مظفر گڑھ کے بڑے نام بھی کچھ بڑا نہ کر سکے تبدیلی سرکار نے پچھلے منصوبے تک چھین لئے - Baithak News

مظفر گڑھ کے بڑے نام بھی کچھ بڑا نہ کر سکے تبدیلی سرکار نے پچھلے منصوبے تک چھین لئے

مظفرگڑھ(رانا امجد علی امجد)تخت لاہور سے تخت تونسہ تک، مظفرگڑھ ضلع کی محرومیاں دور نہ ہو سکیں، نہ یونیورسٹی نہ سڑکیں، میڈیکل کالج کا منصوبہ شفٹ کر دیا گیا،جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع میں ضلع مظفرگڑھ کا بھی شمار ہوتا ہے، انگریز حکومت میں بنائے جانے والا 226پرانا ضلع آج بھی محرومیوں کا شکار ہے، ضلع مظفرگڑھ میں نامور سیاستدان پیدا کئے ہیں،جن میں بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان ، سابق گورنر نواب مشتاق گورمانی ،سابق وزیراعلیٰ غلام مصطفی کھر، سردار عبدالحمید خان دستی، سردار امجد خان دستی ،سابق چیئرمین ضلع کونسل و ایم این اے میاں عباس قریشی، ضلع کونسل چیئرمین ملک افضل ہنجرا،ملک سلطان ہنجرا،جمشید دستی،عمران قریشی، عبدالقیوم جتوئی، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر ،سردار عاشق خان گوپانگ کا تعلق بھی مظفرگڑھ سے ہے لیکن ان سیاستدانوں نے مظفرگڑھ کی ترقی کیلئے کوئی احسن اقدام نہیں اٹھایا ،مظفرگڑھ کی سرزمین دوبہتے دریاﺅں کے درمیان ہے، مظفر گڑھ کے علاقے کا دریائے سندھ اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے،یہاں پر گندم کی سب سے بڑی فصل،گنا،آم کے باغات کھجور کے باغات،علی پور کے انار،خانگڑھ سنانواں اور دیگر علاقوں کی مٹھائیاں بھی مشہور ہیں ،پاکستان کو بنے 74سال ہونے کے باوجود مظفرگڑھ ضلع مظفرگڑھ یونیورسٹی ،آئی ٹی پارک، مدر اینڈ کیئر چائلڈ سینٹر ،تعلیمی سہولیات سے محروم ہے ،اقتدار میں آنے والی ہر جماعت مظفرگڑھ کی عوام سے ہر بار وعدہ کرتی ہے، علی پور روڈ ،میانوالی روڈ، یونیورسٹی آٹی پارک اگر منصوبوں کا اعلان تو کرتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں کرواتے،ضلع مظفرگڑھ کی اس وقت آبادی50لاکھ کے قریب ہے، مظفرگڑھ کے نوجوانوںکےلئے ایک یونیورسٹی بھی نہیں ہے ،بیچلرز کے بعد طلبا اور طالبات کو ملتان بہاولپور لاہور اور دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، مسلم لیگ ن کی حکومت میں مظفرگڑھ کےلئے میڈیکل کالج کا اعلان کیا تھا ،لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے تمام منصوبے تونسہ میں منتقل کروا دیے، کچہری چوک سے گنیش واہ نہر تک بننے والی ڈبل سڑک 9سال سے نامکمل ہے،کیونکہ اسکا فنڈتونسہ کو منتقل کر دیاگیا تھا،جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب نے مظفرگڑھ شہر سے سوتیلی ماں کاسلوک کیا،دیگرحکومتوں کیطرح تحریک انصاف کی حکومت بھی مظفرگڑھ کی محرومیاں دور کرنے میں ناکام رہی ، 6ایم این ایز اور 12صوبائی اسمبلی ارکان بھی خاموش ہیں۔جنوبی پنجاب کے پسماندہ ضلع مظفرگڑھ میں یونیورسٹی،آئی ٹی کالج،میڈیکل کالج کے بجائے تھانہ اور پٹواری کی سیاست کو فروغ دیاجا رہا ہے۔

مظفرگڑھ پچاس سالہ سیوریج سسٹم کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے، ایک سیوریج لائن ہے جس میں پورے مظفرگڑھ کا سیوریج کا گندا پانی جاتا ہے ،انتظامیہ کی جانب سے ایک پیٹر انجن لگایا جاتا ہے، جس سے تین لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے، مظفرگڑھ میں نئے سیوریج سسٹم کو بنانے کے لئے ایک ارب درکار ہے،شومئی قسمت کے ہمارے کسی بھی سیاستدان نے اس طرف نہیں سوچا ہے بلکہ کمیشن مافیا کی طرف رجوع کرتے ہیں،سابقہ حکومتوں میں مظفرگڑھ میں سب سے بڑا منصوبہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے مظفرگڑھ کے سیوریج سسٹم کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی ،لیکن مقامی سیاستدانوں نے اپنا حصہ مانگا، جس سے وہ منصوبہ بھی مظفرگڑھ کے ہاتھ سے چلا گیا ہے ،اب تک کی رپورٹس کے مطابق ضلع مظفرگڑھ حکومتی نمائندوں کو 19ارب کی خطیر رقم ترقیاتی منصوبوں کےلئے فراہم کی گئی ،جس سے تعمیر ہونےوالے منصوبے نہ تو عوام کو نظر آتے ہیں ،بلکہ یہ سرکاری فائلوں میں بند،مکمل ہو کر رپورٹ بھی ارسال کر دی گئی ہے،حکومتی ارکان اسمبلی نالی ٹفٹیل سولنگی،عوام کے فنڈ چونا لگا دیا ہے،گلیوں میں نالی اور سورنگ رم کو اکھاڑ کر پھر اسی جگہ پر اسی اینٹوں سے سے دوبارہ لگا دی جاتی ہے، ترقی کے نام پر اس طرح کا کھیل جاری ہے،تبدیلی کے دعوے دار اس کرپشن کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہے،یہی وجہ ہے کہ ضلع مظفرگڑھ سے الگ ہونے والی تحصیل لیہ ضلع بننے کے بعد آج مظفرگڑھ سے زیادہ ترقی کرچکا ہے جولیہ کے عوامی نمائندوں اور عوام کی شہر کی ترقی میں دلچسپی کا ثبوت ہے ،اس بار پھر الیکشن میں سرائیکی صوبے کا کارڈ کھیلا جائےگا،مظفر گڑھ کی 50لاکھ عوام میں سے اگر10 لاکھ لوگ بھی حق کےلئے کھڑے ہوجائیں توضلع کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا ،پہلے جنوبی پنجاب کے سیاستدان تخت لاہور کا رونا روتے تھے، اب جنوبی پنجاب کے پسماندہ ضلع ڈیرہ غازی خان تحصیل تونسہ سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ عثمان بزدارنے تخت لاہور کے سیاستدانوں سے بھی برا سلوک کیا ہے ،آج پھر عوام تخت لاہور کے سیاستدانوں کو یاد کر رہی ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں