نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ لاہور سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کا سی سی آر آئی کا مطالعاتی دور - Baithak News

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ لاہور سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کا سی سی آر آئی کا مطالعاتی دور

وفد کے ارکان نے ادارہ میں کپاس پر ہونےوالی تحقیق کی تعریف اورزرعی سائنسدانوں کو مبارکباد دی

ملتان (وقائع نگار) نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ لاہور کے 30ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء نے گروپ لیڈرمحمد عثمان،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ لاہور کی سربراہی میں سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کا مطالعاتی دورہ کیا۔ڈائریکٹر، سی سی آر آئی ملتان، ڈاکٹر زاہد محمود نے شرکاءکو بتایا کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کپاس پر ہونے والی تحقیق کا معیار عالمی سطح کا ہے اور اس کے نتیجہ میں اب تک کپاس کی زیادہ پیداواری اور اعلی خصوصیات کی حامل36اقسام عام کاشت کے لیے کاشتکاروں کو دی جا چکی ہیں اور کپاس کی پتہ مروڑ بیماری پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور کپاس کے کاشتکاروں کو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت میں برداشت والی کپاس کی اقسام دی جا چکی ہیں، انہوں نے شرکاء کو کپاس کی ملکی معیشت میں اہمیت اور اس کے تاریخی پس منظر سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی کپاس ریشہ کی مضبوطی اور سفیدی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور اس کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے جس سے زیادہ زر مبادلہ حاصل ہوگا۔ اس دوران شرکاء نے سوال وجواب بھی کئے۔گروپ لیڈر محمد عثمان، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ لاہور نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے دورے کا مقصد شرکاء کورس کی انتظامی امور کی ادائیگی میں مزید بہتری لانا ہے وفد کے ارکان نے ادارہ ہذا میں کپاس پر ہونے والی عالمی معیار کی تحقیق کی تعریف کی اور حاصل کی گئی کامیابیوں پر ادارہ کے زرعی سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں اعلی مقام دلا سکیں گے۔وفد کے ارکان نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹے مختلف شعبہ جات کا وزٹ بھی کیا۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں