ڈیرہ غازی خان کے پہلے سرکاری دفتر کو ملبے کا ڈھیربنا دیا - Baithak News

ڈیرہ غازی خان کے پہلے سرکاری دفتر کو ملبے کا ڈھیربنا دیا

عمارت کے کچھ حصے شکستگی کا شکار تھے،لیکن مرمت سے اسکو پختہ کیا جاسکتا تھا،انگریز دور کی اس مضبوط عمارت کو ہیوی مشینری کی مدد سے گرایا گیا .
صوبائی سطح پر اتھارٹی قائم کی جائے جو پورے صوبہ میں تاریخی عمارات کو بلاوجہ گرانے سے روکے اور انکی بحالی کیلئے سفارشات پیش کرے:شہری
ڈیرہ غازی خان(بیٹھک رپورٹ)دریا کی ظالم موجوں کے مسلسل حملوں کے آگے شکست تسلیم کرنے کے بعد پچھلی صدی کے اوائل میں ڈیرہ غازی خان کا شہر دریائے سندھ کے کنارے سے موجودہ جگہ پر منتقل ہوا، چونکہ ابھی تک کسی سرکاری دفترکی تعمیر مکمل نہیں ہوئی تھی توسب سے پہلے پٹوار خانہ کا ریکارڈ سابق سپیکر پنجاب اسمبلی شیخ فیض محمد کی کوٹھی کی بیٹھک میں رکھا گیا جہاں سے کچہری کے معاملات کو دیکھا گیا،اس وقت ڈیرہ غازی خان کے سرکاری دفاتر تکمیل کے آخری مراحل میں تھے، چونکہ نئے شہر میں پراپرٹی الاٹمنٹ کے معاملات کو پہلی ترجیح ملنی تھی لہٰذا موجودہ شہر ڈیرہ غازی خان کا پہلا سرکاری دفتر ضلع کچہری و رجسٹری برانچ سب سے پہلے مکمل کیا گیا اور شیخ فیض محمد کی بیٹھک سے سارا ریکارڈ اس میں منتقل کیا گیا۔ کچہری کی عمارت بہت خوبصورت اور پختہ تھی، اس میں تین اطراف میں برآمدے بنائے گئے تھے جہاں لوگ اپنے کام کے سلسلے میں آتے اور اپنی باری کا انتظار کرتے، اس کچہری میں ریکارڈ رومز بھی بنائے گئے جن میں انگریز دور کی مضبوط لوہے الماریاں رکھی گئیں، ان الماریوں کی چادر کی موٹائی کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں رجسٹری برانچ بھی قائم کی گئی، بمبئے ہوٹل سے کمشنر آفس کی طرف مڑنے کے بعد یہ پہلی عمارت تھی جو گذرنے والوں کو اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی تھی، اس کے خوبصورت فن تعمیر،تین اطراف میں لمبے برآمدے ترتیب کے ساتھ ستون، اور مرکزی عمارت کی چمنی، فن تعمیرکے یہ تمام عناصر مل کر ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتے تھے۔اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ اس عمارت کی دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس کے کچھ حصے شکستگی کا شکار ہوگئے تھے،لیکن ان کی بر وقت مرمت سے اس کو پختہ کیا جاسکتا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ اس خوبصورت اورمضبوط عمارت کو ماڈرنائزیشن کی بھینٹ چڑھا دیا گیا،انگریز دور کی اس مظبوط عمارت کو ہیوی مشینری کی مدد سے گرایا گیا، چوڑی دیواروں ، مضبوط اینٹوں اور کوالٹی میٹیریل سے بنی اس پائیداراور تاریخی عمارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا جسے ڈیرہ غازی خان کا پہلا سرکاری دفتر ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ظاہر ہے متعلقہ محکموں نے اس عمارت کو خستہ حال اور خطرناک قرار دے دیا ہوگا، اس عمارت کی کیپسٹی تھوڑی ہوگی اور وقت کے ساتھ ساتھ دفاتر کم پڑ گئے ہونگے۔ لیکن ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کا حل یہ تو نہیں ہو نا چاہئے تھا کہ تاریخی ورثہ کو خستہ حال قرار دےکر گرا دیا جائے اوراس کی جگہ نئی عمارت بنائی جائے، اول تو انگریز دور کی تمام عمارات بہت مضبوط بنائی گئی تھیں جن کا آج کی تعمیرات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، اگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ان کی حالت ٹھیک نہیں تھی تو تعمیرات کے ماہر اور انجینئرز کے ساتھ مل کر کوئی ایسا ڈیزائن بنایا جاتا کہ پرانی عمارت کو بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ رکھا جاتا اور اس کے تین اطراف خالی جگہ پر نئے بلاکس و دفاتر بنائے جاتے ، اس سے نہ صرف ایک قیمتی ورثہ ضائع ہونے سے بچ جاتا بلکہ اس جگہ کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں پائی جاتی ہیں جہاں پرانی تاریخی عمارات کوگرانے کے بجائے اپنی اصلی حالت میں محفوظ کیا گیا۔ جیسے انگریز دور کی عمارت ہندو ہائی سکول ڈی جی خان موجودہ گورنمنٹ کامرس کالج، ڈیرہ غازی خان کو پچھلی دہائی میں گراکر نیا بنانے کا فیصلہ ہوا تھا، لیکن پروفیسر سجاد خٹک صاحب نے مخالفت کی اوراپنے فیصلہ پر ڈٹے رہے ، انہوں نے اس کالج کی تاریخی مرکزی عمارت کو گرانے نہیں دیا بلکہ اس کو مزید مضبوط بنوایا۔ وہ عمارت آج بھی قائم ہے۔ مہذب معاشروں میں ورثہ سے محبت شعور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اپنے تاریخی ورثہ سے پیار کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں اس شعور کا فقدان ہے، ہم اپنی تاریخی عمارات سے پیار کرنے کی بجائے ان کو کھنڈر بناکر کر حفاظتی نقطہ نظر سے گرانے کو فوقیت دیتے ہیں۔ آج تک ہمارے ہاں جہاں بھی انگریز دور کی پرانی عمارات کو گراکر نئی عمارات بنائی گئی ہیں،وہ اتنی مضبوط یا پائیدار نہ بن سکیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف منسٹر پنجاب سے گذارش ہے کہ صوبائی سطح پر اتھارٹی قائم کی جائے جو پورے صوبہ میں تاریخی عمارات کو بلاوجہ گرانے سے روکے اور ان کی بحالی کے لیے اپنی سفارشات پیش کرے ، یا یہ کام والڈ سٹی اتھارٹی لاہور کے دائرہ اختیار میں لایا جائے جو کامران لاشاری صاحب کی سربراہی میں پرانی تاریخی عمارات کی بحالی اور خوبصورتی پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں