رحمان ملک : جس کی ذہانت اور کام کا اعتراف ہونا باقی ہے - Baithak News

رحمان ملک : جس کی ذہانت اور کام کا اعتراف ہونا باقی ہے

سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک گزشتہ روز ایک نجی ہسپتال میں انتقال کرگئے وہ کورونا سے متاثر تھے۔
میں رحمان ملک کو بطور جمہوری سیاست دان کے پسند کرتا تھا تو اس کی کئی ایک وجوہات تھیں ۔ ان کےلئے پسندیدگی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں پاکستان پیپلزپارٹی اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو و آصف علی زرداری کی ساکھ کیخلاف اس سازش کا چہرہ بے نقاب کیا جس کی وجہ سے غیرسیاسی ماحول میں جنم لینے والی پاکستان کی اربن چیٹرنگ مڈل کلاس پی پی پی کی قیادت پر کرپشن کے مقدمات کو ٹھیک خیال کرنے لگی تھی۔رحمان ملک نے سابق جسٹس قیوم ملک اور 1998ءمیں پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کی ٹیپس میڈیا کو فراہم کیں جس میں سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف جسٹس قیوم ملک کو شہید بے نظیر بھٹواور آصف علی زرداری ایک کیس میں جلد از جلد سزا سنانے کا کہہ رہے تھے۔اس ٹیپ نے پہلی بار اربن مڈل کلاس کے سامنے اس احتساب کمیشن کے فراڈ کو بے نقاب کیا۔رحمان ملک نے شریف برادران کے غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ (عدالتی و عسکری اسٹبلشمنٹ ، انٹیلی جنس نیٹ ورک ، ایف آئی اے، آئی بی ، میڈیا نیٹ ورکس میں روابط اور سیاسی مخالفین کے خلاف ان روابط کو استعمال کرنے کے مربوط میکنزم بارے ٹھوس معلومات بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو فراہم کیں ۔ انہیں اپنی اس جسارت کا سخت خمیازہ بھی بھگتنا پڑے۔رحمان ملک سیالکوٹ کے چک ججہ میں ایک نہایت غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو ذات کی ہیرارکی /درجہ بندی میں بھی نچلی سطح پر آتا تھا ۔ یہ سماجی پس منظر ان کے مخالفین اور حریفوں کے ہاتھ ہمیشہ مذاق بنا رہا۔رحمان ملک نے بی ایس (آنرز) کرنے کے بعد 1973ءمیں نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی بطورا میگریشن ایجنٹ
کے طورپر جوائن کی۔ 1980ءمیں وہ ایف آئی اے میں سپیشل ایجنٹ کے طور پر بھرتی ہوگئے ۔ ان پر یہ الزام بھی لگا کہ ایف آئی اے میں چوہدری ظہور الٰہی کی سفارش پر لگے تھے۔ انہیں شہید بی بی نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے مقرر کیا ۔ فاروق لغاری نے جب پی پی پی کی حکومت ختم کی تو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ سال بھر جیل میں رہے اور نواز شریف نے وزیراعظم بنتے ہی ان کو ایف آئی اے سے نکال دیا۔ 1998ءمیں جب شہید بی بی لندن آئی تو رحمان ملک نے ان سے ملاقات کی اور باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا ، بہت جلد وہ شہید بی بی کے ترجمان مقرر کیے گئے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جس وقت جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں سے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مذاکرات شروع کیے تو وہ شہید بے نظیر بھٹو کی طرف سے قائم کی گئی۔ مذاکراتی ٹیم کا حصّہ تھے اور اس بارے میں پریس سے بات کرنے کی مجاز ٹیم کا حصّہ تھے۔ مذاکرات کا حتمی راو¿نڈ جو دبئی میں ہوا تھا جس میں جنرل مشرف، جنرل کیانی اور آمر حکومت کے کچھ اہم لوگ دوسرے کیمپ سے شریک ہوئے تھے تو شہید بی بی کے ساتھ جو لوگ شریک ہوئے ان میں رحمان ملک بھی شامل تھے۔ شہید بی بی اٹھارہ اکتوبر 2007ءکو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس آئیں تو وہ شہید بی بی کے پروٹوکول ٹیم کے سربراہ تھے۔ بی بی کی شہادت کے بعد وہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے معتمد خاص رہے اور جب پی پی پی 2008ءمیں برسراقتدار آئی تو وہ وفاقی وزیر داخلہ بنائے گئے اور پانچ سال وہ اس عہدے پر کام کرتے رہے۔
رحمان ملک جب وفاقی وزیر داخلہ بنے تو ان کے پانچ سالہ دور وزارت میں کسی سیاسی کارکن کو سیاسی اختلاف پر جیل نہیں بھیجا گیا ۔ ان کا یہ اعزاز ایسا تھا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ان کا وزارت داخلہ کا دور مشکلات سے آراستہ تھا۔ انھوں نے اپنے دور میں انٹیلی جنس بیورو کی تشکیل نو کی اور دہشت گردی کے خلاف اس سویلین ایجنسی کی اہلیت میں زبردست بہتری لائی ۔میں ان دنوں ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی طرف سے شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے فرائض سرانجام دے رہا تھا اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کے دوران میں نے دیکھا کہ آئی بی کے بہترین افسران نے دہشت گردوں کے کئی نیٹ ورک کو کریک آو¿ٹ کیا اور دہشت گردی کے کئی واقعات کے ذمہ داران کا سراغ لگایا۔ جنرل مشرف کے دور 2006ءمیں سانحہ نشتر پارک تھا جس کے بارے میں پی پی پی کا دور آنے تک پیش رفت نہ ہوسکی تھی ۔ رحمان ملک نے وزیر داخلہ کا منصب سنبھالتے ہی اس حوالے سے آئی بی کراچی کی ایک سپیشل ٹیم بنائی جس نے 2009ءکے شروع میں ہی اس واردات کا سراغ لگایا اور ستمبر 2009ءمیں لشکر جھنگوی کے تین دہشت گردوں پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فرد جرم عائد بھی کردی تھی۔ ایسے ہی آئی بی نے ان کے دور میں یہ پتہ چلایا تھا کہ کچھ ممالک کے سفارت خانوں سے گاڑیاں جب اسلام آباد سے کے پی کے کے علاقوں میں جاتی ہیں تو کچھ دنوں کے بعد دہشت گردی کی وارداتیں ہوجاتی ہیں ۔ اس
پر انہوں نے بغیر اجازت نامے کے اسلام آباد سے سفارت خانوں کی گاڑیوں کی اسلام آباد سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی اور اس کے بعد دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی آئی تھی۔ رحمان ملک نے اپنے دور میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی وارداتوں میں را، افغان انٹیلی جنس اور جنوبی افریقا سے ہائرکردہ پیشہ ور قاتل گینگز اور ان کے مقامی کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک سے روابط کا سراغ لگایا اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مضبوط کارروائیاں کیں۔
رحمان ملک نے بطور وفاقی وزیر داخلہ پہلی بار تحریک طالبان پاکستان اور دیگر تکفیری دہشت گرد گروپوں کو کرائے کے قاتل اور ان کے دوسرے ممالک کی پراکسیز ہونے کی جب بات کی تو پاکستان میں لبرل ایلیٹ کے ایک سیکشن نے ان پر اسٹبلشمنٹ میں ضیاءالحقی باقیات کا ہمنوا ہونے کا الزام عائد کیا لیکن آنے والے سالوں میں ہوئے انکشافات سے ان کے موقف کی تصدیق ہوگئی ۔یہاں تک کہ ہندوستان میں مودی سرکار میں سکیورٹی ایڈوائزر اجیت نے یک تقریر کے دوران ٹی ٹی پی کے کچھ سیکشنز کو اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے مودی سرکار ، آر ایس ایس کے خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے منصوبے کو طشت ازبام کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی لیکن ان کا سب سے اہم کارنامہ پاکستان میں داعش کے پھیلتے نیٹ ورک کی نشاندہی تھی۔ یہ بات بھی رحمان ملک کے کریڈٹ پر جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں سب سے پہلے سری لنکا میں داعش کے نیٹ ورک کا انکشاف کیا اور اس کے بھارتی تنظیم آر ایس ایس کے ساتھ تعلقات کا انکشاف کیا جس کی تصدیق 2019ءمیں ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں تین چرچوں میں دہشت گردی کے واقعات میں داعش کے ملوث ہونے اور ان دہشت گردوں کے بھارت سے آنے اور آر ایس ایس کے ساتھ ان کے تعلقات کی تصدیق ہوئی ۔
پی پی پی کے 2008 سے 2012 ءتک کے دور حکومت میں رحمان ملک پر دباو¿ پڑا کہ وہ مسعود محمود کی طرح اپنی پارٹی کی حکومت کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں اور پارٹی کی حکومت کے اعلیٰ عہدےداروں کو ناکردہ گناہوں کی سزا دلوانے میں غیرجمہوری طاقتوں کا ساتھ دیں۔ میمو گیٹ اسکینڈل ہو یا ریمنڈ ڈیوس کیس ہو یا پھر امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کا معاملہ انہوں نے ان نازک مقامات پر آصف زرداری کا مکمل طور پرساتھ دیا۔
بطور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے سابق گورنر سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے کی جرا¿ ت رندانہ دکھانے والے پی پی پی علماء ونگ کے مولانا افضل چشتی اور ان کے اہل خانہ کے مکمل تحفظ کا بھی انتظام کیا۔
شہید بی بی کے قتل کیس بارے انہوں نے بہت سارے تحقیقی مضامین لکھے جو اخبارات میں شائع بھی ہوئے ۔ ان مضامین کے مندرجات کو پاکستانی میں سٹریم میڈیا می وہ توجہ نہ ملی جو اس قتل کیس بارے پھیلائی گئی جھوٹی اطلاعات کو ملی ۔ خود پاکستان پیپلزپارٹی کے میڈیا سیل اور سوشل میڈیا سیل نے بھی انہیں وہ اہمیت نہ دی جو دی جانا بنتی تھی ۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں