ملتان رجسٹری برانچ میں کھلی کرپشن کی شکایات کا ازالہ کیسے ہوگا؟ - Baithak News

ملتان رجسٹری برانچ میں کھلی کرپشن کی شکایات کا ازالہ کیسے ہوگا؟

روزنامہ ”بیٹھک “نیوز ملتان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق رجسٹری برانچ ملتان میں کرپشن اور غبن کی شکایات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں ۔ متعدد بار کرپشن اور غبن کی شکایات پر اوپر سےے لیکر نیچے تک کے عہدے داروں کو تبدیل کیا لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔کرپشن ،منتھلی وصول کرٓ اور جعلی رجسٹریاں کرنے کی شکایت پر سب رجسٹرارکی تبدیلی کے باجود بدعنوان کلرکوں نے وثیقہ نویسوں کےساتھ ملکر نئے سب رجسٹراروں کو بھی بدعنوانی کے نت نئے طریقے سکھادئیے ہیں۔ مبینہ طور پر سب رجسٹرار سٹی نے لوٹ مار کیلئے کارپوریشن نقشہ منظوری مشروط قرار دی جو وثیقہ نویس پہلے جعلی سٹیمپ پیپرز ، کارپوریشن اور ایف بی آر کی جعلی رسید تیار کرکے لوٹ مار کررہے تھے اب انھوں نے نقشہ منظوری کا جعلی این او سی بھی تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ملتان شہر کی حدود میں اہلمد کمیشن کےلئے 30سے50ہزار روپے رشوت کا ریٹ مقرر کردیا گیا ہے۔ مذکورہ عہدیدار نے مبینہ طور پر ڈپٹی کمشنر آفس کے اہلکاروں کو اپنی کوٹھی پر بھی تعینات کر رکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک اور اہلکار بھی مبینہ طور رجسٹری برانچ میں تعینات نہ ہونے کے باوجود سب رجسٹرار کی آشیر باد سے سٹی برانچ میں لوٹ مار میں مصروف رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے یہ شخص ہ اراضی مالکان کو غیر قانونی اعتراض اٹھا کر زچ کر دیتا تھا۔ کئی کئی ماہ تک رجسٹری کلیئرہی نہیں کرتا تھا جس پر ملتان کے ایک شہری نے کھلی کچہری میں ان اہلکاروںکی موجودگی میں ڈپٹی کمشنر کو اہلکاروں کی لوٹ مار کی درخواست بھی دی تھی لیکن ڈپٹی کمشنر آفس نے سرے سے اس درخواست پر کارروائی ہی نہ ہونے دی۔ جس پر شہریوں نے احتجاج کیا تو مذکورہ سب رجسٹرارکومنظر عام سے ہٹا کر اپنی کوٹھی پر بٹھا دیا۔خبر سے پتہ چلتا ہے کہ دن بھرسب رجسٹرارسٹی اپنے آفس میں سائلین کے بیان قلمبند کرتا ہے اور شام کوتمام رجسٹریاں سب رجسٹرار کے گھرپہنچا دی جاتی ہیں جن کی کلرک سکرونٹی کرتا ہے۔ سب رجسٹرارکی تعیناتی کے بعد رجسڑی برانچ سٹی میں ٹیکس غبن والی ہزاروں رجسٹریوں کا ریکارڈ ہی غائب ہے۔ جبکہ جعلی ٹیکس رسید والی رجسٹریاں سر ے سے موجود ہی نہیں ، سب رجسٹرار سٹی کا اہلمد کمیشن رجسٹر وثیقہ نویس کے پاس ہے جو سب رجسٹرار کے فرنٹ مین کے طور پر مشہور ہے۔ اس حوالے سے جب بھی کوئی شہری سب رجسٹرار سٹی سے شکایت کرتا ہے تو کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔اہلمد کمیشن وثیقہ نویس کے پاس ہوتا ہے اس اہل کمیشن رجسٹر کا ریکارڈ کسی کے حوالے ہی نہیں کیا جاتا سابق سب رجسٹراروں کی طرح یہ رجسٹر بھی آفس نہیں رکھا جاتا۔اس اہلمد کمیشن کے ذریعے سائلین کو بلیک میل کرکے منہ مانگی رشوت لیکر انڈر ویلیو رجسٹریاں کی جاتی ہیں ۔ رجسٹری برانج ملتان میں اتنے دھڑلے سے یہ سب کچھ ہورہا ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ ملتان میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر آفس نے اس پہ بالکل خاموشی سادھ رکھی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار کیا کررہے ہیں؟ وہ اس معاملے کی آگے رپورٹ کیوں نہیں کررہے؟ یہ انتظامی کنٹرول کے کمزور نہیں بلکہ تباہ ہوجانے کی علامت ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں