منگو کوچوان اور نئی تعیناتی - Baithak News

منگو کوچوان اور نئی تعیناتی

محمد سعیداختر

سعادت حسن منٹو کے دو افسانوں ، نیا قانون اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کو میں ان کے شہکار اور اروجنل افسانے سمجھتا ہوں ۔ شہکار اس لیئے کہ وہ تیکنیکی اعتبار سے اردو افسانے کی نئی جہت کی بنیاد بن سکتے تھے اگر ان افسانوں کے تیکنکی پہلوؤں پہ توجہ دی جاتی شاید کچھ تنقید نگاروں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہو لیکن میں لا علم ہوں۔ اورجنل اس لیئے کہ یہ دو افسانے سعادت حسن منٹو کی رپوتاژ صنف میں اور مشہور فرانسسی افسانہ نگار موپاساں کے اثر میں نہیں لکھے گئے تھے۔ ان دو افسانوں میں مکمل ڈرامائی تاثرات ہیں ۔ نیا قانون میں توقعات اور حقیقت میں واضح کشمکش ہے۔ طاقت کے جدلیاتی کھیل کے پس منظر مین ان دو کہانیوں کی بساط بچھی ہے۔ طاقت کے کھیل کو رچانے والے بہت سے گُر آزماتے ہیں کہ ان کا کھیل جما رھے۔ اس گُر میں ایک مستند نسخہ عام آدمی میں اس کے بااختیار ہونے کا احساس دلایا جانا بھی شامل ہے۔ نفسیات کی زبان میں اسے فریب delusions کہا جاتا ہے۔ فریب کا شکار فرد کسی ذہنی بیماری سے ہوتا ہے جو موضوعی مسلۂ ھوگا مگر جب معاشرہ فریب کا شکار ہو تو پھر وہ مرض معروضی ہوگا۔ طاقت کا کھیل رچانے والے اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے معاشرے میں ڈھیر سارے فریبوں کا جال بچھاتے ہیں کہ جس میں الجھے ایک بچارے فرد کیلئے نکلنا مشکل ہوتاہے۔ اور ایسا کرنا کسی بھی ریاست کی بنیادی ساخت کو بدلے بغیر عام آدمی کو اس کے بنیادی حقوق کا جھانسا دینا ۔ جب تک ایک ریاست اپنے آمرانہ ھتھکنڈوں سے دستبردار نہیں ہوگی تو اس کے ادارے طاقت کے دائرے سے باہر بسنے والے یعنی marginalized لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیسے کرے گی؟
منگو کوچوان بھی اسی فریب میں مبتلا ہے کہ نئے قانون کے آجانے سے ایسی ریاست جس کی ساخت نو آبادیاتی اصولوں پہ قائم ہے اسے اسکی شناخت اور بنیادی حقوق دے گی۔ رومن ایمپائر کے گلیڈی ایٹرز کی کہانیوں کو پڑھ لیجئے کہ کس طرح طاقت کے رکھوالوں نے گلیڈی ایٹرز کی خوبیوں کو اجاگر کرکے آمریت کی آئیڈیالوجی کی بنیاد قائم رکھی ۔ ایرک گنڈرسن نے اپنی تحقیقاتی مقالہ “ ایرینا کی آئیڈیالوجی “ میں ایرینا یا میدان کو ( جہاں گلیڈی ایٹرز اپنی بہادری کے جوہر دیکھا تے) ایک پیداواری ادارے کے طور پر پرکھا ہے ۔ جو حکمران اور رعایا کے درمیان رومن سماجی تعلقات کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا تھا۔ اگر اسے نظریاتی ریاست کے ھتھکنڈوں کے بارے میں لوئس التھوسر کے خیال کی روشنی میں دیکھا جائے تو، میدان کو سیاسی اور نفسیاتی ھتھکنڈوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایرینا رومی دنیا کے ایک مخصوص قسم کے وژن کی آفزائش کرتا نظر آتا ہے۔ اس وژن میں عام طور پر رومن رئیسوں اور بعد میں، خاص طور پر شہنشاہ کے ہر حکم کے جائز حکم کے طور پر تصدیق ہوتی تھی ۔ حکمرانوں کو ایرینا یا میدان کی شاید ہجوم سے زیادہ ضرورت تھی ۔ قصہ مختصر ریاست بہت سے فریبوں کو فروغ دے کر اپنی آمرانہ قوت کو تقویت دیتی ہے۔ اور ان فریب کی چالوں کو آئیڈیالوجی کا گورکھ دھندہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ منگو کوچوان کی طرح عام پاکستانی بھی اب یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ دھرنوں کی سیاست ، امریکہ مخالف نعرے اور کسی ایک خاص فرد کے ایک خاص ادارے کی مسند سنبھالنے کے بعد اسے حقیقی آزادی میسر ہوگی۔ عام آدمی ٹویٹر پہ یا سوشل میڈیا کے کسی دیگر پلیٹ فارم پہ کسی کو نشانہ بنا کر اس زعم کا شکار ہے کہ اس طرح وہ معاشرے میں تبدیلی کا پیامبر بن رھا ہے۔ مگر بچارے کو ملک میں موجود حکمران اشرافیہ کے ایک ٹولے کو برا بھلا کہہ کر دوسرے ٹولے کی بھرپور حمایت کرنا پڑتی ہے۔ جبکہ ہمارے اخبارات اور ٹیلی ویژن پہ جاری آئندہ بننے والے خاص عہدے دار کی بحث ریاست میں جاری فریب کی چالوں کو مزید ہوا دی رھی ہے۔ حکمران اشرافیہ اور طاقت کے کھیل کے تجزیے کی بجائے عام آدمی ایک فریب کے جال میں پھنسا ہے۔
ملک کی معشیت دن بدن ڈوبتی جا رھی ہے۔ غربت کا تناسب معاشرے میں بڑھنے لگا ہے۔ اور دور افق پر بھی کوئی ایسی حکومتی پائیدار پالیسی نظر نہیں آرھی کہ اس ملک میں معاشی استحکام کیسے لایا جائے۔ پورا معاشرہ سعادت حسن منٹو کے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا منظر پیش کر رھا ہے۔ ایک ہیجان ہے کہ جسکا کوئی سرا نہیں۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں