روس یوکرائن تنازعہ پاکستان کی عا فیت خود کو دور رکھنے میں ہے - Baithak News

روس یوکرائن تنازعہ پاکستان کی عا فیت خود کو دور رکھنے میں ہے

ملتان(تجزیہ: عبدالستار بلوچ) وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک اعلی سطحی حکومتی وفد کے ساتھ روس کے دورے پر ہیں ماسکو ائیرپورٹ پرپاکستانی وزیراعظم عمران خان کااستقبال روسی ڈپٹی وزیر خارجہ نے کیا پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کا دورہ روس کے صدر مملکت ولادیمیر پیوٹن کی خصوصی دعوت کا نتیجہ ہے جبکہ روسی وزرات خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے روس کےذرائع ابلاغ نے اسکے متضاد دعویٰ کیا ہے کہ دورے کی درخواست خود حکومت پاکستان نے کی تھی جس کی ہنگامی حالات کے سبب دو دن کے دورے کی اجازت دی گئی پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روسی صدر پیوٹن سے پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات ایک ہونا تھی جو بڑھاکر تین گھنٹے کردی گئی پاکستان کے کسی وزیراعظم کا 20سالوں میں یہ پہلا دورہ ہے۔یہ دورہ ایسے موقع پرکیا گیاجب روس نے یوکرائن کے علاقے ڈون باس اورکھارکیوکے آزاد ہونے کے دعوے کو تسلیم کرلیا ہے اور یوکرائن کی مشرقی سرحدوں سے یوکرائن پہ فضائی اور زمینی حملے شروع کردئیے ہیں ان حملوں کےخلاف اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کا اجلاس یوکرائن کی درخواست پہ بلایا گیا ہے جبکہ دوسری جانب یورپی یونین کے ممالک کاہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔امریکااور یورپ سمیت دنیا کے 44 ممالک نے روس پر اقتصادی و دفاعی پابندیاں عائد کردی ہیں، مجموعی طور پردنیا کے اکثریتی ممالک روس کے یوکرائن پہ حملے کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ امریکااور نیٹو ممالک یوکرائن پہ روس کے حملے کے جواب میں یوکرائن کو فضائی اور لاجسٹک سپورٹ دینے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں،یہ بہت نازک مرحلہ ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور عالمی حالات پہ گہری نظر رکھنے والے ماہرین پاکستانی وزیرعظم کا ایک اعلی سطحی وفد کےساتھ اس صورتحال میں دورہ روس کو دانشمندانہ فیصلہ قرار نہیں دے رہے۔ایک طرف عالمی سطح پر روس یوکرائن تنازعے نے تیل کی ففی بیرل قیمت 110ڈالر کردی ہے اور اس میں اور اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔

دوسری طرف یوکرائن جو بڑے پیمانے پہ زرعی اجناس کا ایکسپورٹر ملک ہے اور اس جنگ کیوجہ سے زرعی اجناس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔پچھلے کئی سال سے پاکستان بھی یوکرائن سے گندم خرید رہا ہے۔ اس سال بھی بقول وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیفٹی فخرامام گندم کی فصل کم ہونے پرلاکھوں ٹن گندم باہر سے درآمد کرنا ہوگی ۔پاکستانی معشیت پہلے ہی عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اضافے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کے انتہائی منفی اثرات برداشت کررہی ہے۔ آئی ایم ایف سے طے شدہ شرائط کے مطابق اسے جون 2022 سے قبل پٹرولیم لیوی کو 30روپے تک کرنا ہے جو اس وقت ساڑھے روپے ہے اگر تیل کی عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کارجحان یہی رہا تو لامحالہ لیوی ٹیکس سے ہٹ کر بھی اس کی قیمت میں اور اضافہ کرنا پڑےگا۔ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمت 15000روپے فی ٹن سے بڑھ کر 16000ٹن ہوگئی ہے۔ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان ہے۔ ان سب چیزوں کا اثر پاکستانی معیشت پر بہت برا ہوگا اور تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا۔امپورٹ بل میں مزید اضافہ ہوگا، پاکستان کے پاس کمزور معاشی صورتحال میں امریکا اور یورپ کو ناراض کرنے کی گنجائش بالکل نہیں کیونکہ ہماری 15ارب ڈالر کی ایکسپورٹ امریکا اور یورپ کےساتھ ہے جبکہ ہمارے ٹیکسٹائل سیکٹر کی 95فیصد ایکسپورٹ بھی امریکا اور یورپ کو جاتی ہے،دوسری جانب پاکستان اپنی مخصوص سٹریٹجک پوزیشن میں روس کی ناراضگی بھی مول نہیں لے سکتا،اس لیے بین الاقوامی سطح پرپاکستان کو روس یوکرائن تنازعے سے اپنے آپ کو دور رکھنے کی ضرورت ہے ، امریکی و یورپی ممالک کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیاں خودروس کو بڑی مشکلات کا شکار کرسکتی ہے لیکن روس جیسے ملک تیل و گیس اور دیگر صنعتوں میں ترقی کے سبب ان پابندیوں کاکسی حد تک مقابلہ کرسکتے ہیں لیکن پاکستان ان پابندیوں کو برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ پاکستان شام اور یمن کے ایشو پراپنی غیرجانبدار پوزیشن کیطرح روس یوکرائن جنگ میں بھی اپنی پوزیشن غیر جانبدار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ دوسری صورت میں ہمارے علاقائی جیو پولیٹکل مفادات زبردست طریقے سے متاثر ہوسکتے ہیں اور ہماری معشیت پہ اور برے دن آسکتے ہیں۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں