موثرمالی انتظام ز کر یا یونیورسٹی کو ممکنہ دیوالیہ پن سے بچا سکتا ہے - Baithak News

موثرمالی انتظام ز کر یا یونیورسٹی کو ممکنہ دیوالیہ پن سے بچا سکتا ہے

ملتان (انٹرویو: ارشد ملک )مؤثرمالی انتظام زکریایونیورسٹی کو ممکنہ دیوالیہ پن سے بچا سکتا ہے، پاکستان کو قائد اعظم کی شخصیت کا بھر پور عکس ہونا چاہئے، مختلف قومیتوں کے حاصل ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اورقومی امور میں شراکت داری کے احساس کے ذریعے متحد و مضبوط بنانا چاہئے، پاکستان کے موجودہ سیاسی و معاشی مسائل کا حل مرکزیت میں نہیں ہے،ڈی سنٹرلائزیشن کی جانب جانا ہو گا، پاکستان مستقبل میں امریکاکے حلقہ اثر سے باہر جاتا دکھائی دیتا ہے، پاکستانی جامعات کی زبوں حالی کے خاتمے کےلئے وائس چانسلر کی تعیناتی میں انتظامی صلاحیت کو اہمیت دینا ہوگی، زکریا یونیورسٹی میں انتہائی قابل اساتذہ کی بطور وائس چانسلر انتظامی ناکامیوں کی صورت میں ملک بھر کی جامعات میں منفرد مقام رکھتی ہے، ان خیالات کا اظہار بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین، ڈائریکٹر سنٹر فار انٹرنیشنل اسٹڈیز و ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز، سینئر تجزیہ کار ، پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق زین نے روزنامہ “بیٹھک ” ملتان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ایک سوال کے جواب میں پاک بھارت تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بین الا قوامی سیاست منڈیوں تک رسائی اور گلوبل سپلائی چین کی برقراری یا تعطل کے گرد گھوم رہی ہے ۔ جبکہ بھارتی ترجیحات ناقابل یقین حد تک بیو قوفیوں کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہے پاکستان کے وجود کو مٹانے کی پالیسی ہندوستانی سیاست میں مرکزیت کی حامل ہے حالانکہ اس سوچ کا براہ راست تصادم بین الا قوامی حقائق اور پاکستان کے پوٹینشل سے ہے ایٹمی صلاحیت، متحرک فوج اور بین الا قوامی توازن کے ہوتے ہوئے پاکستان کو معاشی طور تو ڈیفالٹ کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی ملکی وجود کو بزور طاقت اب ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ عدم استحکام پاکستان کو افغانستان سے کہیں زیادہ خطر ناک ملک ثابت کر سکتا ہے ۔ بین الا قوامی ایجنسیوں کو کماحقہ اندازہ ہے کہ دیوار سے لگایا گیا پاکستان خطے اور سپر طاقتوں کے مفاد کےلئے کس قدر پیچید و حیثیت اختیار کر سکتا ہے ۔لہذا ہندوستان کو سیاسی ڈائیلاگ کی جانب آکر موزوں سمجھوتے کرنا ہوں گے ۔

امریکاپاکستان کے تعلقات کے موجودہ دور پر اظہار خیال کرتے ہوئے انکا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی معاشی و سماجی مسائل کا حل مرکزیت میں نہیں ہے ڈی سنٹرلائزیشن کی جانب جانا ہو گا،پاکستانی جامعات کی زبوں حالی پر ان کا یہ کہنا ہے کہ وائس چانسلرز کی تعیناتی میں انتظامی صلاحیت کو اہمیت دی جانی چاہئے کیونکہ یہ انتظامی پوزیشن ہے جبکہ زکریا یونیورسٹی انتہائی قابل اساتذہ کی بطور وائس چانسلر انتظامی ناکامیوں کی صورت میں پاکستان بھر کی جامعات میں منفرد مقام رکھتی ہے۔فنانشل منیجمنٹ کی موثر صلاحیت زکریایونیورسٹی کو ممکنہ دیوالیہ پن سے محفوظ کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر زین یونیورسٹی میں گذشتہ 27 سال سے زائد عرصے سے متعدد اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی امور سے 1995 جنوری میں بطور لیکچرار اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ بعدازاں انھیں شعبہ سیاسیات سے علیحدہ ہونے والے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کا پہلا چیئرمین تعینات کر دیا گیا ۔ جبکہ بطور ڈائریکٹر اسٹیٹ اضافی انتظامی ذمہ داریاں بھی سرانجام دیتے رہے ۔ گذشتہ4 سال سے ڈاکٹر زین ڈائریکٹر سنٹر فار انٹرنیشنل سٹڈیز، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اور چیئر مین سپورٹس کمیٹی کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ انہوں نے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کی تعیناتی پر رضا کارانہ طور پر اپنی اضافی انتظامی ذمہ داریوں سے استعفی دےدیا تھا ۔ تاہم وائس چانسلر نے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ان انتظامی ذمہ داریوں کو یونیورسٹی کے وسیع تر مفاد میں جاری رکھنے کہ ہدایت کی ۔ پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق زین شعبہ سیاسیات اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے علاوہ یونیورسٹی گیلانی لا کالج اور فاصلاتی نظام تعلیم میں بھی تدریسی و تحقیقی فرائض سرانجام دے چکے ہیں ۔ ان کے زیر سرپرستی پی ایچ ڈی اور ایم فل کرنے والے طلبا کی تعداد 90سے زائدہے جبکہ درجنوں طلبا و طالبات ابھی بھی تحقیق کے سلسلے میں انکی زیرنگرانی کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر زین 50سے زائد ریسرچ آرٹیکلز ملکی اور بین الاقوامی حیثیت ریسرچ جرنلز میں شائع کرا چکے ہیں ۔ اور پاکستان چیئر پر نیپال کی تری جوون یونیورسٹی میں بطورسکالر بھی منتخب ہوئے تاہم حکومتی فنڈز کی عدم دستیابی کے پیش نظر جوائن نہ کر سکے ۔ ڈاکٹر زین کی متنوع شخصیت کا ایک اور حوالہ سیاسی امور پر ان کے بے لاگ تبصرے اور تجزیئے ہیں ملکی و بین الا قوامی سیاست کے اہم موضوعات پر ان کی دسترس ان کے مضبوط رابطوں اور تعلقات کی عکاس ہے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں