس روٹ لیول تک رابطے برقرار رکھے ہیں- تھانہ اور کہچری لیول تک کے کام سنبھال رکھیں گے۔ ان کے بارے میں پرانا تاثر ختم ہوچکا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ این اے 150 پہ اس مرتبہ سید عابد امام امیدوار ہوں گے۔ یہ طے نہیں ہے کہ آئیندہ الیکشن میں ان کی پارٹی کون سی ہوگی ؟ اس حلقے میں سید فخر امام کے رنر اپ بیرسٹر رضا حیات ھراج حیرت انگیز طور پہ مسلم لیگ نواز میں ۔ ان کے ساتھ پی پی -203 میں پیر مختار حسین شاہ کے بڑے صاحبزداے حاجی علی بابا ہیں لیکن پی پی -204 میں ان کے ساتھ کون ہوگا یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔ بظاہربیرسٹر رضا حیات ھراج سید گروپ کی نسبتا زیادہ نوجوان قیادت کے مقابلے میں دبے دبے نظر آرہے ہیں۔ کبیروالہ سے سید گروپ اور ھراج گروپ کیا اپنا ضلع چئیرمین کا امیدوار لائیں گے؟ ابھی تک تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ این اے 153(تحصیل میاں چنوں) میں اس وقت دوبڑے سیاسی دھڑے ہیں – ایک دھڑا پیر اسلم بودلہ کا ہے جو یہاں سے مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ ہولڈر ہیں جس کے سب سے بڑے اتحادی مسلم لیگ نواز کی طرف سے ایم پی اے پی پی-208 رانا بابر حسین گروپ اور سابق ایم این اے بیگم مجیدہ وائیں کا گروپ ہے۔ اور ٹکٹ ہولڈر پی پی -207 عامر حیات ھراج ہیں- جبکہ دوسری طرف ممبر قومی اسمبلی پیر ظہور حسین قریشی این اے 153 اور ایم پی اے پی پی -207 سید عباس علی شاہ ہیں۔ اگر دیکھاجائے تو اس وقت ضلع خانیوال میں مسلم لیگ نواز کی چار قومی اسمبلی اور آٹھ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پہ متوقع امیدوار بہت واضح ہیں اور اگر خانیوال سے ڈاہا گروپ، کبیروالہ والا سے بیرسٹر ھراج گروپ، جہانیاں سے چوہدری افتخار نذیر گروپ اور میاں چنوں سے اسلم بودلہ و دیگر گروپ ایسے ہی مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے متوقع بلدیاتی انتخابات میں حصّہ لیں گے تو مسلم لیگ نواز کا حمایت یافتہ ضلعی چئیرمین کا امیدوار سب سے طاقتور پارٹی امیدوار ہوگا۔ اگر اپوزیشن کے لانگ مارچ سے حکومت بچ نکلی تو پھر خانیوال ضلع میں پاکستان تحریک انصاف کا ضلعی چئیرمین کا امیدوار دوسرا مضبوط ترین امیدوار ہوگا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی ضلع خانیوال میں جس طرح اس وقت قومی اور صوبائی حلقوں میں پوزیشن انتہائی کمزور ہے ویسی پوزیشن فی الحال بلدیات میں بھی ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں