ڈیرہ غازی خان(ریاض جاذب) موجودہ شہر ڈیرہ غازی خان کو انگریزوں نے پہلے پلان کیا پھر اسے تعمیر کیا اور اسکے بعد اسے بسایا - Baithak News

ڈیرہ غازی خان(ریاض جاذب) موجودہ شہر ڈیرہ غازی خان کو انگریزوں نے پہلے پلان کیا پھر اسے تعمیر کیا اور اسکے بعد اسے بسایا

پرانا ڈیرہ شہرجب 1836 سے بتدریج دریا برد (سندھ) ہونا شروع ہوا

انگریز حکومت نے نیا شہر اس پرانے دیرہ شہر کے مغرب میں بنانے کی پلاننگ کی اور یوں 1910 میں نئے ڈیرہ غازی خان شہر میں آبادکاری شروع ہو گئی اوراگلے چند سال میں نیا شہر وجود میں آگیا۔ یہی وجہ ہےکہ موجودہ ڈیرہ غازی خان شہر میں بیشتر تعمیرات کی عمربھی سو سال یاسواسو سال ہےمگر کچھ عمارات اس سے بھی پرانی ہیں جواس وقت نواح میں تھیں اورنئےبسائے جانے والے شہر کا حصہ بن گئیں۔ ان عمارتوں میں مزارات،آستانےاور مساجد سمیت دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں شامل ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کی پہچان کے کئی حوالےہیں تاہم ان میں ایک پہچان جامع مسجد بلاک 3 میں واقع قدیمی جامع مسجد ہےجوشہرکی تاریخی اور مرکزی جامع مسجد ہے جس کا انتظام و انصرام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔
جب ڈیرہ غازیخان شہر دریا برد ہو گیا اور نیا شہر موجودہ جگہ بسانے کا فیصلہ کیا گیا تو شہر کیلئے ایک مرکزی مسجد کی تعمیر کی تجویز سامنے آئی۔ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بیڑہ اس وقت کے جید عالم دین حضرت علامہ مولانا غلام جہانیاںؒ نے اٹھایا۔ موجودہ جامع مسجد کی جگہ ایک چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی جس کو وسیع اور کشادہ کرنیکا فیصلہ کیا گیا یوں اس مسجد کی تعمیر 1910 میں علامہ مولانا غلام جہانیاںؒنےمعززین علاقہ کے تعاون سے شروع کی جسکی تکمیل 3سال بعد1913 میں مکمل ہوئی۔ مسجد کی چھت لکڑی کے شہتیروں اور کڑیوں سے بنائی گئی مگر یہ ڈاٹ سسٹم کے تحت بنائی گئی۔ ماہرین کے مطابق لکڑی اور ڈاٹ سٹرکچر سے بنی ہوئی یہ سب سے بڑی چھت ہے جوڈیرہ غازی خان میں ہے۔
یہاں درس و تدریس کی ضروریات کو پوری کرنے کیلئےمدرسہ قائم کیا گیا تھا جس کو علامہ مولانا غلام جہانیاں ؒنے اپنے مرشد معین الدین کوریجہ ؒکے نام سے منسوب کرتے ہوئے اس کا نام جامعہ معینیہ رکھا۔جامعہ معینیہ اپنے وقت کا معروف مدرسہ تھا جو 70 کی دہائی کچھ تنازعات کیوجہ ختم ہوگیا اور اور اسی تنازع کےنتیجےمیں مسجدبھی اوقاف کےحوالےکر دی گئی۔اس مسجد کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آزادی کےبعدپاکستان میں میلادشریف کےجلوس کی ابتداء اسی مسجدسےکی گئی اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔مرکزی جامع مسجد بلاک 3 ڈیرہ غازی خان کے مینار کی بھی الگ کہانی ہے، مسجد کا بائیں سمت کا مینار شدید آندھی کے باعث گرگیاتھاتومولانا غلام جہانیاں مہتمم جامع مسجد نے بعد نماز جمعہ اعلان کیا کہ چندہ اکٹھا کیا جائے تاکہ مینار بنوایا جا سکے تب میاں اللہ بخش بھٹی بلاک 8 والے نے کھڑے ہو کر کہا کہ چندہ جمع کرنیکی ضرورت نہیں مینار میں بنوا کر دیتا ہوں یوں نیا مینار تعمیر کیا گیا ۔ مینار کی 100 سے زائد سیڑھیاں ہیں اور 150 فٹ اونچا ہے ۔
مسجد میں قرآن پاک کا ایک قدیمی قلمی نسخہ بھی موجودہے۔اس نسخےکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہے کہ یہ کسی تابعی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی اس مرکزی جامع مسجد میں یہ قرآن مسجد کی تعمیر کےوقت ہی لایا گیا تھا جو کہ اب بھی کافی بہتر حالت میں ہے۔ یہ قرآن پاک سال میں صرف ایک مرتبہ رمضان المبارک کے آخری جمعتہ المبارک کو زیارت کیلئےکھولا جاتا ہے۔ تاریخی اور قدیمی جامع مسجد میں گاہے بگاہے تزئین و آرائش و مرمت ہوتی رہی مگر توسیع نہیں ہوئی اور اس وقت مسجد خستہ حالی کیطرف جارہی ہے ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ اوقاف اور حکومتی ارباب اختیار کو چاہئے اس مسجد کی بحالی اوراسے محفوظ بنانے کیساتھ اس میں توسیع اور تزئین و آرائش کامنصوبہ بنائیں۔زونل ایڈمنسٹریٹر اوقاف رانا طارق جوکہ چند ماہ پہلے تعینات ہوئے ہیں نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ مرکزی جامع مسجد کی تزئین و آرائش اور مناسب دیکھ کا خصوصی منصوبہ کیلئے فنڈزکیلئے پہلے ہی لکھا چا چکا ہے تاہم حالیہ دنوں میں مسجد کی چھت کی مرمت ہوئی جس کی وجہ سےچھت محفوظ ہے، تاریخی اہمیت کی مسجد کے لیے جلد نیا منصوبہ شروع ہوگا۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں