16 سال پہلے ذہنی توازن خراب،علاج پر زمین فروخت ہوئی :بھائی - Baithak News

16 سال پہلے ذہنی توازن خراب،علاج پر زمین فروخت ہوئی :بھائی

خانیوال( سپیشل رپورٹر) ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں کے تاریخی قصبے تلمبہ کے نواحی علاقے ڈانگراوالہ میں مقدس اوراق کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں ہجوم کے تشدد سے قتل ہونے والے شخص کی شناخت رانامشتاق احمد ولد رانا بشیر احمد فاروقی کے نام سے ہوئی ہے۔ مقتول رانا مشتاق احمد تلمبہ سے چار کلومیٹر بجانب مشرق مخدوم پور روڈ پہ واقع چک بارہ اے ایچ کا رہائشی تھا۔ مقتول کے سوتیلے بھائی رانا ذوالفقار احمد نے بتایا کہ انکا بھائی فٹبال کا بہترین کھلاڑی ہوا کرتا تھا۔ 16 سال پہلے اس کا ذہنی توازن خراب ہوا جس کا کئی سال علاج ہوتا رہا اور اس علاج معالجے پر مقتول رانا مشتاق اور اس کے سگے بھائی رانا ظفر احمد کی ملکیت 12 بیگھے زمین بھی فروخت ہوئی اور ہمارا خاندان روزی روٹی کمانے کے لیے کراچی جانے پہ مجبور ہوا۔

مقتول کے علاج و ممعالجے کی ساری دستاویزات موجود ہیں۔ رانا ذوالفقار نے بتایا کہ ان کے والد نے دو شادیاں کی تھیں اور رانا مشتاق ان کی سوتیلی ماں کے بطن سے تھا۔ رانا مشتاق اور رانا ظفر دو سگے بھائی تھے جن کی دو بہنیں ہیں۔ جبکہ ہم تین بھائی اور چھے بہنیں ہیں۔ رانا مشتاق سب سے چھوٹا اور گھر کا سب سے لاڈلہ تھا جس پہ سب جان چھڑکتے تھے۔ مقتول رانا مشتاق کے بہنوئی رانا رمضان نے بتایا کہ مقتول تین دن پہلے چک 12 اے ایچ ان کے گھر آیا تھا اور دو دن رہنے کے بعد ہم سے کہا کہ وہ واپس چک جارہا ہے۔

جب ہفتے کی رات تک وہ گھر نہ پہنچا تو ہمیں تشویش ہوئی اور اتوار کی صبح آٹھ بجے ہمیں تلمبہ پولیس نے اس کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بارے میں بتایا۔ رانا ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح ایس ایچ او مخدوم پور فلک شیر کاٹھیہ علاقے کے چئیرمین کے ساتھ ان کے گھر آیا اور انہیں بتایا کہ ان کے بھائی کے ساتھ کیا واقعہ رونما ہوا ہے اور اس کی لاش ٹی ایچ کیو میاں چنوں میں ہے وہاں سے وصول کرلیں۔ امام مسجد مرکزی جامعہ غوثیہ چک 12 اے ایچ جنھوں نے مقتول کی نماز جنازہ پڑھائی کا کہنا تھا شریعت میں واضح حکم موجود ہے کہ مجنون اور بچے پہ کوئی حد لاگو نہیں ہوتی – اور اگر مقتول صحیح العقل بھی ہوتا تو اس کے مجرم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالت نے کرنا تھا ناکہ خود عام لوگ انصاف کے ٹھیکے دار بن جائیں۔ مقتول کے پڑوسی رانا محمد شبیر، رانا محمد طارق، راو¿ فرقان، راو¿ منصور کا کہنا تھا کہ مقتول رانا محمد مشتاق جب ٹھیک تھا تو اس وقت بھی وہ نہایت معصوم اور نیک طینت تھا ، جب اس کا ذہنی توازن بگڑا تب بھی اس نے کبھی متشدد رویہ نہیں اپنایا ۔ ان کا کہنا تھا پولیس کی بھاری نفری اگر وقوع کے وقت پہنچ جاتی تو مقتول کی جان بچائی جاسکتی تھی۔

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں