عارضی ڈی جی اینٹی کرپشن رائے منظورحسین کا ہنگامہ خیز کیرئیر - Baithak News

عارضی ڈی جی اینٹی کرپشن رائے منظورحسین کا ہنگامہ خیز کیرئیر

ملتان (سپیشل انوسٹی گیشن سیل)سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب رائے منظور حسین ناصر کو اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کا عارضی چارج سونپا گیا ہے۔آج کل وہ چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان بزدار کے انتہائی قریبی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور سردار عثمان بزدار کے بھائی جعفر بزدارکے گہرے دوستوں میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔رائے منظور حسین بطور بیوروکریٹ اخبارات اورمیڈیا کےذریعے اس وقت منظرپر آئے جب انہیں 2011 میں پنجاب میں شہباز شریف کی وزرات اعلیٰ کے دور میں پنجاب سول سروسزافسران کی یونین کاصدرچناگیاجو پنجاب میں مناسب تعیناتیاں نہ ملنے پربنائی گئی تھی ۔انہوں نے سابق وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف پر الزام عائدکیاتھا کہ ”شہباز شریف کی حکومت جمہوری آمریت کی کلاسیکل مثال ہے “۔انہوں کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے پنجاب بیوروکریسی میں 12پیارے ہیں جن کےذریعے پنجاب چلایا جارہا ہے۔پنجاب حکومت کے ترجمان پرویز رشید نے جواباّکہا تھا کہ پنجاب حکومت سابق آمر جنرل مشرف کے پیارے افسران پر ایماندار اور آئین سے وفادار افسران کو ترجیح دیتی ہے ۔وہ پی ایم ایس افسر رائے منظور حسین ناصر کی مشرف دور میں پنجاب میں اہم عہدوں پہ تعیناتی کا حوالہ دے رہے تھے ۔رائے منظور حسین ناصر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ میڈیا کی توجہ کے طالب ہیں اور جب 2013 میں شہباز شریف دوبارہ وزیر اعلیٰ بنے تب بھی رائے منظور حسین ناصر کو نظر انداز کیا گیا۔وہ اپنے بیوروکریٹ دوستوں کے حلقے میں بیٹھ کر باقاعدہ پاکستان کے فوجی ادوار حکومت کو سویلین ادوار سے نظم ونسق کے اعتبار سے بہتر قرار دیتے رہے، اگرچہ شہباز شریف کے دوسرے دور میں وہ سوشل میڈیا اور میڈیا میں شہباز حکومت بارے براہ راست منفی بات کرنے سے رک گئے لیکن اس دوران ڈان لیکس سے لیکر پانامہ کیس تک وہ اشاروں کنایوں میں مقتدر حلقوں کا دفاع کرتے پائے گئے ۔انکے بارے میں پہلے پہل یہ بھی سنا جاتا رہا کہ وہ موجودہ گورنر پنجاب چودھری سرور، صوبائی وزیرعلیم، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے قریب ہیں۔اگست 2018 میں جب پی ٹی آئی برسراقتدار آئی اور پنجاب میں غیرمتوقع طور پر عثمان بزدار وزیر اعلیٰ بن گئے تب مبینہ طور پر گورنر سرور اور علیم خان کی سفارش پر وہ نومبر2019 کے آخر میں گوجرانوالہ ڈپٹی کمشنر لگائے گئے لیکن صرف 52دن بعد او ایس ڈی بنادیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکے بعد انہوں نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے قریب ہونے کی کوشش کی اور اس میں انکی مدد چیف منسٹر کے سسرالی ضلع خانیوال کے رہنے والے ایک سابق سیشن جج نے کی جو اس وقت حاضر سروس تھے جن کے توسط سے رائے منظور حسین ناصر وزیراعلیٰ کے بھائی جعفر بزدار کے قریب ہوئے۔ دسمبر 2021 میں انھوں نے اپنے فیس بک اکاﺅنٹ پہ وزیراعلیٰ پنجاب کے آبائی گاں بارتھی میں جعفر بزدار کے ساتھ اپنی تصویر اپ لوڈ کی۔ بزدار کے خاندان سے رائے ناصر کے تعلقات کی بہتری سے انھیں پنجاب ایڈمنسٹریشن میں اہم عہدے ملنا شروع ہوئے ۔پہلے وہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڑ کے سربراہ بنائے گئے اور پھر وہاں سے ایک تنازعہ میں او ایس ڈی بنے لیکن جلد ہی واپس آئے اور جنوری 2022 میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب بنادیے گئے ، اب فروری میں انھیں ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کا عارضی چارج دے دیا گیا ہے ، مبینہ طور پر انکی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے گہری قربت کا سبب پنجاب سول سروسز آفیسرز یونین کی موجودہ قیادت کو بائی پاس کرکے اہم تبادلے و تقرریاں کرانا بھی بیان کیا جاتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تنازعات میں گھرے رائے منظور حسین بطور ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کیا کارنامہ سر انجام دیتے ہیں؟ کیا جن وجوہات کی بنا پر سابق ڈی جی کو ہٹایا گیا ہے ان پر سٹینڈ لیتے ہوئے بطور ڈی ادارے کے بنیادی مقصد کو ملحوظ خاطر رکھیں گے یا سب اچھا ہے کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں ۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں