سیکرٹریٹ کے نام پر ڈاکخانہ خطے کے نمائندوں نے سا کھ گنوا دی - Baithak News

سیکرٹریٹ کے نام پر ڈاکخانہ خطے کے نمائندوں نے سا کھ گنوا دی

ملتان( تجزیہ: عبدالستار بلوچ)گزشتہ روز جنوبی پنجاب میں قومی صحت کارڈ کے اجرا کےلئے نشتر ہسپتال میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب کا فیتہ لاہور سے آئے صوبائی سیکرٹری صحت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کاٹا، اس اقدام سے جنوبی پنجاب کے عوام کو ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور پنجاب سیکرٹریٹ تاحال تخت لاہور کی ہی غلامی میں ہیں ۔لاہور سے سپیشللائزڈ ہیلتھ کئیرو میڈیکل کالج کا لاہور سے افتتاح کرنااس بات کا پتا دیتا ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساتھ پنجاب کے پاس تو اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ جنوبی پنجاب میں قومی صحت کارڈ کے اجرا کا فیتہ بھی کاٹ سکے۔چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان بزدار بار بار دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے جنوبی پنجاب میں ایک بااختیار صوبائی سیکرٹریٹ قائم کردیاہے اوراسکے لئے پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس میں درکارترامیم بھی کردی ہیں لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آر او بی ترامیم جنوبی پنجاب کے نام سے جو نوٹیفکشن جاری ہوا،اسکے مطابق پنجاب حکومت کے رولزآف بزنس کی شق نمبر9کی ذیلی شق اے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کےلئے ترمیم نہیں کی گئی جسکے سبب وہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی سربراہ نہیں ہیں بلکہ اس سیکرٹریٹ کاسربراہ بھی چیف سیکرٹری پنجاب ہیں۔ رولز نمبر 9کی ذیلی سی بھی انکے اختیار سے باہر ہے اور انکے پاس چیف سیکرٹری پنجاب کیطرح جنوبی پنجاب میں کسی بھی محکمے اور محکمے سے اٹیچ ڈیپارٹمنٹ سے کوئی کیس یا کوئی انفارمیشن ازخودطلب کرنے کا اختیار نہیں نہ ہی وہ ریجنل آفس یا ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو ایساکوئی حکم دے سکتے ہیں۔ اور بزنس رولز کی دوسری شق میں بھی ترمیم نہیں کی کئی اس لئے چیف سیکرٹری کیطرح انکےذریعے سے جنوبی پنجاب کے سارے کیسز جو چیف منسٹر کو بھجوائے جانے لازم ہیں انکے پاس جمع نہیں ہونگے۔رولز 10 سے 13 میں بیان کئے گئے اختیارات بھی چیف سیکرٹری پنجاب کے پاس ہی ہیں ۔

ایڈیشنل سیکرٹری جنوبی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب کے ایک طرح سے ڈاکیا ہیں جو براہ راست چیف منسٹر کو نہ تو کوئی کیس بھجوا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اس سے متعلقہ مشورہ چیف منسٹر کوتحریری طورپر بھیج سکتے ہیں۔وہ بس جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں جمع ہونےوالی ڈاک کو سنبھال کر رکھنے اورذمہ داری سے چیف سیکرٹری لاہور کو بھجوانے کے پابند ہیں۔ پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے اختیارات پہ مبنی ترمیمی نوٹیفکشن سے صاف پتاچلتاہے کہ اسکی روسے چیف سیکرٹری پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے نام پراپناکیمپ آفس کھولا ہے اور انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ وہاں بیٹھے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کاآفس چیف سیکرٹری پنجاب کی ڈاک وصولی کادفترہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کسی بھی صورت چیف سیکرٹری پنجاب سے منظوری لئے بغیر کوئی انتظامی فیصلہ نہیں کرسکتاجبکہ پنجاب کے روز آف بزنس میں وزرا ، پارلیمانی سیکرٹریز اور مشیرکسی ترمیم کے ذریعے اس بات کے پابند نہیں کئے گئے کہ وہ میہنے میں کتنے دن جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں بیٹھیں گے نہ ہی انکے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری و ایڈیشنل صوبائی سیکرٹریز ساتھ پنجاب کے ساتھ براہ راست ورکنگ کے لئے ترمیم کی گئی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جیسے چیف سیکرٹری پنجاب کی اجازت کے محتاج ہیں ایسے ہی ایڈیشنل صوبائی سیکرٹری جنوبی پنجاب بھی ہر طرح کے انتظامی حکم کیلئے صوبائی سیکرٹری کی منظوری کے محتاج ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب ایڈیشنل چیف سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹریز ساتھ پنجاب کے کسی بھی حکم کو واپس لے سکتے ہیں۔

حکومت پنجاب کے رولز آف بزنس 2011 میں آر او بی ساتھ پنجاب ترمیمی نوٹیفیکشن جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے بااختیار ہونے اور اس کے مکمل فعال ہونے دونوں کامذاق اڑاتا ہے۔ اس ترمیمی نوٹیفکیشن میں ملتان اور بہاولپور دونوں کی ہیلتھ اور ایجوکیشن اٹھارٹیز کو اٹانامس /خود مختار اتھارٹیز قرار دیا گیا ہے جو محکمہ پرائمری صحت جنوبی پنجاب کے ماتحت نہیں ہیں ،حیرت انگیز امر یہ ہے 2019 میں جب پنجاب حکومت کے بزنس رولز میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کےلئے ترامیم تجویز کی گئیں تو انکے مندرجات پرجنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے حکومتی اور اپوزیشن اراکین صوبائی اسمبلی نے سرے سے کوئی اعتراض ہی نہیں کیا نہ ہی اپوزیشن کی جانب سے اس حوالے سے عوام کوآگاہی دی گئی۔ اس حوالے سے جنوبی پنجاب کی سول سوسائٹی کاکردار بھی انتہائی کمزور رہا۔ ملتان ہائیکورٹ بار، بہاولپور ہائیکورٹ بار اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پنجاب بار کونسل کے ممبران اور عہدےداران نے بھی اس پرکوئی آواز نہیں اٹھائی ۔ یہ سارے حقائق اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ تخت لاہور جنوبی پنجاب کو اپنی ایک نوآبادیات سے زیادہ حیثیت دینے کوتیارنہیں ،پہلے 100دن میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے دعوے کرنےوالے اراکین اسمبلی چیف سیکرٹری لاہور کے ڈاک آفس کی حیثیت رکھنے والے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ پرکیسے مطمئن ہوکر بیٹھے ہیں؟

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں