نقار خانہ اور طوطی کی آواز............ بار روم - Baithak News

نقار خانہ اور طوطی کی آواز………… بار روم

حکومت آئے روز بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کرتی رہتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نیپرا کو مزید چھ روپے سے زیادہ قیمت میں اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہی صورتحال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ہے۔ یہ بھی ہمارے ملک میں طرف تماشا ہے کہ ایک لاکھ 26 ہزار لٹرپٹرول ماہانہ صرف قومی اسمبلی کے نمائندوں کو مفت میں ملتا ہے۔ باقی آپ خود اندازہ لگا لیں تمام صوبائی اسمبلیاں،سینٹ،نیب اور تمام سیاسی اور سرکاری افسران بھی غیر قانونی مراعات لے رہے ہیں۔ ملک اس وقت مشکل میں ہے تو کیوں نہ سب سے پہلے سرکاری افسران کو ملنے والا مفت پٹرول، گیس، بجلی اور مراعات بند کی جائیں؟ اگر ملک میں 15 ہزار ماہانہ کمانے والا اپنی جیب سے پٹرول خرید سکتا ہے تو لاکھوں روپے تنخواہ لینے والا پٹرول خود کیوں نہیں خریدتا؟ جتنے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں یا سرکاری نوکر ہیں ان سب کا مفت کا پٹرول بند کیا جائے عوام ٹیکس دے دے کر مر گئی ہے۔

غالباً آٹھ دس سال پہلے سرگودھا میں واقع ہوا۔ پیر صاحب کا دعویٰ تھا کہ وہ مرے ہوئے اپنے مرید کو زندہ کر دینے کی صلاحیت و علم رکھتا ھے۔ ایک دن قریبی گاو¿ں کے کچھ مرید پیر صاحب کے پاس جمع تھے، تو پیر نے پر جوش انداز میں کہا کہ اگر آپ میں سے کچھ مرنے کو تیار ہو جائیں تو وہ انہیں مار کر دوبارہ زندہ کر دے گا،7 افراد تیارہو گئے، پیر صاحب انہیں کمرے میں لے گیا اور ساتوں کی گردنیں کاٹ دیں، سر باھر لا کر انکے رشتہ داروں کو دکھا دئیے اور تسلی دی کہ صبح یہ سب لوگ زندہ ملیں گے۔ رشتہ دار اور مجمع پیرصاحب کی علمیت کے نعرے لگاتا رہا۔۔ اور یقین کئے ہوئے تھا کہ یہ سب مقتول صبح صحیح سلامت ملیں گے۔رات گئے کسی نے پولیس کو پوری واردات بتائی، 7 افراد کا قتل،پولیس کیسے خاموش رہ سکتی تھی۔سینئر افسران سمیت پولیس فورا جائے وقوعہ پہنچ گئی۔ قاتل پیرصاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ پیرصاحب کے مزید مریدین بھی اکٹھے ہو گئے سب پیر کو قاتل ماننے سے انکاری تھے۔صبح بھی ہو گئی۔ مردے زندہ نہ ہوئے۔ اب مریدین نے کہنا شروع کر دیا کہ پولیس کی مداخلت کی وجہ سے پیرصاحب کا عمل مکمل نہیں ہو سکا، اسی لئے مردہ زندہ نہیں ھو سکے۔ ہمارے لوگوں کا قاتل پیر نہیں، پولیس ہے
سمجھانے بجھانے کے باوجود مقتولین کے رشتہ دار اور دیگر مریدین یہ ماننے کو تیار نہیں کہ پیر صاحب مردہ کو زندہ نہیں کر سکتا۔ کئی دنوں تک مریدین متعلقہ تھانہ کے سامنے احتجاج کرتے رہے، کئی مریدین کا پیر صاحب کی کرامات پر یقین کمزور نہ ہوا، وہ پولیس کو ذمہ دار سمجھتے رہے۔
اور اسی طرح آج کل ایک سرکاری ادارے نے خفیہ سروے کرایا ہے۔ جس مطابق 2018 ءمیں عمران کی حمایت کرنے والوں میں سے 66 فیصدافراد سمجھ گئے ھیں کہ وہ غلطی پر تھے، انکے ساتھ دھوکا ہوا۔ لیکن 33 فیصداب بھی پیر صاحب کی صلاحیتوں و کرامات پر یقین کئے ہوئے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ پیر صاحب جو گردنیں کاٹ رہا ہے وہ انہیں دوبارہ جوڑ کر بندے کو زندہ کر دے گا۔ پاکستان نقار خانہ بن چکا ہے جہاں طوطی یعنی عوام کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔ یہاں گردنیں کاٹنے والوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا چلن ہے مگر جو جان سے گئے وہ الٹا مطعون و مقہور گردانے گئے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں