ملتان(بیٹھک سپیشل عبدالستار بلوچ) بی بی سی نے سال 2022 کیلئے دنیا بھر کی 100 سب سے بااثر اور متاثر کن خواتین کی فہرست میں زہرہ محمدی کانام شامل کیا ہے - Baithak News

ملتان(بیٹھک سپیشل عبدالستار بلوچ) بی بی سی نے سال 2022 کیلئے دنیا بھر کی 100 سب سے بااثر اور متاثر کن خواتین کی فہرست میں زہرہ محمدی کانام شامل کیا ہے

کرد زبان کی ٹیچر، جنہیں بچوں کو انکی مادری زبان سکھانے پرایران میں جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایرانی انٹیلی جنس نے زہرہ کو، جو اس وقت 31 سال کی ہیں، کو مئی 2019 میں پہلی بار ایران کے صوبہ کردستان کے شہر سینا، جسے فارسی میں سنندج کہا جاتا ہے، سے گرفتار کیا، جب وہ اپنے گھر پر دوپہر کا کھانا کھا رہی تھیں۔ دو رضاکار اساتذہ جو اس کے ساتھ کام کر رہے تھے کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔زہرہ کےدو ساتھیوں کو 6دن پوچھ گچھ کے بعد رہاکر دیاگیاتھا، لیکن زہرہ کو اپنےگھر والوں کو اپنے ٹھکانے سے آگاہ کرنے سے قبل 8دن تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔ اسی سال جولائی میں انہیں دوبارہ 9ہفتے کیلئے حراست میں لیا گیا۔انکے خلاف حکومت کے استحکام اور سلامتی کے خلاف ایک کمیٹی اور ایک گروپ کی تشکیل کا الزام ہے اور انہیں سنندج کورٹ آف اپیل نے فروری 2021 میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ وہ اس وقت سنندج جیل میں جنوری 2022 سے نظر بند ہیں۔ زہرہ محمدی سینا (سنندج) شہر میں پیدا ہوئیں اور وہیں ان کی پرورش ہوئی۔ ان کی پانچ بہنیں اور دو بھائی ہیں۔
انہوں نے اپنی انڈرگریجویٹ اور ماسٹر کی ڈگریاں مشرقی ایران کی بیرجند یونیورسٹی کی سیاسی جغرافیہ کی فیکلٹی سے حاصل کیں۔ زہرہ نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ غیر سرکاری نوجین نامی ایک ثقافتی اور سماجی مرکز قائم کیا ہوا ہے جس کا مقصد کرد بچوں کو سینا شہر اور اس کے دیہاتوں میں کرد زبان اور ادب سکھانا ہے۔یوں اس نے اپنی زندگی کے 10 سال بچوں کو رضاکارانہ، انتھک محنت سے کرد بچوں کو ان کی مادری زبان سکھانے کے لیے وقف کر دیے واضح رہے کہ ایران کے باقی شہروں کی طرح، سینا کے اسکولوں میں بھی صرف فارسی ہی پڑھائی جاتی ہے، باوجود اس کے کہ اس کی آبادی کی اکثریت کردوں کی ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 15 ایرانی عوام کو ایران میں اپنی زبانوں اور ثقافتوں پر عمل کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے لیکن ملک کے فقہا اور سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ زمینی طور پر ایسا نہیں ہے۔دسمبر 2019 میں، زہرہ کو گرفتاری کے چھ ماہ بعد، خرابی صحت کی وجہ سے 700 ملین تومان کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جو تقریباً 20000 ڈالر کے برابر ہے۔زہرہ کی بہن کنی محمدی کا کہنا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے انکی بہن سے تعاون کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کو کہا لیکن زہرہ نے صاف انکار کر دیا۔6ماہ کے بعد، انقلابی عدالت نےکرد مخالف گروپوں کے ساتھ زہرہ کے تعلقات سے متعلق ابتدائی الزامات کو خارج کر دیا، تاہم کرد زبان سکھانا زہرہ کی زندگی کے کئی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کیلئے کافی جرم ہے۔
اکتوبر 2020 میں، سنندج کورٹ آف اپیل نے زہرہ کی سزا کو دس سال سے کم کر کے پانچ سال کر دیا۔زہرہ محمدی نے جو اصل جرم جسے بعد ازاں اس نے اپنی گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو کلپ کی شکل میں اپنے انسٹاگرام پیج پر پوسٹ بھی کیا تھا، وہ تھا اپنی مادری زبان سکھانا، کرد زبان کے عالمی دن کے موقع پر گلیوں میں چاکلیٹ تقسیم کرنا اور کردستان میں سیلاب زدگان کی مدد کرنا تھا۔زہرہ نے حکام کو چیلنج کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئی ایسا ثبوت دکھائیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس نے اپنی قوم کے بچوں کو ان کی زبان سیکھنے کے قابل بنانے کے علاوہ کچھ کیا ہے۔زہرہ کو حراست میں رکھنے کے دوران سخت سلوک کا نشانہ بنایا گیا اور جب وہ ستمبر 2019 میں اسلامی انقلاب کی عدالت میں پیش ہوئیں تو انہیں کوئی قانونی مشورہ حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔ نہ ان کے وکیل اور نہ ہی اس کے اہل خانہ کو اس بارے مقدمے کی سماعت ختم ہونے تک معلوم ہونے دیا۔زہرہ کی بہن کاکہنا ہےکہ جب اس سال جنوری میں زہرہ کی جیل کی سزا کاٹنے کا وقت آیا تو اس کے طلباء، دوستوں اور سنی مسلک کے لوگوں کا ایک گروپ جمع ہوا اور اسے الوداع کرنے کیلئےعدالت میں اسکے ساتھ گیا۔وہ مزید کہتی ہیں کہ زہرہ نے اپنی عارضی رہائی کے بعد کوئی پریس انٹرویو نہیں دیا، اگر وہ انٹرویو دیتی تو کردش زبان میں ہی دیتی کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہی اپنی مادری زبان میں اظہار خیال کرنا چاہتی ہے۔کنی محمدی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انکی بہن کی سرگرمیاں صرف بچوں کو ان کی مادری زبان سکھانے تک محدود تھیں اوروہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھیں۔محمدی کی رہائی کے لیے اپنی اپیل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لکھا ہے کہ زہرہ پر کرد مخالف گروپوں کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام لگایا گیا ہے اور اسکی پرامن سرگرمیوں کی وجہ سے کرد زبان سکھانے کے ذریعے ایران کی پسماندہ کرد برادری کے ارکان کو بااختیار بنانےکیلئےقومی سلامتی کے جرائم کا الزام لگایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں متعدد نسلی اور مذہبی اقلیتیں آباد ہیں ان میں فارسیوں اور کردوں کے علاوہ بلوچ، عرب، آذری، ترکمن اور دیگر بھی آباد ہیں۔اگرچہ ایران نے 1989 میں بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کئےہیں اور ایران کےآئین کا آرٹیکل 15 ایران میں غیر فارسی زبانوں کے استعمال کا حق فراہم کرتا ہے تاکہ ہر زبان میں ادب اور ثقافت کی تعلیم دی جا سکے۔ لیکن ایران میں کرد زبان سکھانے اور اس کے تاریخی ورثے کو فروغ دینے پر سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتاہے۔یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ترکی اور شام میں کرد ایران جیسی صورت حال کا سامنا کرتے ہیں سوائے شمال مشرقی شام میں، جہاں انہوں نے حال ہی میں علاقے کی خود انتظامیی کے تحت سرکاری طور پر اپنی زبان کو استعمال کرنا شروع کیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق ایران میں غیر منصفانہ مقدمات اور قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے، خاص طور پر جب بات نسلی اقلیتوں کی ہو۔
افسوس نوجوان کرد خاتون جینا (مہسا) امینی کے قتل کے بعد ایران میں پھوٹنے والے حالیہ مظاہرے کردوں کے طویل عرصے سے جاری تکلیف کی توسیع کے سوا کچھ نہیں۔زہرہ اکیلی نہیں ہیں اور وہ آخری بھی نہیں ہونگی۔ ایران نے اس سے قبل شمال مغربی ایران کے شہر کامیاران سے تعلق رکھنے والے کرد استاد فرزاد کمانجر کو انسانی حقوق پر تحریریں لکھنے، طالب علموں کو کرد زبان سکھانے اور کرد ورثے اور ادب کی کہانیاں سنانے کے الزام میں پھانسی دے دی تھی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یونیسیف کیطرف سے مذمت کے باوجود ایران نہ صرف کردوں، سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں بلکہ کرد زبان اور ادب کو بھی دبا کر رکھے ہوئےہے۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں