ع عوام اور سندیلہ کی طوائفیں - Baithak News

ع عوام اور سندیلہ کی طوائفیں

بدھ کے روز لاہور میں ہونے والی ملاقاتوں میں کیا ہوا ؟
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ق لیگ اور “باپ” بلوچستان عوامی پارٹی سے مذاکرات کے علاوہ اپنے سیاسی کارڈز سے شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کو آگاہ کیا۔شہباز شریف نے حکومتی ارکان کی حمایت اور ان کی تعداد کے بارے میں ?آصف زرداری اور مولانا کو بریف کیا- زرداری نے شہبازشریف کا نام باقاعدہ طور پر وزیراعظم کے لیے پیش کیا۔ مولانا اور ویڈیو لنگ پر موجود نواز شریف نے اس سے اتفاق کیا۔ عدم اعتماد پیش کرنے کی ذمہ داری زرداری نے لی اس لیے حکومت کے اتحادیوں سے معاملات طے کرنے کا فریضہ بھی جناب ?زرداری کو دے دیا گیا۔زرداری رابطوں کے حوالے سے معاملات پر مولانا اور نواز شریف کو آگاہ رکھیں گے – تحریک پیش کرنے کی حتمی تاریخ کا فیصلہ تینوں رہ نما مشاورت سے طے کریں گے۔??کہاں گئے اصول، پی ڈی ایم کا مطلب زرداری نے چھرا چلایا پی ڈی ایم کے تحریک میں لیکن پھر بھی سب کچھ زرداری کو دے دیا۔افسوس ہے ان اپوزیشن والوں پر کوئی بھی عوام کا نہیں سوچتا، صرف آپنے اقتدار کے لئے سب اکھٹے ہوجاتے ھیں۔ یہ تو ملک میں اپوزیشن جماعتوں کا حال ہے کہ کھبی ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی اور طعنہ زنی اور کبھی شیر و شکر بن جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف حکومت کی حالت یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکل پانے کے لیے ساڑھے تین سال سے سخت کوشش جاری ہے۔ ثمر بھی مل گیا۔ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی پر امریکہ میں نیشنل بینک ساڑھے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ دے گا۔ قومی خزانہ جس بے دردی سے لٹایا جارہا ہے اس کے بعد معاشی بہتری کی توقع فضول ہے۔ عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ جناب وزیراعظم عمران خان کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن وہ ابھی بھی ڈی چوک پر ہی کھڑے ہوئے ہیں۔ عوام کنونشنل لیگ سے ہوتی ہوئی مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، نواز لیگ، ق لیگ کے ہاتھوں پریشان ہو کر اب تحریک انصاف کے ذریعے سب کچھ گنوانے پر بیٹھے ہیں۔
بس اسی شوق سے پوچھے ہیں اتنے سوال کہ میں تیرا حسن، حسن بیاں تک دیکھوں معروف ادیب اور دانشور اشفاق احمد نے اپنی کتاب زاویہ میں ‘’پانی کی لڑائی اور سندیلہ کی طوائفیں“ کے عنوان سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ لکھنو¿ (بھارت کے شہر) کے قریب ایک قصبہ ”سندیلہ“ ہے وہاں کے لڈو اور شاعر مشہور ہے۔ ایک دفعہ یہ ہوا کہ اس قصبہ ”سندیلہ“ میں بہت زبردست Drought یعنی خشک سالی ہو گئی اور وہاں کے نواب اور چھوٹی چھوٹی راج دھانیاں تمام کی تمام سوکھے خشک سالی کا شکار ہوگئی۔ اس دوران سب طبقوں نے اپنے اپنے انداز میں دعائیں کیں اور خدا سے بارش اور اپنی رحمت طلب کی مگر کئی ہفتے گزر گئے لیکن کوئی دعا قبول نہیں ہوئی۔ اس دوران قریب ہی طوائفوں کا محلہ بھی موجود تھا۔ طوائفوں نے میٹنگ کی کہ علاقہ شدید خشک سالی کا شکار ہے، لوگ اور ڈنگر ڈھور مر رہے ہیں۔ لہذا وہ بھی خدا سے مناجات کر کے دیکھیں شاید ان کی دعا قبول ہو جائے اور لوگوں کی اس مصیبت کے ایام سے جان چھوٹ جائے۔ چنانچہ تمام طوائفیں اکھٹی ہو کر قصبہ کے کھلے میدان میں جمع ہو گئیں اور انہوں نے گڑ گڑا کر دعائیں کیں کہ وہ گناہ گار ہیں، ان کے پاس کوئی عمل اور دلیل بھی نہیں ہے۔ بس اے اللّہ پاک تیری رحمت تیرے عضب و قہر سے زیادہ حاوی ہے۔ پس اس خطے کی اس مصیبت کو ٹال دے۔ اور پھر سندیلہ کے باسیوں نے یہ بھی دیکھا کہ چشمِ زدن میں کالے بادل امنڈ آئے اور اتنی بارش برسی کہ قریب کی تمام راج دھانیاں بھی جل تھل ہو گئیں۔ وہ طوائفیں اپنی پوٹلیاں لے کر سندیل سے کوچ کر گئیں۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ان طوائفوں کو دوبارہ کبھی اس علاقے میں نہیں دیکھا گیا، ہمیں خود اپنے آپ کو درست کرنا پڑے گا۔ خود احتسابی کا عمل اختیار کرنا پڑے گا، تبھی بات بنے گی اور یہ کہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہم ان طوائفوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں