پنجاب فر ٹیلائزرز کنٹرول آرڈر نہ منظور کھاد مہنگی ہو گئی: مینو فیکچررز ڈسڈری بیوٹرز - Baithak News

پنجاب فر ٹیلائزرز کنٹرول آرڈر نہ منظور کھاد مہنگی ہو گئی: مینو فیکچررز ڈسڈری بیوٹرز

ملتان (سپیشل رپورٹر) لوکل فرٹیلائزرز مینوفیکچررز اور ڈسٹری بیوٹر کمپنیوں نے محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پنجاب فرٹیلائزرز کنٹرول آرڈر مسترد کر دیا۔ اس سلسلے میں مختلف کمپنیوں کے مالکان ایک اجلاس نیو ملتان ای بلاک میں منعقد ہوا جس میں شرکاء نے محکمہ زراعت کی جانب سے اٹھارہ فروری کو جاری ہونے والے نئے پنجاب فرٹیلائزرز کنٹرول آرڈر کو یکسر مسترد کرتے کہا کہ نئے آرڈر کے تحت پروڈکٹس کی علیحدہ علیحدہ کے رجسٹریشن کے طریقہ کار سے 500 کمپنی مالکان کے چولہے ٹھنڈے ہوں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب محکمہ زراعت نے فرٹیلائزرز کنٹرول آرڈر اور کمپنیوں کے پروڈکٹ رجسٹریشن کا ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا ہے، جس میں لوکل مینوفیکچررز کی فیس دس ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی ہے۔ جبکہ ڈسٹری بیوٹر کی فیس 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی ہے۔ جس سے ایگریکلچر پرائیویٹ سیکٹر میں سخت بے چینی پیدا ہو گئی ہے، اس نئے فرٹیلائزر قانون میں امپورٹرز کو سہولیات دی گئی ہیں جبکہ لوکل مینوفیکچررز اور ڈسٹری بیوٹر کا بزنس بند کرنے کا مکمل اہتمام کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب کے اس فرٹیلائزرز کنٹرول آرڈر کو کمپنیاں تسلیم کرنے سے مکمل طور پر انکاری ہیں کیونکہ حالیہ فرٹیلائزرز قانون صرف بڑے گروپوں اور امپورٹرز کو نوازنے کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔ حکومت فوری طور پر اس کالے قانون کو ختم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی وجہ سے ملک میں کھاد کا شدید بحران آئے گا۔ اور کھاد کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھ جائیگی۔ جس سے کسان اپنی فصل میں کوئی بھی کھاد جس میں نائیٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش شامل ہیں استعمال نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے لاگو ہونے سے پنجاب کی تقریباً پانچ سو کمپنیاں بند ہو جائیگی۔ اور وہ کاروبار کرنے کے قابل نہیں رہینگی۔ جس سے کسان کو ان کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی سروسز کی دستیابی میں بھی کمی آئے گی۔ کیونکہ ان متاثرہ کمپنیوں کے ہزاروں ٹیکنیکل سیلز سٹاف کسانوں کو سروس دینے کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔ کمپنی مالکان نے مزید کہا کہ اگر حکومت پنجاب محکمہ زراعت نے اس کالے قانون کو ختم نہیں کیا تو ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ اور حکم امتناعی حاصل کریں گے۔ یہ زرعی مارکیٹنگ بزنس مکمل طور پر کارپوریٹ ایگریکلچر بزنس سیکٹر کی جھولی میں ڈال دینے کی ایک سازش ہے جسے ہم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ واضح رہے پاکستان کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے پہلے سے بھی لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں رٹ دائر کی ہوئی ہے کہ سوائل فیزبیلٹی ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو ہر کمپنی کے علیحدہ علیحدہ پروڈکٹس رجسٹر کرنے اور برانڈ نیم الاٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے لہذا اس غیر قانونی طریقے کار کو ختم کرکے پیسٹی سائیڈ کی طرح فرٹیلائزرز کا بھی ایک ہی لائسنس جاری کیا جائے۔ عدالت نے اس حوالے سے محکمہ زراعت سے کمنٹ مانگے ہوئے ہیں.

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں