حکومت کا قندیل بلوچ قتل کیس کی پیروی کرنےکا اعلان - Baithak News

حکومت کا قندیل بلوچ قتل کیس کی پیروی کرنےکا اعلان

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے قندیل بلوچ قتل کیس کی پیروی کرنے کا اعلان کر دیا، جس کیلئے وزارت قانون و انصاف اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مشاورت مکمل کرلی۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی لاءریفارمز کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، موٹروے ریپ، زینب ریپ اور باقی کیسز کے فیصلوں کو مثال بنائیں گے۔ عوام کا ساتھ چاہیے، فتح پاکستان کی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عثمان مرزا کیس کی بھی پیروی کرے گی۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے قندیل بلوچ کے قتل کیس میں نامزد مقتولہ کے بھائی اور کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو بری کر دیا تھا۔ ملتان بینچ کے جسٹس سہیل ناصر نے مقتولہ کے قتل کے کیس میں راضی نامے کی بنیاد اور گواہوں کے اپنے بیانات سے منحرف ہونے پر مرکزی ملزم وسیم کو بری کیا۔قندیل بلوچ کو قتل کرنے کے جرم میں ملزم وسیم کو 27 ستمبر 2019 کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ قندیل بلوچ قتل کیس میں وسیم کی جانب سے ایڈووکیٹ سردار محبوب نے ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے سامنے ملزم کی بریت سے متعلق دلائل پیش کئے تھے۔مقتولہ قندیل بلوچ کے والد کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنے بیٹوں کو معاف کر دیا ہے، لہذا عدالت بھی معاف کردے۔قندیل بلوچ کو انکے بھائی وسیم نے 15 جولائی 2016 کو غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا۔ پولیس کے مطابق قندیل بلوچ کا بھائی انکی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کی وجہ سے ناراض تھا اور غیرت کے نام پر قتل کرکے فرار ہوگیا تھا۔ قتل کی واردات پر پولیس کی جانب سے تفتیش کا آغاز ہوا تو تحقیقات کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔قندیل بلوچ کے قتل کیس کی ایف آئی آر ان کے قتل کے ایک روز بعد درج کرائی گئی تھی۔ قندیل بلوچ کے قتل کیس میں اسکے بھائی وسیم اور اسلم شاہین سمیت مفتی عبدالقوی، عبدالباسط اور حق نواز کےخلاف عدالت میں سماعتیں ہوئیں۔قتل کیس کے تمام ملزمان ضمانت پر تھے تاہم مرکزی ملزم اور قندیل بلوچ کا بھائی وسیم جیل میں رہا اور عدالت نے ضمانت مسترد کردی تھی۔ قندیل بلوچ کے قتل کیس کا معاملہ گزشتہ ساڑھے 3 سال سے عدالتوں میں زیر سماعت تھا اور ابتدائی طور پر اس کیس کی سماعتیں علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوئی تھیں۔بعد ازاں کیس کو ماڈل کورٹ منتقل کیا گیا تھا، جہاں پر یومیہ بنیادوں پر کیس کی سماعتیں کی گئیں۔ اسی کورٹ میں قندیل بلوچ کے والدین نے اپنے بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست بھی دائر کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔عدالت کے مطابق قندیل بلوچ کے بھائیوں کو معاف کرنے سے قتل کیس میں نامزد دیگر ملزمان پر بھی فرق پڑ سکتا تھا، اس وجہ سے عدالت نے والدین کی درخواست مسترد کردی تھی۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں