سہولت سنٹرز پر کسی بھی سفارش کی ضرورت نہیں، قمر الزمان قیصرانی - Baithak News

سہولت سنٹرز پر کسی بھی سفارش کی ضرورت نہیں، قمر الزمان قیصرانی

ملتان (انٹرویو: ارشد ملک) ایڈیشنل سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر جنوبی پنجاب قمر الزمان قیصرانی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب ہیلتھ سیکرٹریٹ کے قیام سے خطے کے شعبہ ہیلتھ میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونگی۔ روڈ میپ بنا لیا ہے، جس پر عملدرآمد سے ہسپتالوں کی صورتحال بہت بہتر ہو گی۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ سمیت ہیلتھ سٹاف کی حاضری کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، روزنامہ بیٹھک سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہیں سٹاف کی کمی کا سامنا ہے۔منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے میں بہت کم سٹاف ہے، ڈپٹی سیکرٹری کیڈر لیول کے علاوہ ایچ آر کی کمی کو جلد دور کر لیا جائے گا۔ اس بارے میں سیکرٹری ہیلتھ کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ سول سروس میں ساؤتھ پنجاب میں آنے کا رحجان بہت کم تھا۔ خود میں اپنے خاندان میں پہلا شخص تھا جس نے سول سروس جوائن کی۔ اسی طرح ہمارے دیہی علاقوں سے بہت کم لوگ ادھر آئے۔ لیکن اب جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد سول سروس میں شامل ہو کر ملک وقوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ساو¿تھ پنجاب میں سیکرٹریٹ بنانا حکومت کا بہت بڑا قدم ہے۔ جس سے عوام کو ریلیف ملا ہے۔محکمہ صحت میں بہت بڑی فیلڈ فارمیشن ہے۔ ملازمین کو چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے لاہور جانا پڑتا تھا لیکن اب سیکرٹریٹ بننے سے تمام مسائل یہاں پر حل ہونگے۔کسی بھی مسئلہ کیلئے کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہے، سہولت سنٹر سے ملازمین رجوع کرتے ہیں۔ درخواستیں دیتے ہیں۔ انکے معاملات حل کئے جاتے ہیں البتہ ٹرانسفر پوسٹنگ میں تھوڑے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ اسکے لئے ویکنسی پوزیشن دیکھنا ہوتی ہے۔ قمر الزماں قیصرانی نے کہا کہ ڈاکٹرز کی اکثریت شہری ہسپتالوں میں تعیناتی خواہشمند ہوتی ہے۔حکومت کی جانب سے رورل ہیلتھ سنٹرز اور رورل ڈسپنسریوں پر نہ صرف مراعات دی گئی ہیں بلکہ مارکس رکھے ہیں تاکہ ڈاکٹرز دیہی مراکز کی طرف توجہ دیں کیونکہ دیہی مراکز صحت نظر انداز ہوتے تھے لیکن اب اس طرف رحجان میں اضافہ ہوا ہے۔ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح بھی ہے۔ گریڈ18 تک ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا اختیار سیکرٹریٹ کے پاس ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے پیپر لیس وژن کے مطابق سروس شروع کی جا رہی ہے جو جلد ہی شروع ہو جائے گی۔ ہیلتھ سیکرٹریٹ ملتان میں اس حوالے سے ادارہ قائم کر دیا ہے تاہم زیادہ تر کام مینوئل طریقہ سے ہو رہا ہے۔ پیپر لیس سروس کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہیلتھ سٹاف کی غیر حاضری کو مانیٹر کرنے کیلئے سپیشل واٹس ایپ گروپ بنایا گیا ہے۔ جس میں سٹاف سے تصاویر طلب کی جاتی ہیں، اسکے علاوہ فیلڈ میں ہیلتھ افسران بھی ڈاکٹروں اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف کی حاضری کو گاہے بگاہے چیک کرتے رہتے ہیں۔ عملہ کےخلاف شکایات کا فوری نوٹس لیا جاتا ہے اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک افسر کےخلاف شکایات پر کارروائی کی گئی۔ ڈاکٹرز، سٹاف اور ہیلتھ افسران کی حاضری کے بارے سی ای اوز سے بھی رپورٹ باقاعدہ طور پر طلب کی جاتی ہیں۔ مکمل رپورٹنگ چینل قائم کیا گیا ہے۔ سٹاف اور افسران کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے مختلف اوقات میں فون کالز کے ذریعے انکی حاضری لوکیشن معلوم کر لی جاتی ہے۔ زیر التواء محکمانہ انکوائری کے بارے کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ11 اضلاع میں تمام زیر التواء انکوائریاں طلب کر لی گئی ہیں۔ اس بارے میں تمام چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ انکوائریاں مکمل کرکے اپنی فائنڈنگ سیکرٹریٹ کو فوری طور پر ارسال کریں تاکہ انکی روشنی میں کارروائی کی جا سکے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں