محمد ساجد درانی قادری۔۔۔۔۔ میرا پہلا اتالیق - Baithak News

محمد ساجد درانی قادری۔۔۔۔۔ میرا پہلا اتالیق

سعید خاور
محمد ساجد درانی قادری

سرزمین بے یقین پاکستان میں عام انتخابات عوام اور ملک کے لیے ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں بربادی کا سامان لے کر آئے ہیں- 1970 کے انتخابات کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا، 1977 کے انتخابات نے ہم سے ہمارا بھٹو چھین لیا- میں تب صادق عباس ہائی اسکول احمد پور شرقیہ میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا کہ جب 1977 کے انتخابات میں دھاندلی کو جواز بنا کر ملک کو ایک سازش کے تحت غیر یقینی صورت حال کی دلدل میں دھکیل دیا گیا اور ملک میں امریکی ڈالروں سے ایک ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر دی گئی جس کا مقصد اس شخص کو راہ سے ہٹانا تھا کہ جس نے 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں لخت لخت و لہو لہو، سر تا پا گھائل پاکستان کے زخموں پر مرہم رکھ کر اس کی ڈھارس بندھانے کی کوشش کی تھی- اس نے مکالمہ کر کے غاصب پڑوسی سے نہ صرف جنگ میں ہتھیائی گئی اپنے ملک کی ہزاروں ایکڑ زمین واگزار کرائی بلکہ نوے ہزار فوجی قیدیوں کی بھارتی چنگل سے رہائی یقینی بنائی-اس نے پاکستان کو جوہری پروگرام کی راہ پر گامزن کیا اور سر زمین بے آئین کو 1973 کا آئین بھی دیا- اس کے باوجود وہ اشرافیہ کا معتوب اور قابل گردن زدنی ٹھہرا، شاید وہ لوگ اس کی مقبولیت سے خائف تھے- اس کے خلاف امریکی آشیرواد سے “بھٹو ہٹائو تحریک” چلائی گئی- اس کے پیچھے کوئی اور نہیں وہی فوجی جنرل تھا جسے بھٹو صاحب نے بہت نیچے سے اوپر لا کر سپہ سالار بنایا تھا اور اس نے مولا علی کے قول کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ”جس کے ساتھ احسان کرو، اس کے شر سے بچو-“جب میں اور ساجد درانی پہلی بار ملے ملک پر مارشل لا کے مہیب سائے منڈلا رہے تھے اور بھٹو صاحب کی زندگی بھی شدید خطرے میں تھی- بھٹو صاحب نے اپنے دور حکومت میں صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی اختیار کی تھی، اسی سلسلے میں کاٹن فیکٹریوں کے نظام کو رواں رکھنے کے لیے “کاٹن ٹریڈنگ کارپوریشن” (سی ٹی سی) قائم کی تھی، میں اور ساجد درانی پہلی بار اسی سی ٹی سی کے توسط سے ملے- میرے گھریلو حالات ایسے نہیں تھے کہ میں شاید میٹرک کے بعد اپنا سلسلہ تعلیم جاری رکھ سکتا، میٹرک کے دوران ہی میں نے وسائل کے لیے ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیے تاکہ میٹرک کے بعد کالج آنے جانے کے لیے نئی سائیکل لے سکوں اور کالج کا داخلہ بھی بھر سکوں- اسی تگ و دو میں مجھے مدنی کاٹن انڈسٹریز کوٹلہ موسی روڈ میں “پریس مارکر” کی نوکری مل گئی جہاں ساجد درانی “پریس کلرک” تھے- پریس مارکر کے فرائض میں تھا کہ جب پتریوں میں جکڑی گانٹھ مشین سے باہر نمودار ہوتی تو اس پر کم و بیش پانچ یا چھ مارکے لگانے پڑتے تھے- ان نشانات میں فیکٹری کا نام اور دوسری عددی تفصیلات شامل ہوتی تھیں- بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی تھی، اتنا بڑا برش پنجے میں دبوچنا اور سیاہی میں بھگو کر ایک گانٹھ پر پانچ چھ اسٹینسل ثبت کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن اپنے نئے دوست ساجد درانی کی سنگت اور صحبت میں مجھے اس مشکل کام سے بھی رغبت ہو گئی- ساجد درانی ہم درد اور غم گسار انسان نکلا- ہم آہستہ آہستہ ایک دوسرے پر کھلتے گئے اور ایک دوسرے کے لیے ہماری محبتیں بڑھتی چلی گئیں- مجھے ان دنوں سرائیکی افسانہ نویسی کے علاوہ شعر کہنے کا بھی جنون تھا- ان ہی دنوں میرا ایک افسانہ “آجڑی” ماہنامہ سرائیکی ادب ملتان میں چھپ چکا تھا- ساجد درانی شعر و شاعری میں بہت مشاق تھے اور سرائیکی اور اردو میں کافی اچھے شعر کہنے لگے تھے- انہوں نے احمد پور شرقیہ کے نامور شاعر دبیر الملک نقوی احمد پوری کی شاگردی اختیار کر رکھی تھی جن کے طفیل وہ ابھرتے ہوئے شاعر کا رتبہ پا چکے تھے- میں ان سے چھوٹا تھا لیکن شعر و ادب میں ان سے بہت آگے نکل جانے کی دھن میں گرفتار تھا- لیکن انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنی توجہ شاعری کی بجائے نثر پر مرکوز رکھوں تو زیادہ مناسب ہو گا- ان کی رائے میرے لیے سود مند ثابت ہوئی- مدنی کاٹن انڈسٹریز کی چند مہینوں کی ملازمت میں انہوں نے جس طرح شفقتوں سے بھر پور میری رہنمائی کی وہ میرے مستقبل کے لیے بنیادی اثاثہ ثابت ہوئی- میں میٹرک میں تھا لیکن اسی ملازمت کے دوران میں نے مزدوروں کے حق میں جدوجہد کا آغاز کیا تو انہوں نے بہ دل و جان میری حوصلہ افزائی کی اور یوں مجھے عام آدمی کے لیے بولنے اور لکھنے کی ہنر مندی سے آشنائی ہوتی گئی اور لوگ میری بات توجہ سے سنن لگے- دراز قد، خوش پوش، خوش گفتار، چھریرا بدن، چمکتی آنکھیں، سنہرے مائل بال، گفتگو میں ٹھہرائو، لہجے میں کھنک، ماتھے پر آویزاں متانت اور ہونٹوں پر سجی ہمہ وقت مسکان، یہ تھے ساجد درانی، میرے بڑے بھائی، پہلے اتالیق اور یار دل دار- میرا تعلیمی سلسلہ دراز ہوا تو ہم فاصلوں کی بھینٹ چڑھ گئے لیکن دلوں میں محبتیں ہمیشہ تر و تازہ رہیں- دبیر الملک نقوی احمد پوری کی صحبت میں رہ کر ساجد درانی دن بہ دن نکھرتے چلے گئے اور ان کا شمار شہر کے سرکردہ ادیبوں، شاعروں اور محققین میں ہونے لگا- بلدیہ احمد پور شرقیہ کی لائبریری کے نگران مقرر ہونے کے بعد ان کے ذوق مطالعہ کی کیا خوب تسکین ہوئی کہ پھر وہ صوفی ازم کی طرف راغب ہو گئے، ساجد درانی، محمد ساجد درانی قادری ہو گئے- ان کی شخصیت اور شعر گوئی میں سنجیدگی اور متانت کا عنصر بڑھتا ہی چلا گیا اور وہ اچھی نثر بھی لکھنے لگے-اس بار میں جس محمد ساجد درانی قادری سے ملا ہوں وہ بیالیس برس پہلے کے ساجد درانی سے یکسر مختلف ہے- ہم مردہ پرست لوگ ہیں، لوگوں کے اوصاف کی پذیرائی بعد از مرگ کرنے کے قائل ہیں لیکن ہمارے یار دلدار عمران لاڑ نے ان کی زندگی میں ان کی تقریب پذیرائی منعقد کر کے ایک ایسا کام کر دیا ہے کہ ہم نے اس کے صلے میں عمران لاڑ کی کردہ نا کردہ تمام خطائیں معاف کر دی ہیں- میں چند دن کے لیے احمد پور شرقیہ ہوں تو اس دوران یار دل دار ظفر لاشاری کی محراب والا میں جھوک پر’’ظفر لاشاری ریسرچ لائبریری‘‘ کی افتتاحی تقریب اور یار دل دار محمد ساجد درانی کی شان میں منعقدہ تقریب پذیرائی میں شرکت کسی طور عیدین کی خوشیوں سے کم نہیں ہے- یہ دونوں تقریبات میرے لیے اس طرح بھی سعادت کا باعث بن گئیں کہ یاروں دل داروں کی اکثریت سے ملاقات کے وسیلے ہاتھ آ گئے- میرے بچپن اور پچپن کے دوست اور غم گسار محمد ایاز غوری، یار ابن یار سوہنی سرکار غیور بخاری، میرے محب و مہربان کالج فیلو سید غلام مجتبی بخاری سرکار، میرے محبوب دوست خلیل الرحمن کھوکھر، نینگر مرشد زادہ سید ندیم بخاری، عزیز از جان جان محمد چوہان، میرے بھائی حاجی منیر احمد بلال، میرے بڑے بھائی ملک غلام یسین بھٹی، جند جیوے مصنف صحافی عزیز الرحمن شیخ، محمد ظفر خان، ہر دل عزیز جاوید مغل اور سلیم لکھویرا بھی اس جگ راتے کے دل میں رہ کر دھک دھک دھڑکتے رہے- میرے محبوب یار، نامور شاعر، محقق اور نثر نگار محمد ساجد درانی قادری کو ان کی علمی ادبی خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منعقدہ تقریب کی صدارت دھرتی کے لعل پروفیسر ڈاکٹر نواز کاوش نے کی جبکہ سرائیکی نثر کی آبرو عبدالباسط بھٹی، سوہنی سوہنی سرکار پروفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ شاہ، میرے کالج کے دوست ابوبکر انصاری، معروف شاعر اور میرے کالج فیلو شوکت بھٹی، محبوب مٹھے شاہد عالم شاہد، سید علی رضا کاظمی، حکیم طارق محمود چغتائی، شہزاد اسلم راجہ نے خطاب کیا اور کہا کہ ساجد درانی قادری کی ادبی خدمات احمد پور سمیت پورے خطہ کیلئے قابلِ تحسین اور لائقِ پزیرائی ہیں، انہوں نے اپنے استاد نقوی احمد پوری پر تین کتابیں ’’نگارشات نقوی،بولتا سورج‘‘اور’’پاکستانی ادب کے معمار‘‘شائع کی ہیں جو قابل قدر کام ہے۔ انہوں نے کہا ساجد درانی ایک سچا، کھرا، نفیس اور حساس انسان ہے- سرائیکی دھرتی کی گائیکی کی شناخت جمیل پروانہ سرکار نے نقوی احمد پوری کا سرائیکی کلام گا کر ایک سماں باندھ دیا- چھوٹے بھائیوں جیسے عزیز شاہد عالم شاہد کو داد دیے بغیر بات نہیں بنے گی کہ انہوں نے محمد ساجد درانی قادری کی علمی خدمات پر سرائیکی زبان میں اپنی لکھت پیش کی جو دل کو چھو گئی، ان کے لفظوں اور جملوں سے محراب والے کا شہد ٹپک رہا تھا- محفل مشاعرہ میں پروفیسر ڈاکٹر عاصم ثقلین درانی، تنویر سحر، غیور بخاری، منظر مدنی، جاوید احمد جاوید، عدیل بخاری، آذر بخاری، تحسین بخاری، شاہد یاسر، علی رضا دانش، یوسف عابد، مجید چاہل اور ملک نعیم نے اپنا اپنا کلام پیش کیا- خاندان عباسیہ کے چشم و چراغ صاحبزادہ محمد ہلال عباسی نے محمد ساجد درانی قادری کی دستار بندی کرائی اور سرائیکی اجرک بھی پہنائی، ادبی تنظیم بزم نقوی” نے انہیں ادبی خدمات کے سلسلے میں نقوی احمد پوری ایوارڈ پیش کیا-

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں