سیاسی ڈیڈ لاک اور مذاکرات کا ڈول۔۔۔۔! - Baithak News

سیاسی ڈیڈ لاک اور مذاکرات کا ڈول۔۔۔۔!

اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے درمیان گزشتہ چند روز کے دوران تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

شنید ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد تحریک انصاف اور پی ڈی ایم بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے پیغامات کی ترسیل ہے۔ بظاہر ان ملاقاتوں میں سیاسی صورتحال‘ عام انتخابات اور صوبائی اسمبلیوں کی ممکنہ تحلیل کے حوالے سے بات چیت کی گئی مگر اطلاعات ہیں کہ جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات میں اسحاق ڈارنے وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام صدر عارف علوی کو پہنچایا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سیاسی پیش رفت کے لیے صدرعارف علوی اور وزیر خزانہ کے درمیان ایسی مزید ملاقاتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ ان ملاقاتوں کے باوجود سیاسی ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے لیکن اُمید کی جانی چاہیے کہ ان ملاقاتوں کا کوئی مثبت نتیجہ ہی برآمد ہوگا۔ جس کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کی کوئی نئی صورت پیدا ہو سکے گی۔ ملک میں سیاسی استحکام کا قیام اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارا معاشی استحکام اس سے مشروط ہے۔ شنید ہے کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے اختیار کیے گئے جارحانہ سیاسی طرزِ عمل کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی بظاہر تو عمران خان کے اسمبلی تحلیل کرنے کے بیان کی حمایت کر رہے ہیں لیکن در پردہ اُن کی حتی الامکان کوشش یہی ہے کہ اسمبلی تحلیل نہ کرنی پڑے۔ عمران خان کی مشاورت کے بغیر پنجاب کی کابینہ میں اضافہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی اسمبلی کی تحلیل نہیں چاہتے۔ پنجاب کی کابینہ میں نئے وزیر(خیال کاسترو) کے اضافے سے عمران خان کے صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بیانیے کو نقصان پہنچا ہے۔ خان صاحب کے چند قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ چودھری پرویز الٰہی کے اس عمل سے خوش نہیں۔ پنجاب کی کابینہ میں نئے وزیر کی شمولیت اور ان خبروں کے بعد کہ چودھری پرویز الٰہی فی الوقت اسمبلی کو تحلیل نہیں کرنا چاہتے‘ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چودھری واضح کر چکے ہیں کہ اگر مسلم لیگ(ق) پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنا چاہتی ہے تو پرویز الٰہی کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنا ہی پڑے گی‘ اب مسلم لیگ (ق) کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ پی ٹی آئی کے ساتھ اپنا اتحاد جاری رکھنا چاہتی ہے یا اگلے انتخابات اکیلے لڑنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں پنجاب میں تحریک انصاف اور اُس کے اتحادیوں کے مابین اسمبلی کی تحلیل کو لے کر نئی کھینچا تانی شروع ہو سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آ سکے۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں