سبز انقلاب کا ماڈل اور ہماری زراعت - Baithak News

سبز انقلاب کا ماڈل اور ہماری زراعت

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد آبادی کے روز گار کا انحصار زراعت پر ہے۔ پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے آج تک کوئی موثر اور مفید عملی جامع زرعی پالیسی نہیں دی، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں کسان معاشی بدحالی کا شکار ہے۔زرعی، زرخیز زمینوں پر مافیا سوسائٹیز بنا کر فروخت کر رہا ہے اور ملک میں زرعی انقلاب خواب گم گشتہ بنتا جا رہا ہے۔گندم، کپاس، گنا، سبزیاں باہر سے منگوائی جاتی ہیں جو پالیسی ساز اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔جب ملک میں حکومت زرعی شعبے کے لیے اعلان کردہ سبسڈی جاری ہی نہ کرے ، فصلات کی عین کاشت کے موقع پر کھاد، بیج، مہنگے اور غائب ہو جائیں۔زرعی مداخل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جائے، جب کاشت کار زراعت بافی چھوڑنے کے لیے مجبور ہونے لگیں تو وہاں سبز انقلاب کے دعوے بے معنی بن جاتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق براعظم امریکاکے غریب ترین ممالک نے جن میں پیرو ،ارجنٹائن ،کولمبیا ،پیراگوئے اور یوروگوائے نے بیس سال پہلے
تک بہت زیادہ بھوک اور رزق میں کمی کا سا منا دیکھا۔اس کی ایک وجہ وہی ہے جو ساری دنیا کی مشترک وجہ ہے کہ نالائق حکمران اور منصوبہ بندی کا فقدان لیکن ان پانچ ملکوں کا ایک اتحاد شروع سے موجود ہے جس طرح ہمارا سارک کے نام سے ہے۔چنانچہ ا±س اتحاد کا سالانہ سربراہ اجلاس بیس سال پہلے والا تھا وہ تاریخی ثابت ہوا اس میں جو فیصلے کیے گے وہ مندرجہ ذیل ہیںیہ کہ زرخیز اور قابل کاشت زمین کا تحفظ یعنی وہاں کوئی تعمیرات نہ ہونے دینا۔ قابل کاشت اراضی کی باقاعدہ تقسیم اور ملکیت کی حد یعنی ہر ایک کو تقریبا پچاس کنال کا فارم دینا۔ بہت (کم زرخیز )اراضی پر جنگلات اگانا اور بالکل ہی (بنجر اراضی) پر مکانات اور دیگر تعمیرات کرنا۔ جس کے پاس دو یا چار کنال زرعی زمین ہے اور وہ ویسے ہی لے کر بیٹھا ہے ۔زراعت اس نے کرنی نہیں ایک کھیتی یا دوکھیتوں اس کے پاس ہیں تو وہ اس سے خرید کر پچاس کنال کے فارم میں شامل کر دی اور کچھ کو ان کھیتیوں کے عوض شہر میں مکان دے دئیے جائیں۔ ان ممالک نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خوراک، گوشت، انڈوں اور سبزی پھلوں کی کمی دور ہوتی نظر آئی۔ مثلا ًمقامی کونسل جب کسی شخص کو زرعی فارم دیتی تو ساتھ یہ ہدایت اور ان ہر سختی سے عمل کا کہتی وگرنہ یہ فارم چھین لینے کی دھمکی بھی ساتھ دیتی کہ1: یہ فارم آپ کی ملکیت ہے لیکن اولاد میں قابل تقسیم نہیں بس جس بچے کے پاس زراعت کی کم سے کم درجے کی ڈگری ہو گی فارم کا مالک وہ کہلائے گا۔ باقی بہن بھائیوں کو برابری کی رقم دے کر چلتا کرے گا۔ 2: اس فارم کا مالک ہوتے ہوئے تماری اوپر لازم ھے کہ دس گائے، تیس بکریاں اور سو پرندے یعنی مرغیاں لازمی فارم میں موجود ہونی چاہیں۔ 3: فارم کی حدود یا باﺅنڈری بنانے کے لیے اینٹ یا پتھر کی دیوار کے بجائے پھل دار درختوں کی قطار سے بنے گی۔4:فارم کے مالک ہونے کے ناطے تمارے آپ پر لازم ہے کہ فارم کا ایک چھوٹا حصہ سبزیوں کے لیے مختص ہو گا۔5:ہر سال کے آخر میں کونسل کے نمائندے آپ کے فارم آکر ایک ایک چیز کا جائزہ لیں گے کہ مطلوبہ چیزوں کی تعداد پوری ہے کہ نہیں ساتھ ساتھ پیداوار اور جانوروں کی صحت کو بھی چیک کیا جائےگا۔6: اگر ہدف پورا ھے تو ٹھیک ،اگر کم ہے تو مدد کی جائےگی اور وارننگ بھی دی جائےگی۔7: اگر حدف سے بڑھ کر پیداوارہے تو ایک الیکٹرک ٹریکٹر انعام دیا جائےگا جو ڈیزل وغیرہ پر بھی چلے گا لیکن عموماً بجلی سے چارج ہو گا اور تمام زرعی ضرویات کو پورا کرےگا۔ سال 2020 میں ان ممالک کے سربراہان کا سالانہ اجلاس آن لائن ہوا اور دنیا کے دوسرے کونے سے ایک زرعی چیمپئن آسٹریلیا نے بطور ابزرور مہمان شرکت کی سب ممالک نے اس خودکفالت کو عبور کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔جبکہ اسٹریلیا کی تجویز کو بھی انتہائی± صحت افزا جان کر پروگرام کا حصہ بنا دیا اسٹریلیا کی تجویز یہ تھی کہ ہر فارم میں جس طرح جانوروں اور مرغیوں کےلئے کمرے بنانے کی اجازت ہے اسی طرح فارم کے شروع میں مالک کو مکان بنانے کی اجازت دی جائے تا کہ بہتر پرفارم کر سکے۔ لیکن گھر کی چھت پر سولر پینل لگا کر بجلی خود پیدا کر سکے اور گوبر گیس پلانٹ لگا کر گیس بنانے کا پابند ہو گا۔نیز گھر کے استعمال شدہ پانی کو جمع کر کے آبپاشی کےلئے استعمال کرےگا۔ اب آپ اندازہ کریں صرف ایک حکومتی قدم سے سبزیاں پھل دالیں آٹا چاول دودھ گوشت انڈے بھی حاصل ہوئے، روزگار بھی ملے، گیس اور بجلی بھی بنی۔ ہمارا ملک تو زرخیز مٹی اور موسموں والا ملک ہے لیکن پھر بھی گندم، چینی، دالیں، پیاز، ٹماٹر وغیرہ امپورٹ کرتاہے، کیا ایسے ماڈل پر کام نہیں ہو سکتا، کوئی ہے جو نقار خانے میں کسانوں کی سنے گا، کوئی عملی جامع زرعی پالیسی سامنے لائےگا، اس کےلئے ضروری ہے کہ کسانوں کی حقیقی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہو جو اس ملک کی زرعی ترقی کے حوالے سے عملی اقدامات کرے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں