یکساں سول کوڈ : ہندوستان کی سیاسی جماعتیں کیا سوچتی ہیں؟ - Baithak News

یکساں سول کوڈ : ہندوستان کی سیاسی جماعتیں کیا سوچتی ہیں؟

ہندوستان میں “یکساں سول کوڈ” پر شد ومد سے بحث ہورہی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کا موقف ہے کہ “یکساں سول کوڈ” کی آڑ میں بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کے ہندوتوا کوڈ کو نافذ کرنا چاہتی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو کمتربنانا ہے۔ کانگریس کے حلقے کی جانب سے ایک تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ “یکساں سول کوڈ” کی بجائے “یکساں ویمن کوڈ” لایا جائے جس میں عورتوں کے شادی، طلاق اور وراثت میں برابر حقوق تسلیم کیے جائیں اور اسے لازمی کی بجائے اختیاری ہونا چاہیے۔سماج وادی پارٹی کے سربراہ کا موقف ہے کہ یکساں سول کوڈ کا معاملہ مذہبی جماعتوں پر چھوڑ دینا چاہیے اور وہ اس حوالے سے فیصلہ کریں۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکس واد) ، کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا، کیمونسٹ پارٹی آف مارکس لینن واد کا موقف ہے کہ “یکساں سول کوڈ” کی بجائے تمام مذہبی برادریوں کے “پرسنل لا کوڈز” میں اصلاحات کی جائیں اور ان میں جو عورت مخالف قوانین ہیں ان کو بدلا جائے۔
بھارتیا جنتا پارٹی کا موقف ہے کہ آئین ہندوستان کی شق نمبر 44 کے تحت ملک میں “یکساں سول کوڈ” نافذ کیا جائے۔مسلمانوں اور سکھوں اور برہمن ہندو¿ں کی جو مذہبی تنظیمیں ہیں وہ ہر کمیونٹی کے پرسنل لاز کو جیسے وہ ہیں برقرار رکھنے کے حامی ہیں ۔
یکساں سول کوڈ پر ڈاکٹر امبید کا موقف تھا کہ وہ اسے نافذ کرنے کے حق میں تھے۔ انہوں نے1951ءمیں ہندوﺅں کے لئے ڈاکٹر امبید کرنے ” ہندو پرسنل کوڈ“ کے نام سے ایک بل متعارف کرایا تھا جسے برٹش دور میں ہندو سول کوڈ کی جگہ لانا چاہتے تھے جو منوسمرتی قوانین سے اخذ کرکے نوآبادیاتی حکمرانوں نے نافذ کیا تھا جیسے انہوں نے فتاوی عالمگیری کی بنیاد پر مسلم پرسنل کوڈ بنایا تھا۔
“میں ذاتی طور پر نہیں سمجھتا کہ مذہب کو یہ وسیع اور توسیعی دائرہ اختیار کیوں دیا جائے جس سے پوری زندگی کا احاطہ کیا جا سکے اور مقننہ کو اس میدان میں تجاوزات سے روکا جا سکے۔ آخر ہم یہ آزادی کس لیے حاصل کر رہے ہیں؟ ہمیں یہ آزادی اپنے سماجی نظام کی اصلاح کے لیے حاصل ہے، جو اتنی ناانصافیوں سے بھرا ہوا ہے، اتنی عدم مساوات، امتیازات اور دیگر چیزوں سے بھرا ہوا ہے، جو ہمارے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ اس لیے کسی کے لیے یہ تصور کرنا بالکل ناممکن ہے کہ پرسنل لاءکو ریاست کے دائرہ اختیار سے خارج کر دیا جائے گا۔”
یکساں سول کوڈ کو پہلے آرٹیکل 35 میں شامل کیا گیا تھا تاہم اسے آئین کے دھارے(آرٹیکل) 44 میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ امبیڈکر کا خیال تھا کہ مذہب کو دیا گیا وسیع دائرہ اختیار مقننہ کو سماجی انصاف لانے سے روک دے گا۔
ہندوستانی مسلم قدامت پرست جو اسلام میں شادی ، طلاق، وراثت وغیرہ کی قرون وسطی میں کی گئی سخت گیر فقہی تعبیروں کو عین اسلام قرار دیتے ہیں اور یہاں تک کہ مقامی رسوم و رواج اور عرف عام سے وضع کی جانے والے قوانین کے غیر لچک دار ہونے اور غیرمتبدل ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور ان سے ہٹ کر کسی اور راہ کو اسلام سے انحراف سمجھتے ہیں ان کے نزدیک ہندوستان کے آئین میں شامل “مسلم پرسنل کوڈ” میں شامل مسلم پرسنل قوانین میں کوئی بھی تبدیلی اسلام سے انحراف ہے اور وہ اسے مسلمانوں کو کمتر بنائے جانے کے پروسس کا حصّہ قرار دیتے ہیں۔
دلت کمیونٹی کے عظیم نظریہ ساز لیڈر بی آر امبیدکر جنھوں نے ہندوستان کے آئین کا ڈرافٹ تیار کیا تھا نے اس ڈرافٹ میں “یونی فارم سول کوڈ” / یکساں سول کوڈ- یو سی سی کی شق نمبر 33 شامل کی تھی جسے بعد ازاں آئین کی شق نمبر 44 میں شامل کیا گیا تھا اور اسے ڈی ایس پی ڈی کے تحت کردیا گیا تھا۔ جواہر لال نہرو کی قیادت میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کی حکومت نے یو سی سی کی تشکیل اور نفاذ کو اس لیے زیر التوا رکھا کہ اس کی اتحادی مسلم قدامت پرست تنظیمیں جن میں جمعیت علماءہند، آل انڈیا شیعہ پولیٹکل کانفرنس، کل ہند جماعت غربا اہل حدیث، مجلس احرار الاسلام ہند اور خود قدامت کئی ایک کانگریس کے مسلم پارلیمنٹرین (اپنے حلقہ انتخاب میں قدامت پرست مسلمانوں کے بھاری ووٹ بینک کے سبب) مسلم پرسنل کوڈ کو ختم کرنے کے مخالف تھے۔ جبکہ دوسری طرف اونچی ذات کے ہندو¿ں کی ایک بڑی تعداد برٹش دور میں منوسمرتی قوانین سے بنائے گئے ہندو پرسنل کوڈ کو ختم کرنے کی مخالفت کررہے تھے۔
بھارتیا جنتا پارٹی آل انڈیا کانگریس کی اسی کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے منشور میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو شامل کیے ہوئے ہے اور جن ریاستوں میں اس کی حکومت ہے وہاں وہ اس کو نافذ کرنے کے وعدے کررہی ہے اور وہ کانگریس کے سیکولر ازم سے وابستگی پر سوال بھی اٹھارہی ہے۔ بھارتیا جنتا پارٹی کے میڈیا بھگت مسلم قدامت پرستوں کو مسلم عورتوں کے برابری کے حقوق دینے کے مخالف بھی قرار دے رہے ہیں – وہ مسلم عورت کے حق طلاق کی حمایت اور حلالہ کے تصور کی مخالفت کرتے ہیں – ان کا موقف ہے کہ مسلم پرسنل کوڈ عورت سے طلاق کا حق سلب کرتا ہے اور بعض صورتوں میں اس پہ حلالہ مسلط کرتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی “یکساں سول کوڈ” کو “آپشنل” رکھنے کے حق میں بھی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جہاں وہ بی آر امبیدکر کے نقطہ نظر سے انحراف کرتی ہے ۔
اس سارے خلاصے کے بعد ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹیوں کا یہ موقف کہ ہر ایک مذہبی کیمونٹی کے پرسنل لاز میں اصلاحات کی جائیں ایک ایسی تجویز ہے جو بادی النظر میں اس لیے ناقابل عمل نظر آتی ہے کہ اس پر مسلمانوں کی قدامت پرست لیڈر شپ کبھی راضی نہیں ہوگی ۔ وہ تو کسی حکومت کو یہ حق دینے کو بھی تیار نہیں ہیں کہ ہندوستان کے آئین میں یکساں سول کوڈ بھی لاگو ہو اور پرسنل کوڈز بھی اور ہر شہری کو ان میں سے کسی کو اختیار کرنے کی آزادی ہو۔ کانگریس آج بھی مسلم قدامت پرست تنظیموں اور اتحادیوں اور اپنی صف میں موجود مسلم قدامت پرستوں کی ناراضگی مول لینے کو تیار نہیں ہے۔
مسلم قدامت پرست مسلم پرسنل کوڈ میں موجود مسلم پرسنل لاز کو فقہی ضابطوں سے کہیں آگے جاکر عقیدے کے دائرے میں لیکر آجاتے ہیں جہاں پر وہ آکر اسے مذہبی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے منافی بتاتے ہیں اور ان کو مسلمانوں کے لیے آپشنل کے بجائے لازمی اور عقیدے کا جزو بتاتے ہیں ۔
ہندوستانی لیفٹ اور سیکولر لبرل جو اس وقت کرناٹک میں چل رہے تعلیمی اداروں میں “حجاب پہ پابندی” کے ایشو پر مسلم قدامت پرستوں کے ساتھ محض اس بنیاد پر کھڑے ہیں کہ وہ اسے مسلم عورت کا ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ مسلم قدامت پرست اور بنیاد پرست اسے کسی مسلمان عورت کی ذاتی چوائس کا معاملہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے اپنا مذہبی عقیدہ اور فریضہ مانتے ہیں اور پردے کو اسلام کا لازمی حصّہ مانتے ہیں اور دیکھا جائے تو مسلم قدامت پرست سول کوڈ کے سوال پہ سیکولر ازم کو سرے سے رد کردیتے ہیں۔ ایسے میں مسلم قدامت پرستوں کے ساتھ ہندوستانی لیفٹ اور سیکولر لبرل کا کھڑا ہونا اپنے سیکولر پوائنٹ آف وویو سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔
(عامر حسینی روزنامہ بیٹھک ملتان کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر ہیں )

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں