انسان نما روبوٹس کی تعداد 10 سال میں ایک ارب تک پہنچنے کا امکان، ایلون مسک
واشنگٹن: امریکی کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ جائے گا اور ایک دہائی کے اندر دنیا میں ایسے روبوٹس کی تعداد ایک ارب تک پہنچ سکتی ہے۔
چینی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ مستقبل میں ایک انسان بیک وقت ہزاروں روبوٹس اور ڈیجیٹل ایجنٹس کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ایلون مسک کے مطابق انسان نما روبوٹس کی تعداد 15 سال کے عرصے میں تقریباً 10 ارب جبکہ 20 سال بعد 100 ارب تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں روبوٹس روزمرہ زندگی کے متعدد کام انجام دیں گے، جن میں بچوں کی تعلیم اور دیگر گھریلو امور بھی شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے بچوں اور بزرگ والدین کی دیکھ بھال کے لیے ذاتی روبوٹس سے بھی مدد لے سکیں گے۔
ٹیسلا کے سربراہ نے مزید کہا کہ لوگوں کو موقع ملنے پر چین کا دورہ ضرور کرنا چاہیے، جبکہ وقت کم ہو تو شنگھائی اور بیجنگ جیسے بڑے شہروں کی سیر کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.