ملتان(سٹی رپورٹر)ایم ڈی اے حکام نے ملتان شہر میں تعمیر 196 غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں و لینڈ سب ڈویژن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئےانکےکیس اعلیٰ سطح کمیشن کوارسال کردئیے - Baithak News

ملتان(سٹی رپورٹر)ایم ڈی اے حکام نے ملتان شہر میں تعمیر 196 غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں و لینڈ سب ڈویژن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئےانکےکیس اعلیٰ سطح کمیشن کوارسال کردئیے

یہ کمیشن پنجاب بھر کی 3 ہزار سے زائد ہاؤسنگ سکیموں کو قانونی حیثیت دینے کیلئے سفارشات مجاز اتھارٹی کو دیگا

جسکی روشنی میں ان غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں بارے حتمی فیصلہ کیاجائیگا۔ایم ڈی اےنے2016 اور 2020 کے درمیان غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان اور ڈویلپرزکیخلاف 214 ایف آئی آر درج کرائی تھیں۔ان مقدمات میں اہم سیاسی ودیگربااثرشخصیات کے نام آنے پران بااثر افراد نےگرفتاریوں سےبچنے کیلئےایک وفدکی شکل میں اس وقت کےوزیرہاؤسنگ پنجاب محمودالرشیدسےملاقات کی تھی۔
جس کےنتیجےمیں وزیر موصوف نےایم ڈی اے حکام کوہاؤسنگ سکیم مالکان کیخلاف ایف آئی آر درج کرانے سےروک کرپہلےسےدرج مقدمات پر کاروائی رکوادی تھی اور ملتان میں ایک میٹنگ میں ایم ڈی اے حکام کو صوبائی وزیر نے کہا کہ اس سنگین اور پیچیدہ صورتحال کو افہام تفہیم سے حل کرنے کیلئے فیصلہ کیا جائیگا۔ اسی میٹنگ کی روشنی میں پنجاب حکومت نے اعلیٰ سطح کمیشن بنایا مگراس کمیشن کیطرف سے کارروائی کا عمل سست روی کا شکار ہونےسےان غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں بارے فیصلہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔
ذرائع کیمطابق ایم ڈی اے نے ہر ایک ہاؤسنگ سکیم میں ہونیوالی مبینہ بے قاعدگیوں و دیگر مالی کرپشن کی تفصیلی رپورٹ کمیشن کو ارسال کی ہے۔ ذرائع کیمطابق ملتان شہرکی 196 غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں میں سڑکوں ،سیوریج،واٹر سپلائی ،بجلی و گیس و دیگر منصوبوں کے حوالے سے 30 سے 40 ارب روپے تک مبینہ بےضابطگیاں سامنے آچکی ہیں۔اس حوالےسےایم ڈی اےکی ڈائیریکٹر اربن پلاننگ مس عنیزہ نے موقف دیتے ہوئے کہاکہ جیسے ہی کمیشن کا فیصلہ آئیگااس کے مطابق غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف کاروائی شروع کردی جائیگی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ 23 ہاؤسنگ سکیم مالکان کیطرف سےرہائشی منصوبے ختم کرنیکی درخواستوں پر انکے متعلق قانون کیمطابق جلد فیصلہ کردیاجائیگا۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں