گر فتا ر صحافی کا ایف آئی ا ے اسپیشل مجسٹر یٹ کی عد ا لت سے جسمانی ریما نڈ - Baithak News

گر فتا ر صحافی کا ایف آئی ا ے اسپیشل مجسٹر یٹ کی عد ا لت سے جسمانی ریما نڈ

ملتان (رانا امجد علی امجد)پیکا اور تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم سیل ملتان کے ہاتھوں گرفتارصحافی قاضی قدیر احمد خان کےخلاف مقدمے کے اندراج نے ایف آئی اے کی ورکنگ پر سوالات اٹھا دئیے۔ قانونی ماہرین نے مقدمے کے مندرجات کے مطابق اسے پولیس کے دائرہ اختیار میں قرار دےدیا۔ ایف آئی اے نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پھرتی دکھائی، جبکہ ایف آئی اے ملتان نے گرفتار صحافی کو سپیشل مجسٹریٹ ایف آئی اے ملتان کی عدالت میں پیش کر دیا۔ فاضل مجسٹریٹ نے تین روزہ ریمانڈ جسمانی منظور کرلیا اور اسے ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا، تفصیل کے مطابق ایف آئی اے ملتان سائبر کرائم سرکل تھانہ میں درج مقدمہ نمبر 39/22 میں کہا گیا ہے کہ راجن پور کے رہائشی قاضی قدیر احمد نے مقامی لینڈ ڈویلپر امجد فاروق نامی شخص سے مبینہ بلیک میلنگ، سوشل میڈیا پر جعلی،من گھڑت، بیہودہ الزامات پر مبنی پوسٹیں لگا کر پہلے دو پلاٹ ہتھیا لئے اورپھر مزید20لاکھ روپے بھتہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ملزم ایک عرصہ سے مقامی افراد کو بلیک میل کرتا اور سوشل میڈیا پر من گھڑت پوسٹیں شئیر کرتا تھا۔ اسی طرح دوسری ایف آئی آر نمبر 40/22 میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے محکمہ صحت راجن پور کے اکاﺅنٹنٹ محمد نواز کےخلاف کرپشن کی خبریں لگا کر اسے بلیک میل کیا۔ جنکی درخواستوں پر ایف آئی اے نے بجلی کی سی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کےخلاف پیکا کی دفعات 13,14,20,24اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 384,506,419,420,109کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے۔ اور ملزم صحافی کو راجن پورمیں اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارکر گرفتار کر لیا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کا طریقہ تفتیش پولیس کی نسبت خاصا منفرد ہے، جس میں پہلے انکوائری کی جاتی ہے، بعد ازاں اگر جرم قابل دست اندازی ایف آئی اے ہو تو گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے، جن الزامات کے تحت مقدمات درج کر کے گرفتاری کی گئی ہے انکے مندرجات ایف آئی آر کے مطابق یہ جرائم قابل دست اندازی پولیس بنتے ہیں، اس بارے میں قانونی ماہرین نے روزنامہ بیٹھک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیکا کی دفعات کے تحت ہتک عزت و حرمت کا اطلاق زیر شکایت سوشل میڈیا پوسٹس کی فرانزک رپورٹ پر ہوتا ہے۔ اب قابل دست اندازی پولیس کے معاملات کو بھی ایف آئی اے نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سنبھال لیا ہے۔ ماہرین نے سائبر کرائم کی تعریف جو وکی پیڈیا میں دی گئی ہے اس کے مطابق سائبر کرائم سے مراد انٹر نیٹ یا کسی الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے کسی فرد، گروپ یا آرگنائزیشن کے خلاف ہتک آمیز مواد پیش کرنا ہے۔ اس میں دھمکیاں دینا، جنسی تعلقات پر مجبور کرنا، بلیک میل کرنا، متاثرہ شخص یا گروہ کی اجازت کے بغیر ذاتی معلومات شئیر کرنا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں، جبکہ بھتہ وصولی کا چیپٹر الگ ہے۔ البتہ کسی کرپٹ شخص کی کرپشن طشت از بام کرنے کی بات اور ہے۔ پیکا کے تحت ایف آئی اے بلاجواز کارروائیوں میں ملوث ہے، جو کہ اختیارات سے تجاوز کا عملی مظاہرہ ہے۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق ایف آئی اے نے پیکا قانون کو شہریوں بالخصوص صحافیوں کو ہراساں کرنے کےلئے استعمال کرناوطیرہ بنا رکھا ہے اور ایف آئی اے کا زیادہ تر نشانہ صحافی بن رہے ہیں، چنانچہ ایف آئی اے کی ورکنگ پر سنجیدہ حلقوں اور قانونی ماہرین نے سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ ایف آئی اے کے ترجمان کے موقف کے لئے روزنامہ بیٹھک ملتان کے صفحات حاضر ہیں۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں